انڈین صحافی کی اس تصویر پر ہنگامہ کیوں؟

مسلمانوں کے خلاف ٹرینڈ پر سوشل میڈیا صارفین نے ملے جُلے ردعمل کا اظہار کیا ہے، فوٹو: ٹوئٹر
انڈیا میں ان دنوں ہر سطح پر مسلمانوں کی مخالفت نظر آ رہی ہے چاہے وہ حقیقی زندگی ہو یا سوشل میڈیا۔
زمینی سطح پر جہاں ہجوم کے ہاتھوں قتل کی خبریں آتی رہتی ہیں اور مسلمانوں کو مارنے پیٹنے کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں وہیں چند روز سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے مکمل بائیکاٹ کی باضابطہ تحریک بھی جاری ہے۔
چنانچہ گذشتہ تین روز سے انڈیا میں مسلم کا سمپورن بہشکار کے نام سے ہیش ٹيگ ٹرینڈ کرتا رہا اور اس پر بے لگام نفرت انگیز باتیں ہوتی رہیں۔
صحافی رعنا صفوی نے لکھا: 'شاندار ٹوئٹر انڈیا میں 'مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ' ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اسے محض ٹرینڈ نہ سمجھیں بلکہ یہی جذبات ہماری میڈیا اور سیاست کی جانب سے ابھارے جا رہے ہیں۔'
یہاں تک کہ ایک ٹوئٹر صارف ابھیجیت مجمدار نے لکھا کہ وہ مسلمانوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں لیکن 'مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ' ٹرینڈ شرمناک ہے۔ یہ ہماری تہذیب کے خلاف اور ملک کو انتہائی نقصان پہنچانے والا ہے۔'
لیکن تازہ ٹرولنگ کا واقعہ ایک مسلم صحافی عارفہ خانم شیروانی کا ہے۔ انھوں نے بنارس کے معروف گھاٹ ’اسی گھاٹ‘ پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جو کہ بحث کا موضوع بن گئی۔
اس  تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا: (مہاتما) بدھ، کبیر اور تلسی کا شہر بنارس، بے ترتیبی کا شکار ناقابل برداشت ہے تاہم مسحور کن ہے۔ آج دوپہر اسی گھاٹ پر۔'
ان کی یہ ٹویٹ 19 اکتوبر کی ہے اور اس پر ابھی تک کمنٹس آ رہے ہیں یہاں تک کہ آج صبح یہ انڈیا کے ٹرینڈز میں شامل تھی۔
ایک صارف نے لکھا 'اب گئی ہیں تو گنگا میں نہا بھی لیجیے۔' خیال رہے کہ ہندو عقیدے کے مطابق گنگا میں نہانے سے آپ کے پاپ دھل جاتے ہیں۔

اس پر ایک صارف نے لکھا 'یہاں بھی تمہارے پاپ نہیں دھلیں گے، تمہارے لیے حلالہ ہی بہتر ہے۔'

بہت سے لوگوں نے عارفہ خانم کی تصویر کی تعریف کی ہے تو بہت سے لوگوں نے مزید مشورے دیے۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ کوئی بھی چیز انڈیا میں اتنی جلدی کس طرح فرقہ وارانہ رنگ لے لیتی ہے۔ کسی نے کہا کہ شکر ہے کہ آپ نے تلسی کا نام تو لیا تو کسی نے کہا کہ یہ شو (ہندو بھگوان) کی نگری ہے لیکن یہ کہنے میں آپ کا دم نکل گیا۔
گذشتہ دنوں لکھنؤ میں ایک سخت گیر ہندو رہنما کملیش تیواری کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز بیانات سامنے آئے۔
یاد رہے کہ ان کے قتل کو ایک پرانے قضیے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے جس میں قریباً پانچ سال قبل کسی نے ان کی جانب سے مبینہ توہین رسالت پر ان کے سر کی قیمت کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں اترپردیش اور گجرات سے کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے قاتل ابھی تک مفرور ہیں جبکہ مقتول کے گھر والے بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کے ساتھ رنجش کو قتل کی وجہ سمجھتے ہیں اور میڈیا میں اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں