’اچھا تو اپنی ضمانت تم خود ہو۔۔چل بھاگ‘

انسان اپنی توہین معاف تو کر دیتا ہے لیکن بھولتا نہیں۔
ادھیڑ بن کے باوجود میں نے گاڑی روک دی، شیشے سے بائیں جھانکا تو دکان کے ماتھے پر لگے بورڈ پر شفیق سپیئر پارٹس لکھا ہوا تھا، میں گاڑی سے باہر نکل کر دکان میں داخل ہو گیا۔
چھوٹے سے کاؤنٹر کے پیچھے لکڑی کے سٹول پر بیٹھا ہوا شخص چشمے کے شیشوں کے پیچھے سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ یہ شاہد تھا، شفیق صاحب کا چھوٹا بیٹا۔ چہرے پر وہی داڑھی لیکن اب گھنی سیاہ کے بجائے آدھی سے زیادہ سفید، جسامت وہی دھان پان سی مگر لباس اب قدرے میلا اور سستا دکھائی دے رہا تھا۔
میں سلام کر کے گاہکوں کے لیے رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ مجھے غور سے دیکھ رہا تھا گرمی کی وجہ سے اس کے ماتھے پر پسینہ اور چہرے پر کاروباری مسکراہٹ سجی تھی۔ میں نے ایک گہری سانس لے کر اس کی جانب دیکھا تو مجھے اپنے منہ میں چاول، دال اور شلجم کا ذائقہ محسوس ہوا۔
یہ 1995 کا سال تھا جب مجھے پہلی مرتبہ یہ ذائقے اکٹھے محسوس ہوئے تھے۔ میں نصیر اور عارف موٹا، تینوں ملازم شفیق سنز کے سٹور میں دوپہر کا وہ کھانا اکٹھے کھاتے تھے جو مالکان صبح آتے ہوئے گھر سے لاتے۔ ملازمت کے تیسرے یا چوتھے دن میں نے کھاتے ہوئے  نصیر سے پوچھا یار یہ کیسی  ہانڈی بناتے ہیں۔ کبھی کریلوں کے اندر آلو کے ٹکڑے اور ثابت مسور  کی دال، کبھی بھنڈی کا سالن اس میں دال ماش اور  چند ٹکڑے کچے پیاز اور کھیرے کے اور آج دال مونگ کے اندر مچھلی کے اکا دکا ٹکڑے کانٹوں سمیت اور چاول کے دانے  بھی؟
نصیر نے  نوالے کا بیلچا بنا کر اسے سالن سے بھرا اور منہ میں ڈال کر چباتے ہوئے بولا۔ یار تو سوال بہت کرتا ہے چپ کر کے کھا مزے کر موجاں کر موجاں اور ساتھ بیٹھا عارف موٹا ہنسنے لگا۔ پھر گویا ہوا صاحب کے گھر روز دو ہانڈیاں پکتی ہیں جو سالن ان کے بچے دوپہر اور رات کو پلیٹوں میں چھوڑ دیتے ہیں وہ پھینکنے کے بجائے ایک برتن  میں ہم تین ملازمین کے لیے اکٹھا کر لیتے اور اگلے دن  دکان پر آ جاتا ہے۔   
اس لیے یہ مکس سالن ہوتے ہیں لیکن کتنے مزے کے یار۔ اس نے چٹخارہ لیا۔ یہ سنتے ہی لقمہ میرے حلق میں پھنس گیا، جھرجھری سی آئی اور رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ توہین کے احساس نے مجھے لال پیلا کر دیا۔ یہ ہمیں جوٹھا کھانا کھلاتے ہیں اور وہ بھی بتائے بغیر؟ کھانا تو شاید ہضم ہو ہی جاتا لیکن یہ بات مجھے ہضم نہ ہوئی۔

 

بس اس دن کے بعد سے میں نے وہ مکس سالن نہ کھایا بلکہ گھر سے روز ٹفن ساتھ لے کر جایا کرتا جب کہ نصیر اور عارف موٹا میرا مذاق بنایا کرتے کہ ’نوکر کی تے نخرہ کی۔‘
شفیق سنز پر ملازمت بھی مجھے اچانک ہی مل گئی تھی۔ ان دنوں میں شاید 19 برس کا تھا، مغل فوٹو سٹوڈیو چھوڑ دیا تھا کچھ عرصہ دربدر رہنے کے بعد ایک روز صدر بازار سے گزر رہا تھا کہ  شفیق سنز کے شیشے پر ضرورت برائے ملازم کا بورڈ دیکھا تو بے دھڑک اندر داخل ہو گیا۔ ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک نے میرا استقبال کیا۔ یہ فوٹو گرافی کے سامان کی ہول سیل کی دکان تھی اور ڈش اینٹینا کی مانگ کے پیش نظر انہوں نے اس کی بھی سپلائی شروع کر رکھی تھی۔
دکان میں داخل ہوا تو دائیں کاؤنٹر کے اندر آرام دہ سیٹ پر شاہد براجمان تھا، سامنے والے کاؤنٹر پر ایک گوری رنگت والا شخص جو کہ شاہد کا بڑا بھائی زاہد تھا وہ ٹیلی فون پر مصروف  گفتگو تھا۔ جبکہ دکان کے اندر ہی دو سیڑھیاں چڑھ کر ایک بڑی کرسی پر شفیق صاحب براجمان تھے جو کہ ان دونوں کے والد تھے اور ان کے عقبی سٹور میں نصیر اور عارف موٹا کام میں مصروف  تھے۔
کیا چاہیے؟ میرے داخل ہوتے ہی شاہد نے میری عمر اور حلیے کے پیش نظر کرخت لہجے میں پوچھا۔ آپ کو ملازم کی ضرورت ہے؟ میرے جواب پر اس نے بڑے بھائی زاہد کی جانب اشارہ کر دیا۔
میں چند قدم  آگے بڑھ کر زاہد صاحب کے  سامنے کھڑا ہوگیا۔ لینڈ لائن فون رکھنے کے بعد انہوں نے میری جانب دیکھا اور  پوچھا۔ ہاں بھئی پہلے کیا کرتے رہے؟ میرے بتانے پر بولے کہ ارے بھائی یہاں فوٹو گرافی نہیں ہوتی۔ یہ ہول سیل مال کی سپلائی کی دکان ہے یہاں تمہیں صفائی، لوڈنگ اور سب چھوٹے موٹے کام کرنا پڑیں گے، کر لو گے؟
اپنی ضرورت کے پیش نظر میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ایک لمبی سی ہوں کے بعد اس نے کہا کہ رہتے کہاں ہو اور تمہاری ضمانت کون دے گا؟ سر، ٹینچ بھاٹہ اور اپنی ضمانت میں خود ہوں۔ میرے اس جواب پر وہ دم بخود رہ گیا۔ اچھا تو اپنی ضمانت تم خود ہو۔ چلو بھاگ جاؤ کوئی کام نہیں ہے۔ میں خالی قدموں سے واپس ہولیا۔
اسی اثنا میں اس نے پیچھے سے آواز دی، سنو! تم اپنی ضمانت خود ہو؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ شفیق صاحب نے کینہ توز نظروں سے میری جانب دیکھا اور شاہد تو غصے سے بڑبڑانے لگا۔ کہاں سے آ جاتے ہیں اٹھائی گیرے کہیں کے۔ مگر زاہد نے کچھ سوچ کر مجھے ملازمت پر رکھ لیا۔ میری تنخواہ 1200 روپے ماہوار مقرر کر دی اور اگلی صبح نو بجے آنے کو کہا، میں نے بھی حامی بھر لی۔

یہ اب فوٹوگرافی کے سامان کے بجائے موٹرسائیکل سپیئر پارٹس کی پرچون کی دکان تھی۔

دکان میں ملازمت کے دوران مجھے تجربہ ہوا کہ تینوں باپ بیٹوں کا ہم تینوں ملازمین کے ساتھ رویہ نہایت کراہت آمیز ہوتا۔ تینوں منرل واٹر پیتے تھے اور ان کے شیشے کے گلاس الگ پڑے ہوتے، جبکہ ہمارے لیے عارف موٹا روز مارکیٹ کے نلکے سے میلا سا پیلے رنگ کا واٹر کولر بھر لاتا اور ہمارا پلاسٹک کا گلاس بھی علیحدہ مخصوص تھا۔ شفیق سنز کا کاروبار کشمیر تک پھیلا ہوا تھا۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ ہر وقت فون کی گھنٹیاں بجتی رہتی اور زاہد اسی پر آرڈر بک کرنے میں مصروف رہتا۔
شاہد کے ذمے جو کاؤنٹر تھا اس میں کیمرے، لینز وغیرہ تھے۔ شاہد اپنے کاؤنٹر میں صفائی کے علاوہ کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانے دیتا بلکہ محض کیمروں کو غور سے دیکھنے پر بھی جھڑک دیا کرتا۔ جبکہ شفیق صاحب کا کام صرف بڑی کرسی پر بیٹھ کر نظر رکھنا تھا، وہ دن بھر ہمیں گھورتے رہتے اور ذرا سی غلطی پر اتنی بری طرح چیختے کہ ہم سہم جاتے۔ زاہد دوپہر میں گاڑی پر بچوں کو سکول سے  لینے چلا جاتا اور دوپہر کا تازہ کھانا گھر سے لاتا جسے وہ اور شاہد کھایا کرتے۔ جبکہ شفیق صاحب بزرگ ہونے کی وجہ سے دوائی کے بعد دو سیب کھایا کرتے۔ وہ دکان میں کھانا نہیں کھاتے اور سہ پہر ہوتے ہی گھر چلے جاتے۔
دکان کے ایئر کنڈیشنر کی حد شفیق صاحب کی کرسی تک تھی۔ ان کے پیچھے ٹرانسپرنٹ موم جامے کی پارٹیشن تھی اور عقبی سٹور میں ہم ملازمین ہوتے تھے۔ وہاں سخت گرمی ہوتی۔ ہمیں کام کے بغیر  سامنے کے ٹھنڈے حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔
شاہد کا کہنا تھا کہ اس سے ملازمین کی عادتیں بگڑ جاتی ہیں۔ انہی دنوں ایک نیا شائع ہونے والا ایک روپے کا اخبار ہاکر روز ہماری دکان پر مفت پھینک جاتا۔ فرصت ملنے پر اپنے مطالعے کی عادت کے پیش نظر اسے سٹور میں چھپ کر پڑھتا، شاہد کی نظر پڑ جاتی تو وہ اخبار چھین کر بری طرح لتاڑتا تھا۔ اخبار میں شائع ہونے والی تصویریں دیکھ کر میری فوٹو گرافی کی رگ پھڑک اٹھتی۔ میں اخبار کا ایک ایک لفظ پڑھتا تھا۔
اس وقت میں نہیں جانتا تھا کہ ایک دن یہی اخبار میری صحافت کا آغاز  ثابت ہو گا۔ شفیق سنز میں اڑھائی ماہ تک بمشکل ملازمت کی اور پھر چھوڑ دی۔

اچھا تو اپنی ضمانت تم خود ہو۔۔چلو بھاگ جاؤ کوئی کام نہیں ہے۔

بعد میں سینکڑوں مرتبہ یہاں سے گزر ہونے کے باوجود میں دوبارہ شفیق سنز نہ گیا، البتہ آج 24 سال بعد میں یہاں داخل ہوا۔ دکان سمٹ کر ایک چوتھائی رہ گئی تھی۔ یہ اب فوٹو گرافی میٹیرل اور ڈش اینٹینا کی ہول سیل کے بجائے موٹر سائکل سپیئر پارٹس کی پرچون کی دکان تھی، جس کا حال خاصا خراب لگ رہا تھا۔
دکان میں ملازم نام کی کوئی شے نہ تھی۔ شاہد کے قریب ہی  سٹول پر  پلاسٹک کا  میلا سا واٹر کولر رکھا ہوا تھا۔ میں دکان کا اور شاہد میرا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ سر آپ نے مجھے پہچانا؟ میرے اچانک سوال پر شاہد کے چہرے کے تاثرات بدلے اور اس کی چشمے کے پیچھے سے گھورتی آنکھیں اور چھوٹی ہو گئیں۔ ہوں، لگتا ہے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔ اس کی  کاروباری مسکراہٹ میں کمی آگئی۔
سر میں خرم بٹ ہوں، برسوں پہلے آپ کی دکان پر ملازم تھا۔ اچھا، اچھا خرم۔ یاد آ گیا۔ کیسے ہو خرم، کیسے آنا ہوا؟ اس کے لہجے میں 24 سال پرانی رعونت لوٹ آئی لیکن آواز میں کھنک کے بجائے اب لرزش تھی۔ 

 

عارف وغیرہ کے بعد میرے استفسار پر اس نے بتایا کے میرے چھوڑ  جانے کے دو تین سال بعد اس کے والد  شفیق صاحب کا انتقال ہو گیا اور پھر اس کے چند سال بعد بڑا بھائی زاہد بھی ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔ فوٹو گرافی میٹیریل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی آنے کے بعد اور  ڈش اینٹینا کا کاروبار کیبل نیٹ ورک آنے کے بعد کم ہوتا ہوتا ختم ہونے لگا، کاروبار کے ساتھ ساتھ  دکان سمٹ کر چھوٹی ہوتی گئی اور بالآخر اسے اپنا خاندانی کاروبار تبدیل کرنا پڑا اور اب وہ موٹر سائیکل سپیئر پارٹس بیچتا ہے۔ اس کے چہرے پر ہارے ہوئے جواری جیسے تاثرات تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اللہ تعالی دنوں کو انسانوں میں پھیرتا رہتا ہے۔ جہاں آج اندھیرا ہے وہاں کل روشنی ہو گی۔ انسان اپنی توہین معاف تو کر دیتا ہے لیکن بھولتا نہیں۔ میں نے بھی دل ہی دل میں اسے معاف کر دیا تھا۔
میں نے اس کی دکان سے بلاوجہ موٹر سائیکل کے چند پرزے خریدے اور جانے کی ٹھانی۔ میرے اللہ حافظ کہنے کے بعد اس نے مجھے چائے کا پوچھا لیکن میں نے گرمی کا بہانہ کر کے معذرت کر لی۔ جس وقت میں دکان سے نکل رہا تھا اس وقت شاہد قریب رکھے میلے واٹر کولر سے پانی پینے کے لیے پلاسٹک کا گلاس بھر رہا تھا۔

 

شیئر: