نئی نسل کے لیے پرانا بھاشن نہیں چلے گا

جدید تعلیم پانے کے بعد نئی نسل پرانی روایتیں ماننے پر آمادہ نہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
ہم ہیں دیہاتی لوگ، اب آپ سوچ رہے ہوں گے بہت سے لوگ دیہاتی ہوتے ہیں یہ بات آپ کو کیوں بتائی جا رہی ہے؟ چلیں آپ اِسے سسپنس سمجھ لیں جو کہ نہیں ہے۔ وہ کیا ہے نا کہ سیدھی بات کرو تو ممکن ہے قارئین کو بھلی نہ لگے لہذا گھما پِھرا کے بات کرتے ہیں۔
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، بجتی رہے کیا فرق پڑتا ہے، ہے تو تالی نا۔ سوشل میڈیا پر دوسرا ہاتھ نہیں چلتا،ایک ہی ہاتھ سے تیلی لگا دی جاتی ہے ۔ ادھر ٹائپ کیا اور ادھر ہوا اپلوڈ، اسے کہتے ہیں خود آگ لگائےاور خود ہی تماشا دیکھے۔ مگر میرے جیسے دیہاتی لوگ دونوں ہاتھوں کااستعمال کرتے ہیں۔
 ابھی کل ہی کی بات ہے میں بانوقدسیہ کا شاہکار ناول راجہ گدھ پڑھ کر ہٹا ہی تھا کہ نیا شور شروع ہو گیا۔ مسز خان کی بات چل رہی ہے، ویسے تو ہمارا اس سارے مسئلے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں مگر اڑتی پتنگ کٹ کر کسی کے بھی گلے پڑ سکتی ہے اورہم بھی ایک عدد گلا رکھتے ہیں۔
اردو میں کہتے ہیں کہاں راجا بھوج، کہاں گنگوا تیلی۔ آسان زبان میں لکھیں تو کہاں رام رام کہاں ٹَیں ٹَیں۔  فیس بک آن کرو تب بھی یہی رونا..... ٹویٹر تو ٹَیں ٹیں سے بھرا پڑا ہے ۔
کہانی شروع ہوتی ہے مسز خان سے جن کا کہنا ہے کہ میاں گھر آئے تو توا رکھیں اور گرم گرم کھانا پکا کر دیں ،مگر کھانا گرم کرنے پر تو پہلے ہی اتنا واویلہ مچ چکا ہے، تبھی تو یار لوگ معاملہ رفع دفع بلکہ دفع کرنے کے لیے کھانا باہر سے کھا کر آتے ہیں یا پھر کھانے کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔
دوسری بات جو مسز خان نے کہی کہ شوہر کی جوتی سیدھی کرو، بحیثیت مرد بات دل پر نہیں لگی، لگتی بھی کیوں شریکِ حیات جوتے سیدھے کرنے تھوڑے آئی ہے۔
ویڈیو میں موجود ایک اور خاتون کا کہنا ہے کہ خواتین ماسیاں تھوڑی ہیں جو شوہر کے گھر جا کر کام کاج میں لگ جائیں، جس پر مسز خان نے بہت ہی کڑوا مگر خوبصورت جواب دیا اُن کا کہنا تھا کہ ہماری والدہ نے سب کے لیے کھانا پکایا ہے، کام کیا ہے، ہمیں بھی کام  کرنا سکھایا ہے۔
ایک لڑکی اپنے گھر میں اپنی بہن، بھائی، ماں باپ سب کے کام کرتی ہے مگر شوہر کے گھر جا کر کیوں نہیں کر سکتی؟
جلدبازی میں زباں درازی والی بات پر تبصرہ کرنا تو میں بھول ہی گیا، مسز خان کا کہنا تھا کہ زبان درازی معاشرے میں سکون کو نیست ونابود کیے جا رہی ہے۔ بات کافی حد تک درست ہے۔
اس کی مثال کچھ یوں دی گئی کہ ٹیلی ویژن کے ڈرامے دیکھ دیکھ کرنوجوان نسل خصوصاً صنفِ نازک بگڑ گئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن خواتین کی زباں درازی کا سبب بنا۔ سب باتیں بجا مگر ایک بات جو قابلِ غور ہے کہ مسز خان اِن سب مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اونچا بھی بول رہی تھی جو کہ مناسب بات نہیں تھی۔ اب یہ شور کیسے ختم ہوگا؟ معلوم نہیں۔

ایک نسل تیار ہو چکی ہے جو کہ آپ کے پرانے نظریات کی مکمل باغی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

یہاں جو بات اس خاکسار کی سمجھ میں آئی ہے وہ عرض کرتا چلوں کہ بنیادی طور پر یہ لڑائی دو گروہوں کی نہیں دو نسلوں کی ہے۔ مسسز خان بیچاری نئی نسل کو پرانا گیان بانٹ رہی ہیں اور اُسی سختی سے کہ جس سے  ہمارے ہاں دیہاتوں میں بزرگ خواتین بانٹا کرتی ہیں۔ یہاں تضاد یہ ہے کہ نسلِ نو پرانا گیان حاصل کرنے پر رضامند نہیں ہے۔ جوں جوں معاملات میں جدت آتی جا رہی ہے گیان میں بھی جدت آنی چاہیے تھی جو کہ نہیں آئی۔ ابتدا میں جیسے عرض کی تھی کہ ہم دیہاتی لوگ ہیں، جہاں گھر بسانے کے لیے بچیوں کو ڈولی سے جنازے تک کا سفر طے کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ ہماری بیچاری خواتین ساری عمر والدین کے انہی جملوں پر عمر گزار دیتی ہیں۔
یہاں سلسلہ یہ ہے کہ ہم جدید تعلیم بِنا تربیت کے ٹھونس رہے ہیں اور یوں پہلے سے لگی آگ میں مزید آگ لگائے جا رہے ہیں۔ والدین تربیت اساتذہ کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اساتذہ کے نزدیک وہ صرف تعلیم کے پیسے لیتے ہیں۔
 یوں ایک نسل تیار ہو چکی ہے جو کہ آپ کے پرانے نظریات کی مکمل باغی ہے، ہو بھی کیوں نہ؟ جدید تعلیم سے جو آراستہ ہے۔

 

شیئر: