’آندھی آئی ہے، بارش بھی ہو گی‘

کیا لڑکی ہونا آج بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا صدیوں پہلے تھا؟
میرا نام گلوشہ ہے اور میں پانچویں جماعت میں ہوں۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔ میرے ابو مجھے سکول میں پڑھنے نہیں دیتے تھے۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔
اب میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ہوں کیونکہ میرے ماں باپ کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا اور ان کے آپس میں مقدمے چل رہے ہیں ماما نے مجھے یہاں داخل کروا دیا۔
پندرہ سالہ گلوشہ اپنے ماں باپ کے جھگڑے سے متعلق زیادہ تو نہیں جانتیں لیکن کچھ ایسی باتیں ہیں جو ان کے دماغ میں نقش ہیں۔
’میرے والد میری پڑھائی کے حق میں نہیں تھے وہ کہتے تھے وہ میری پڑھائی کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے لیکن میرے دو بھائی بھی ہیں اور وہ شروع سے ہی سکول جاتے ہیں ان کے بارے میں بابا نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ ان کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔‘
’ماما نے مجھے سکول میں داخل کروایا تھا، لیکن پاپا کو پتہ چل گیا تھا تو سکول والوں نے نکال دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے لیے مسئلہ بنے۔ پھر ماما نے ادھر داخل کروا دیا اب میں تین سال سے ادھر ہی ہوں۔‘
گلوشہ کا تعلق پاکستان کے شہر فیصل آباد سے ہے لیکن اب وہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بچوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے سرکاری ادارے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

کیا لڑکیوں کی مشکلات کا تعلق محض ان کی جنس یعنی لڑکی ہونے کی وجہ سے ہے؟

 گلوشہ کی کہانی سے ایک بہت اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ان کی مشکلات کا تعلق محض ان کی جنس یعنی لڑکی ہونے کی وجہ سے ہے؟
اور کیا لڑکی ہونا آج بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا صدیوں پہلے تھا؟
پندرہ سالہ سرہا بھی چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہتی ہیں۔ اپنی کہانی سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا۔
’میں آٹھ سال سے یہاں ہوں اور اب تو لگتا ہے یہی میرا گھر ہے اور یہی سب کچھ ہے۔ میں چھوٹی تھی تو میرے والدین نے مجھے کسی کے گھر کام پر لگا دیا تھا بلکہ ہم سب بہنوں کو لگا دیا تھا میں وہاں سے بھاگ آئی۔ اور تبھی سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ہوں۔‘
آج اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’انٹرنیشنل ڈے آف دی گرل چائلڈ‘ یعنی ’لڑکی ہونے کا عالمی دن‘ منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پوری دنیا میں خواتین کو یکساں حقوق کی فراہمی کو تیز کرنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 14 برسوں میں 18 ہزار لڑکیوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے پناہ طلب کی ہے۔

پاکستان میں صرف صوبہ پنجاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے اب تک 18 ہزار کے لگ بھگ لڑکیوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے پناہ طلب کی ہے۔
رواں سال اب تک 323 لڑکیاں بیورو کی حفاظت میں لائی گئی ہیں۔
یہاں ہر لڑکی کی اپنی کہانی ہے اور ہر کہانی کی ابتدا لڑکی ہونے پر ہوتی ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن دیب سعیدہ کہتی ہیں کہ معاشرے میں کچھ تبدیلی تو آئی ہے لیکن لڑکی کی پیدائش اب بھی بہت سی جگہوں پر ناپسندیدہ تصور کی جاتی ہے۔
’اب بھی کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہو تو پہلا جملہ یہی نکلتا ہے آندھی آئی ہے بارش بھی آئے گی۔ مطلب بیٹی کے پیدا ہونے کو آندھی سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ بیٹے کو زرخیزی اور بارش سے جوڑا جاتا ہے۔‘
 دیپ سعیدہ کے مطابق پاکستان میں لڑکی کے ساتھ غیر مساوی سلوک گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔
’لڑکی تاخیر سے گھر آئے تو سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے، حالانکہ اس کا بھائی یا کوئی بھی گھر کا مرد اگر رات بھی باہر گزار کے آ جائے تو اسے نہیں پوچھا جاتا۔‘

رواں سال اب تک تین سو تئیس لڑکیاں بیورو کی حفاظت میں لائی گئی ہیں۔

’بیٹی کی پیدائش پر آج بھی لوگ کہتے اللہ خیر کرے گا۔ آج بھی خبریں آتی ہیں بیٹی پیدا ہونے پر سسرالیوں کا خاتون پر تشدد۔‘
دیپ کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے بچوں کو حقیقی تعلیم دی جانی چاہیے۔
’ہم اپنی بچیوں کو صرف اچھے رشتوں کے لیے پڑھاتے ہیں۔‘
مصنف ،ادیب اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سعید ابراہیم کا ماننا ہے ’پاکستانی معاشرے میں لڑکی کا پیدا ہونا جرم تو نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عورت ہونا جرم نہ سہی لیکن تمغہ بھی نہیں ہے۔‘
’آج بھی بیٹی پیدا ہو تو جو دعا دی جاتی ہے وہ ہے کہ اللہ نصیب اچھے کرے یہی دعا بیٹے کے لیے کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا بیٹے کو اچھے نصیب کی ضرورت نہیں؟‘
’یہ محض دعا نہیں بلکہ ہمارے ذہنوں میں رچی بسی تفریق ہے جو ہم لڑکے اور لڑکی کے درمیان روا رکھے ہوئے ہیں۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: