ایک صحافی نے کیا دیکھا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیاالدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
شام کے وقت دفتر کا ماحول بہت عجیب سا تھا اگرچہ اخباری دفاتر میں ماحول عجیب ہی ہوا کرتا ہے لیکن اس دن تو بہت ہی پرسراریت تھی جیسے کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
کبھی نیوز ایڈیٹر سید مہدی صاحب بھاگے بھاگے آ جاتے اور چیف رپورٹر مظہر اقبال سے زوردار آواز میں پوچھتے، چھوٹے بھائی کیا خبر ہے۔۔۔ اور وہ نفی میں سر ہلا دیتا۔ ایڈیٹر وحید مراد کو بھی چین نہیں تھا۔ اپنے کمرے میں ٹک نہیں رہے تھے۔ کبھی مظہر اقبال کی جانب تو کبھی مانیٹرنگ روم کی جانب بھاگتے۔
ان دنوں اخبارات میں ایک مانیٹرنگ روم بھی ہوا کرتا تھا۔ ہمارے مانیٹرنگ روم میں ایک بزرگ سجاد صاحب ہوا کرتے تھے جن کا کام ساؤنڈ پروف کمرے میں بیٹھ کر ہر وقت ٹی وی دیکھنا اور ریڈیو سننا ہوتا۔ وہ تمام بین الاقوامی ریڈیو چینلز کو سن کر رات کو خبریں دیا کرتے جو مانیٹرنگ ڈیسک کی کریڈٹ لائن سے شائع ہوتیں۔ اس وقت نجی ٹی وی چینلز نہیں تھے اور خبر کے حصول کے لیے اخبارات کے پاس ذرائع بہت کم ہوتے تھے۔ رپورٹرز پر زیادہ انحصار کیا جاتا اور سرکاری خبروں کے لیے پی ٹی وی، ریڈیو کی مانیٹرنگ اور پی آئی ڈی اور اے پی پی جیسے سرکاری ادارے تھے۔

ٹی وی چینلز پر نشریات بند کر دی گئی تھیں اور پی ٹی وی کی عمارت کے باہر مسلح فوج پوزیشن سنبھالے کھڑی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

نجی نیوز ایجنسی بھی ایک آدھ ہی تھی وہ بھی صرف خبر کی حد تک اور اہم سرکاری تصاویر کے علاوہ دیگر تصاویر کے لیے اردو اخبارات محض اپنے فوٹو گرافرز ہی کے محتاج تھے۔ میں دن بھر کی تصاویر نیوز روم میں فائل کر کے رپورٹنگ روم میں بیٹھا ٹیلی فون پر اپنی منگیتر سے محو گفتگو تھا۔ اخبار میں میری فوٹو جرنلزم کی نوکری کو چوتھا جب کہ منگنی کو پہلا سال تھا۔ صحافت اور محبت دونوں ہی میں شدت ان دنوں نقطہ عروج پر تھی۔
رپوٹنگ روم میں میرے علاوہ صرف چیف رپورٹر مظہر اقبال ہی تھے، وہ بھی ٹیلی فون پر مصروف لیکن اپنی منگیتر نہیں بلکہ خبر کی محبت میں، وہ شادی شدہ تھے۔ 
سامنے دھرے چھوٹے سے ٹی وی پر خبر چل رہی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ریٹائرڈ کر کے جنرل ضیاالدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا ہے جو اس وقت آئی ایس آئی کے ڈی جی تھے۔ مظہر زور زور سے اپنی ٹانگیں ہلا رہا تھا یہ اس بات کی علامت تھی کہ اسے کسی بڑی خبر کا انتظار ہے۔
میں خاصی دیر فون پر ہی مصروف رہا کہ منگیتر نے پوچھا کہ آپ کا ٹی وی چل رہا ہے؟ ہمارے ٹی وی پر تو نشریات چلی گئیں اور مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں نے چونک کر اپنے ٹی وی کی جانب دیکھا تو وہاں بھی مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں جیسے کسی نے انٹینے کی لیڈ نکال دی ہو۔ اچانک مظہر اقبال کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔ وحید صاحب کم پے گیا جے۔۔۔ اور فون کا رسیور کریڈل پر پٹخ کر ان کے کمرے کی جانب بھاگ گیا۔

پنجاب ہاؤس اور منسٹرز کالونی بھی فوج کے نرغے میں تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

سوزوکی کیری ڈبہ فراٹے بھر رہا تھا وحید مراد صاحب فرنٹ سیٹ پر اور میں اور مظہر اقبال عقبی سیٹوں پر بیٹھے تھے۔ کیمرہ میرے ہاتھ میں تھا اور ہم راولپنڈی کے علاقے رحمن آباد، مری روڈ دفتر سے نکلے تھے اسلام آباد کی جانب گامزن تھے۔
وحید مراد باہر دیکھتے ہوئے بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے اور مظہر اقبال ساتھ بیٹھا ہمیشہ کی طرح اپنے پاؤں زور زور سے ہلا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ خود بھی بلکہ یوں لگتا کہ شاید گاڑی بھی اسی کی وجہ سے ہل رہی تھی۔
اسلام آباد پہنچنے پر ایک لینڈ کروزر نے ہمیں اوور ٹیک کیا تو مظہر اقبال نے سر کھڑکی سے نکال کر زور سے آواز لگائی، اور لینڈ کروزر سائیڈ پر رک گئی۔ مظہر اقبال تیزی سے باہر نکل کے باہر اس کی جانب بھاگے۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے شخص سے چند سیکنڈ بات کی اور واپس گاڑی میں آ کر بولے، وحید صاحب کم پے گیا جے۔۔ آئی بی دا ڈائریکٹر سی۔۔۔۔ انڈر گراؤنڈ ہون لگے نے سارے۔۔
ابھی تصویر نہ بنانا میرے کیمرہ سیدھے کرتے ہی ایڈیٹر وحید مراد  نے منع کیا اور میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔  سامنے پی ٹی وی کی عمارت تھی اور اس کے باہر ٹرپل ون برگیڈ کا ٹرک اور گاڑیاں کھڑی تھیں جبکہ کچھ مسلح فوجی سڑک پر پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے۔ فوجی مین گیٹ پھلانگ کر اندر جا چکے تھے اور اب پی ٹی وی پر انہی کا قبضہ تھا۔ سر میں فلیش گن نہیں استعمال کروں گا یہ کہتے ہوئے میں نے لینز کا اپرچر فل کھول کر کیمرے کو سلو شٹر سپیڈ پر ایڈجسٹ کیا اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کچھ تصاویر بنا لیں۔ دریا پر پہنچ کر پیاسا واپس جانا مجھے منظور نہ تھا۔ وحید مراد نے مجھے تھپکی دی اور ہم وہاں سے روانہ ہو گئے۔

ان دنوں نجی الیکٹرانک میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے شہری اصل بات سے بے خبر تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد پنجاب ہاؤس کے باہر بھی بھاری تعداد میں ٹرپل ون برگیڈ تعینات تھی اس کے بعد ہم منسٹرز کالونی گئے وہ بھی فوج کے نرغے میں تھا۔ اسلام آباد گھومنے کے دوران ہمیں مختلف جگہوں، مارکیٹوں اور ہوٹلوں میں شہری دکھائی دیے۔ بعض تو سہمے انداز میں گفتگو کر رہے تھے جب کہ بعض خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان دنوں چونکہ صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا جس کی نشریات بند تھیں نجی الیکٹرانک میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے شہری اصل بات سے بے خبر تھے۔ البتہ فوجی نقل و حرکت اور پی ٹی وی نشریات بند دیکھ کر بعض کو اندازہ ضرور تھا کہ ملک میں کچھ نہ کچھ ہوا ضرور ہے۔
راولپنڈی واپسی کے سفر میں وحید مراد اور مظہر اقبال دونوں ہی بہت جذباتی لگ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں کی پتلیاں قدرے پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ ملک کی سب سے بڑی خبر کو آنکھوں سے دیکھ کر آئے تھے اور تاریخ کے شاہد بن گئے تھے۔ مظہر اقبال وحید مراد کو بتا رہا تھا کچھ روز قبل وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل مشرف کی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کر دیے جانے کے بعد چین کے سفارتخانے میں ہونے والی تقریب میں سوال پوچھا تھا کہ جنرل صاحب دو ٹوپیاں آپ پہن چکے تیسری ٹوپی کب پہنیں گے؟ تو جنرل مشرف معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیے بغیر آگے کو چل دیے تھے۔ وحید صاحب یہ سب پہلے سے پلان تھا۔ یہ اچانک نہیں ہوا۔ مظہر اقبال جذباتی انداز میں بول رہے تھے اور میں مسکرا رہا تھا، کہ جو ہوا اچھا ہوا۔

ملک میں بدحالی دیکھ کر یہی گمان ہوتا تھا کہ شاید آمریت ہی حل ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ملک میں غربت بے روزگاری اور لاقانونیت دیکھ کر میرا دل بھی جمہوریت سے دکھا رہتا تھا۔ چھوٹی عمر اور تجربے اور شعور کی کمی کے باعث ان دنوں میرا یہ ماننا تھا کہ ملک میں ہونے والی ہر خرابی کے ذمہ دار صرف سیاستدان ہی ہیں۔ آگہی آتے آتے آتی ہے۔ رائے عامہ کیا ہوتی ہے؟ کیسے بنائی جاتی ہے؟ کیسے تبدیل کی جاتی ہے؟ اور ان کے پیچھے کون کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، میں ان باتوں سے اتنا واقف نہیں تھا جتنا آج ہوں۔ تجربے مشاہدے اور مطالعے کے باعث آج میں جمہوریت پسند اور آزادی اظہار کا حامی ہوں اور آمریت کا بڑا ناقد۔
لیکن ان دنوں ایسا نہیں تھا۔ شہر میں منعقدہ تقریبات اور چوکوں تھڑوں پر یہی سنائی دیتا۔۔۔ یہ ملک ہی ڈنڈے کا ہے۔۔۔ ڈنڈے کے زور سے ہی چلے گا۔ سیاستدانوں سے یہ ملک چل ہی نہیں سکتا ایسی باتیں سن کر مجھ کم فہم کو بھی یہی گمان ہوتا کہ فوج ہی اس ملک کا واحد حل ہے۔

’ان دونوں ہر تقریب اور چوکوں تھڑوں پر یہی سنائی دیتا۔۔۔ یہ ملک ہی ڈنڈے کا ہے۔۔۔ ڈنڈے کے زور سے ہی چلے گا۔‘ فائل فوٹو: اے ایف پی 

 میں نیوز ایڈیٹر مہدی صاحب، وحید مراد، مظہر اقبال اور صفحہ ایک سے آٹھ کے سب ایڈیٹرز اور سبھی ٹی وی کے آگے سر جوڑے بیٹھے تھے، نیوز ایڈیٹر مہدی صاحب کے چہرے کی جھریاں مزید گہری لگ رہی تھیں۔
چہرے پر مایوسی نما تفکر تھا لیکن وہ پرجوش تھے کہ وہ پاکستانی تاریخ کی ایک اہم ترین شہ سرخی بنانے والے تھے۔ مظہر اقبال ہاتھ میں قلم تھامے زور زور سے ٹانگیں ہلا رہا تھا جس کی وجہ سے گول ٹیبل بھی ہل رہا تھا گویا زلزلہ آ گیا تھا۔ وحید مراد نے ہونٹوں پر اتنی زبان پھیری تھی کہ وہ خشک ہو گئے تھے۔ نشریات بند ہونے کے چند گھنٹے بعد بھی پی ٹی وی کی نشریات محض اتنی ہی بحال ہوئی تھیں کہ اس پر ملی نغمے چل رہے تھے۔
 مظہر اقبال کو ذرائع بتا رہے تھے کہ جنرل مشرف پی ٹی وی پر خطاب کریں گے۔ گھڑیاں جیسے ساکت تھیں مگر وقت چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا پھر اچانک ٹی وی پر جنرل مشرف کمانڈو وردی میں نمودار ہو گئے۔ انہوں نے انگریزی میں وہی لفظ دہرایا جو ان سے پہلے جنرل ایوب انگریزی میں اور جنرل ضیا اردو میں کہہ چکے تھے۔۔’ڈیئر برادرز اینڈ سِسٹرز۔۔۔‘اور جنرل مشرف کی تقریر شروع ہو گئی۔۔ میرے علاوہ سبھی نے کاغذ پر وہ تقریر لکھنی شروع کر دی ۔۔محض چند ہی منٹ کی تقریر تھی جو میں نے بھی بغور سنی۔ تقریر ختم ہوتے ہی سبھی نیوز روم کی جانب بھاگے۔ چونکہ کاپی بہت لیٹ ہو چکی تھی اور اخبار بہت زیادہ تعداد میں شائع ہونا تھا۔
سب چلے گئے تو میں نے سسرال کے گھر کا نمبر ملا دیا۔ بہت سی گھنٹیاں بجیں اور بالآخر منگیتر نے ہی فون اٹھایا۔۔۔ ہیلو۔۔۔ اس کی نیند سے بھری آواز آئی۔۔۔ ٹی وی دیکھا؟ میں نے پوچھا۔۔ نہیں۔۔۔ جواب آیا۔ مبارک ہو۔۔۔ فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور میری مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: