’کل صبح کیمرہ لے کر اخبار کے دفتر آ جانا‘

اخبار کی فوٹو گرافی سے نابلد تھا لیکن ہر تصویر بناتا رہا۔ فوٹو: اے ایف پی
گھومنے والی کرسی پر نیم دراز ظفر حجازی صاحب نے چشمہ ناک پر قدرے نیچے کر کے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے جھٹ سے درخواست ان کے سامنے میز پر رکھ دی۔ درخواست پڑھ کر انہوں نے لمبی سی ہوں کی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ کتنا پڑھے ہو؟ ’سر، میٹرک‘۔ کیمرہ ہے تمہارے پاس؟ ’جی سر‘ اور موٹر سائیکل؟ ’نہیں سر‘۔ میں نے سچ بول دیا۔ بعض اوقات سچ مہنگا پڑتا ہے اور بولنے والے کو ہی سستا کر دیتا ہے۔ اخبار میں فوٹو گرافر کی نوکری موٹر سائیکل کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے درخواست واپس میری جانب بڑھا دی اور میں خالی قدموں واپس ہو لیا۔
شفیق سنز پر ملازمت کے دوران ہفتہ وار آنے والا عطارد نامی نوجوان گاہک فوٹو گرافک میٹیرل یوں خریدتا جیسے لوٹ سیل لگی ہو۔ درجنوں بلیک اینڈ وائٹ فلمیں، پرنٹنگ پیپر، ڈویلپر اور فکسر کے کئی پیکٹ۔ مجھے حیرت ہوتی۔ ہمیں گاہکوں سے غیر ضروری بات کرنے کی اجازت نہ تھی لیکن ایک دن موقع میسر آنے پر میں نے پوچھ ہی لیا۔ بھائی اتنا زیادہ سامان خریدتے ہو، کہاں ہے تمہارا فوٹو سٹوڈیو؟ وہ مسکرا یا، یار سٹوڈیو نہیں میں مقامی اردو اخبار کا اکاونٹنٹ ہوں اور اخبار میں سامان زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
یہ وہی روزنامہ تھا جو ہاکر ہماری دکان پر دیا کرتا تھا۔ ایک دو ماہ میں ہی اخبار ایک سے چار روپے کا ہو گیا تھا۔ خواہشوں پر کسی کا زور نہیں چلتا سو میرے دل نے بھی انگڑائی لی۔ میں فوٹو گرافر ہوں، کیا اخبار میں کوئی آسامی ہے؟ اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔ ابھی تو نہیں لیکن کچھ دن تک شاید ہمارا ایک فوٹو گرافر چلا جائے گا۔ میں فون کروں گا تمہیں دکان پر۔
عطارد تو یہ کہہ کر چل دیا لیکن اس کے بعد میرے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ رات کو آنکھ لگنے پر خواب میں بھی فون کی گھنٹیاں سنائی دیتیں۔ دن بھر کام کے دوران جب بھی فون کی گھنٹی بجتی، مجھے جھٹکا سا لگتا اور زاہد فون اٹھا کر آرڈر لکھنے لگتا۔ زاہد فون پر لمبی بات کرتا تو مجھے کوفت ہونے لگتی کہ شاید عطارد درمیان میں فون کر رہا ہوگا۔ اگلے ہفتے عطارد نہ آیا بلکہ اس کی بجائے کوئی دوسرا لڑکا سامان لے کر گیا، میں دل برداشتہ ہو گیا۔
ایک دن دکان کے سٹور میں صفائی کر رہا تھا کہ زاہد کی زوردار آواز سنائی دی، وہ مجھے پکار رہا تھا۔ میں دکان کی جانب بھاگا۔ زاہد فون کا ریسیور ہاتھ میں اٹھائے غصے سے میری جانب دیکھ رہا تھا ’کال ہے تمہاری، لمبی بات نہ کرنا‘ یہ کہہ کر اس نے خیرات دینے والے انداز میں ریسیور میری جانب بڑھایا۔ شاہد اور شفیق صاحب بھی میری جانب کینہ توز نگاہوں سے تک رہے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ریسیور تھاما اور کان سے لگا کر دھیمے سے لہجے میں ہیلو کہا۔ خرم؟ دوسری جانب سے آواز آئی۔ ’جی بول رہا ہوں‘۔ عطارد بول رہا ہوں پہچانا؟ جی۔۔۔ جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑی اور رونگٹے سے کھڑے ہو گئے۔ کل صبح 11 بجے کیمرہ لے کر اخبار آ جانا۔ پشاور روڈ پر ریڈیو پاکستان سے اگلے پلازے میں دفتر ہے۔ لیٹ نہ ہونا، یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور میں چند لمحوں میں صدیاں جی گیا۔
دھیرے سے فون رکھا اور واپس سٹور میں جا کر خیالوں میں کھو گیا۔ زاہد سے اگلے دن کی چھٹی کی درخواست کی جو اس نے ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کی شرط پر مان لی۔

میں نے اس دولہے کی طرح ہاں کی جو دلہن دیکھے بنا شادی کے لیے مان جائے۔

میری پیدائش سے پہلے ہی میرے والد مرحوم مسقط سے پاکستان واپسی پر یاشیکا الیکٹرو 35 کیمرہ ہمراہ لائے تھے۔ اس کیمرے کا فوکس نہایت ہی مشکل تھا جس کی وجہ سے بہت کم استعمال ہوا اور پیٹی میں بند پڑا رہتا۔ فوٹو سٹوڈیو میں دو سال ٹریننگ کے دوران اور بعد میں بھی وہ میرے زیر استعمال رہا۔ میں نے وہی کیمرا کندھے پر لٹکایا اور پونے گیارہ بجے ہی اخبار کے دفتر عطارد کے پاس پہنچ گیا۔ عطارد نے خوش دلی سے استقبال کیا اور درخواست لکھ کر مجھے تھما دی۔ وہ سامنے چیف ایڈیٹر کا کمرہ ہے، بسم اللہ پڑھ کر چلے جاؤ آگے تمہاری قسمت۔ چیف ایڈیٹر کے کمرے سے میں پانچ منٹ بعد ہی مایوس ہو کر لوٹ آیا۔
یار، کیوں کہا کہ موٹر سائیکل نہیں ہے۔ کسی سے چند دن کے لیے مانگ لیتے۔ عطارد مجھے ڈانٹ رہا تھا اور میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔ سچ بولنے کی عادت بھی کتنی نقصان دہ ہوتی ہے، میں نے دل میں سوچا۔ اچھا، چھوڑو اللہ کی مرضی۔ عطارد نے انٹر کام پر چائے کا آرڈر دیا اور کام میں مصروف ہو گیا، میں بیٹھا اپنی قسمت کو کوستا رہا کہ دریا پر پہنچ کر بھی پیاس نہ بجھا سکا۔ ابھی چائے کے چند گھونٹ ہی لیے تھے کہ دفتر میں جیسے زلزلہ سا آگیا۔ کمرے کے باہر بھاگنے دوڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ بار بار عطارد کا دروازہ کھلتا اور کوئی سر نکال کر پوچھتا۔ ظفر اعوان کو تو نہیں دیکھا؟ عطارد نفی میں سر ہلا دیتا۔
ان دنوں ظفر اعوان اخبار کا اکلوتا فوٹو گرافر تھا۔ چند منٹ زلزلہ رہا اور پھر دروازہ زوردار آواز سے دوبارہ کھلا اور چیف ایڈیٹر ظفر حجازی غصے سے لال پیلے اندر داخل ہوئے مجھ پر نظر پڑتے ہی بولے۔ ’ابھی تم میرے پاس درخواست لے کر آئے تھے؟‘ میں سہم گیا اور ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کیمرہ ہے تمہارے پاس؟ وہ پھر گویا ہوئے۔ ’جی سر‘ میں نے جواب دیا۔ چلو آؤ میرے ساتھ، عطارد اسے فلمیں دے دو۔ اور یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئے۔ عطارد نے جلدی سے دراز کھولی اور واؤچر پر سائن کروا کر دو بلیک اینڈ وائٹ فلمیں میرے حوالے کر دیں۔ ’جلدی جاؤ، اچھی تصویریں بنانا۔ لگتا ہے اللہ نے تمہاری سن لی ہے۔‘

آج میں دولہا ہی تو تھا یہ میری نئی زندگی کا پہلا دن تھا۔ فائل فوٹو

رتہ روڈ پر اخبار کے زیر اہتمام علاقائی مسائل کے حوالے سے منعقدہ کھلی کچہری کے مجمع میں میں 100 سے زائد افراد براجمان تھے۔ اس دور میں اخبار کی پبلسٹی کے لیے ایسی کھلی کچہریاں معمول تھیں۔ سامنے سٹیج پر چیف ایڈیٹر، چیف رپورٹر، سرکولیشن منیجر اور علاقے کے چند افراد براجمان تھے۔ میں، چیف رپورٹر اور سرکولیشن منیجر تینوں ظفر حجازی صاحب کی پرانی سفید رنگ کی مرسیڈیز میں سوار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔ راستے میں ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ فوٹو گرافر ساڑھے گیارہ بجے کی اس کھلی کچہری کی اسائنمنٹ کے باوجود بروقت دفتر نہ پہنچا تھا۔
اس دور میں موبائل فون نہ ہونے کہ وجہ سے اخباری فوٹو گرافر کو عین وقت پر ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ظفر اعوان کی کوتاہی میرے لیے خوش نصیبی اور کبڑے کو لات ثابت ہوئی۔ میں اخبار کی فوٹو گرافی سے نابلد تھا لیکن ہر کھڑے ہو کر فریاد کرنے والے شہری کی تصویر بناتا رہا۔ سٹیج اور مجمع کی بھی بہت سی تصاویر بنائیں۔ ظفر حجازی صاحب کی تقریر پر تو آد ھی فلم اڑا ڈالی۔ ہم سب مرسیڈیز میں ہی دفتر واپس لوٹے۔
دفتر پہنچتے ہی چیف ایڈیٹر کے حکم پر ڈارک روم کی چابی میرے حوالے کر دی گئی۔ میں نے بتی بجھا کر تسلی سے اس کا جائزہ لیا۔ کونے کھدرے جہاں سے روشنی آ رہی تھی بند کیے۔ سرخ اور سبز سیف لائٹس جلا کر چیک کیں۔ انلارجر کا معائنہ کیا۔ فلم ڈویلپ کرنے والے کیمیکل ڈشوں میں موجود تھے لیکن میں نے وہ گرا کر نئے پیکٹ کھولے اور نیا ڈویلپر اور فکسر خوب تسلی سے بنایا اور بسم اللہ پڑھ کر فلم ڈویلپ کر کے فکس کر دی۔ لائٹ جلانے پر دیکھا کہ فلم بہت شارپ فائن گرین ڈویلپ ہوئی تھی، شکر کا کلمہ پڑھا اور اسے پانی سے دھو کر لٹکایا اور سوکھنے پر اللہ کا نام لے کر انلارجر پر فلم چڑھائی اور پرنٹنگ شروع کی۔
چالیس کے قریب تصاویر ڈویلپ کر کے پانی سے دھونے کے بعد ہیٹر پر خشک کیں، ان کے بارڈر قینچی سے کاٹے اور لفافے میں ڈال کر چیف ایڈیٹر کے کمرے میں لے گیا،جہاں سرکولیشن منیجر بھی موجود تھے۔ لفافہ کھول کر انہوں نے تصاویر دیکھنی شروع کیں۔ تصاویر دیکھتے ہی ان کے چہرے پر خوشی کا تاثر ابھرا اور میرا دل بھی بلیوں اچھلنے لگا۔ تمام تصاویر دیکھ کر انہوں نے جاوید عباسی کی جانب بڑھا دیں۔ ساتھ ہی کہا کہ لڑکا اچھا کام کرتا ہے لیکن اخبار کی پٹی بنانے کا اسے نہیں پتا، اسے سمجھا دیں اور آج کی تاریخ سے بھرتی کر لیں۔
1500 پریس منیجر مظہرالحق نے رپورٹنگ روم میں دھرے ہوئے لکڑی کے ٹیبل پر رکھے کاغذ پر تنخواہ کے چار ہندسے لکھ کر میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا اور ساتھ بیٹھے سرکولیشن منیجر بھی اثبات میں سر ہلانے لگے۔ میں نے قدرے رحم طلب نگاہوں سے مظہر الحق کو دیکھا تو انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا، اس سے زیادہ ہم نہیں دے سکتے۔ یہ کہہ کر اس نے کاغذ کو اپنی مٹھی میں لے کر مسل دیا۔ شاید یہ اس دور کے اخباری بیوروکریٹس کی کم تنخواہ پر ملازم رکھنے کی ٹیکنیک تھی لیکن مجھے یوں لگا جیسے میرے خواب مسلے جا رہے ہوں۔ میں نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا ’مجھے منظور ہے‘۔ میں نے اس دولہے کی طرح ہاں کر دی جو دلہن کو دیکھے بنا شادی کے لیے ہاں کر دے۔ آج میں دولہا ہی تو تھا یہ میری نئی زندگی کا پہلا دن تھا۔ جی ہاں آج سے میں اخبار کا فوٹو گرافر تھا، یعنی فوٹو جرنلسٹ۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: