مالیاتی اداروں میں سعودی کارکنوں کی تعداد میں اضافہ

سیاحتی شعبے میں اہم ذمہ داریاں سعودیوں کے لیے مخصوص ہیں۔فوٹو اے ایف پی
محکمہ شماریات  کے سروے میں کہا گیا ہے کہ مملکت کے مالیاتی اداروں اور بیمہ کمپنیوں کے ملازمین کی تعداد 77 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ ملازمین میں سعودی کارکنوں کا تناسب 83 فیصد جبکہ باقی مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
 جاری اعداد وشمار کے مطابق راوں سال 2019 کی پہلی سہہ ماہی کے دوران سعودی کارکنوں کی تعداد میں 4 فیصد اضافہ ہوا ۔ماضی میں ان اداروں میں زیادہ تعداد غیر ملکی کارکنوں کی ہوا کرتی تھی جبکہ سعودی ملازمین کا تناسب انتہائی کم تھا۔

رواں برس سعودی کارکنو ں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا.فوٹو ۔ الاقتصادیہ  

 عربی روزنامے الاقتصادیہ نے محکمہ شماریات کے حوالے سے لکھا ہے کہ رواں برس مملکت کے مالیاتی اداروں اور بیمہ کمپنیوں میں سعودی کارکنو ں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔مذکورہ اداروں میں 63 ہزارسے زائد سعودی کارکن ہیں جبکہ غیر ملکیوں کی تعداد 13  ہزارہے۔ 
مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں میں تناسب کے اعتبار سے اس وقت غیر ملکی کارکن16 فیصد ہیں ۔ ان اداروں میں کام کرنے والی سعودی خواتین کا تناسب 6 فیصد ہے جن کی تعداد 11 ہزار کے قریب ہے جبکہ غیر ملکی خواتین کی تعداد 371 کے قریب ہے ۔ 
سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالیاتی اداروں میں مرد سعودی کارکنوں کا تناسب خواتین سے کافی زیادہ ہے جن میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دریں اثناء وزارت محنت و سماجی بہبود آبادی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "مملکت کے مختلف نجی شعبوں میں سعودائزیشن کے قانون پر ہر صورت عمل کرایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی افراد کو روزگار مہیا کیاجاسکے"۔
واضح رہے مملکت میں نجی شعبوں میں تیز ی سے سعودائزیشن( سعودی شہریوں کو روزگار فراہم کرنا ) کا عمل جاری ہے ۔ قانون کے مطابق گزشتہ برس سیاحتی شعبے میں اہم ذمہ داریاں سعودیوں کے لیے مخصوص کردی گئی تھی ۔ ان پر غیر ملکیوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
شعبہ سیاحت میں گزشتہ برس مرحلہ وار سعود ائزیشن نافذ کرنے کے قانون پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا تھا جس کا نفاذ فائیو اسٹار ہوٹلوں  سے کیا گیاتھا ۔

کام کرنے والی سعودی خواتین کا تناسب 6 فیصد ہے.فوٹو ۔ الاقتصادیہ  

گزشتہ ہفتے  سے مذکورہ شعبے میں 3 اسٹا ر ہوٹلوں میں بھی سعودائزیشن کے قانون کو نافذ کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ زمرے میں آنے والے ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنس میں کائونٹر کلرک ، اکائونٹنٹ ، بکنگ آفیسر سعودی ہونا چاہئے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: