کرد جنگجوؤں کا ترک سرحد کے ساتھ شام کے قصبے سے انخلا

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق کرد ملیشیا نے راس العین ٹاؤن مکمل طور پر خالی کر لیا۔ فوٹو اے ایف پی
کردنوں کی زیر کمان سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) شمالی شام کے سرحدی علاقے راس العین سے مکمل طور پر نکل گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام کی خانہ جنگی کی نگرانی کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق ترکی کی جانب سے محاصرہ کیے جانے والے راس العین ٹاؤن کو کرد ملیشیا نے مکمل طور پر خالی کر دیا ہے۔
ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے ہفتے کو کہا تھا کہ کردش فورسز ترکی کی سرحد کے ساتھ 120 کلومیٹر لمبے شامی علاقے سے پیچھے ہٹ جائیں گی جونہی ان کو واپسی کا راستہ دیا جائے گا۔

ترکی نے بھی راس العین سے کرد جنگجوﺅں کے انخلا کی تصدیق کی ہے۔ فوٹو اے ایف پی

اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی شامی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ شمالی شام کے علاقے راس العین سے کرد جنگجوؤں اور عام شہریوں نے انخلا شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی نے بھی راس العین سے کرد جنگجوﺅں کے انخلا کی تصدیق کی ہے۔
ایک کرد عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ کرد جنگجوؤ ں کے راس العین سے نکلنے کے بعد شام اور ترکی کی سرحد کے ساتھ ایک وسیع علاقہ خالی ہو جائے گا۔ یہ امریکہ اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔
اس سے قبل ترک وزارت دفاع نے کہا تھا کہ شمالی شام میں جنگ بندی کے باوجود کرد جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

 

وزارت دفاع کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شامی کرد جنگجوؤں نے 20 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 39 گاڑیوں پر مشتمل امدادی قافلے کو راس العین میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ متاثرہ علاقے سے زخمیوں اور دیگر افراد کو نکال لیا گیا۔
دریں اثناء امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ’حالیہ منصوبے کے تحت شام سے نکلنے والی امریکی فوج مغربی عراق جائے گی۔ امریکی فوج داعش کے خلاف آپریشن جاری رکھے گی تاکہ انہیں دوبارہ کارروائیاں کرنے سے باز رکھا جا سکے۔‘

 ایسپر کے مطابق شام سے امریکی فوجی عراق منتقل کرنے کے حوالے سے عراقی وزیر دفاع سے بات ہو چکی ہے۔ فوٹو اے ایف پی

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی وزیر دفاع جو کابل پہنچے ہیں نے اس خیال کو مسترد نہیں کیا کہ امریکی فوج شام اور عراق میں داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی کے آپریشن نہیں کرے گی۔
 اپنے ہمراہ سفر کرنے والے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا ’وقت کے ساتھ اس حوالے سے تفصیلات سامنے آتی رہیں گی۔‘
 ایسپر کے مطابق شام سے ایک ہزار امریکی فوجی مغربی عراق منتقل کرنے کے حوالے سے عراقی وزیر دفاع سے بات ہو چکی ہے۔

شیئر: