اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے

کشمیر میں زیر حراست ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے زائد رپورٹ کی گئی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے حکمران، سیاست دان اور انتہا پسند ہندو ہمیشہ سے ہی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھتے رہے ہیں۔ انڈیا کبھی بھی اکھنڈ نہیں رہا ہر دور میں یہ ذات پات اور مذہب کے نام پر تقسیم رہا۔ تاہم انتہا پسند ہندووں کے یہ کوشش رہی کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو زور زبردستی کے ساتھ زیر تسلط لے آئیں۔
 1947میں جب انڈیا کے عوام نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تو پاکستان اور انڈیا وجود میں آئے۔ مسلم لیگ کے رہنما اس بات کو بھانپ چکے تھے کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندوؤں کے ساتھ بطور اقلیت رہنا بہت مشکل ہو جائے گا، اس لیے الگ وطن بہت ضروری ہے۔ تاہم تقسیم میں ہونے والی بے ایمانی نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا۔
جن مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا انہیں بھی انڈیا کو سونپ دیا گیا جس سے نہ ختم ہونے والے تنازعات نے جنم لیا۔ آج بھی انڈیا میں ان فسادات کا سلسلہ جاری ہے جو 1947 سے  مذہب، رنگ و نسل کے نام پر شروع ہوئے تھے۔

 

بظاہر یوں لگتا ہے کہ انڈیا میں کوئی بھی اقلیت اور نچلے درجے کے ہندو، انتہا پسندوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں۔ آر ایس ایس، بھارتی جنتا پارٹی، بجرنگ دل، شیو سینا اور وشوا ہندو پریشد نے خاص طور پر مسلمانوں، مسیحوں اور سکھوں کو ٹارگٹ کیا۔
انڈیا کی موجودہ سیاسی قیادت میں زیادہ تر سیاست دان آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگ سے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ انتہا پسند تنظیم ہے جس کا مقصد اقلیت دشمنی اور انڈیا سے ہندو مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کا خاتمہ ہے۔ مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والا نتھورام گوڈسے بھی آر ایس ایس کے کارکن تھے۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی آر ایس ایس کا تربیت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔
1947 کے بعد انڈین جنونیوں نے پاکستان اور انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں، مسیحوں، دلتوں اور سکھوں کے خلاف ایک بار پھر سازشوں کا آغاز کیا۔
جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند تھے لیکن انڈیا نے اپنی فوجیں وہاں بھیج کر کشمیر پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ جب پاکستانی فوج اور قبائلی کشمیر کی حمایت میں سامنے آئے اور کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیا تو انڈین حکومت دہائی دیتی ہوئی اقوام متحدہ پہنچ گئی۔ جنگ بندی ہوئی، وہ دن اور آج کا دن جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر انڈیا قابض ہے اور کشمیر کےعوام پر ظلم کر رہا ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار جنگیں بھی ہو چکی ہیں ۔
پاکستان کے خلاف سازشوں کے ساتھ ہندو انتہا پسند اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی برسرپیکار رہے۔ انڈیا میں اقلیتوں کو الزام لگا کر مارنا، اچھے روزگار، تعلیم اور سہولتوں سے محروم کرنا عام ہے۔

انڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں اقلیتوں پر تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

 1969میں گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں 650 سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی املاک جلائی گئیں اور انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ بات صرف اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ زیادتی تک نہیں رکی بلکہ بنگال کے مسلمانوں کو پاکستان سے منحرف کرنے کے لیے انڈیا نے کلکتہ میں مکتی باہنی کی بنیاد رکھی اور معصوم بنگالیوں پر وہ مظالم ڈھائے جن کو بیان کرنا مشکل ہے پاکستان دو لخت ہوگیا۔ 71 میں پروپیگنڈا مشنری کا استعمال کیا گیا اور مکتی باہنی کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔
اس انڈین سازش کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں موجود مسلمان مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کا قتل عام ہوا۔ انڈیا کے سابق لیفٹینٹ جنرل جے ایف آر جیکب نے کہا کہ بڑے آپریشن انڈین کرتے تھے پھر وہ اس کو مکتی باہنی کی فتح کہتے تھے۔ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اعتراف کیا کہ انڈیا نے یہ جنگ مشرقی پاکستان میں خود لڑی۔
انڈیا کی ہندو مذہبی انتہا پسند قیادت اپنے ملک میں اقلیتوں کا خون بھی بہاتی رہی۔1980 میں مراد آباد انڈیا میں دنگے ہوئے جن میں 400 افراد اپنی جان سے گئے اور املاک کو لوٹ لیا گیا۔ بات کی جائے سکھوں کی تو ان کے ساتھ ناروا سلوک 1947 سے جاری ہے۔ ان کی فوج میں تنزلی کر دی گئی اور  بڑے عہدوں سے ہٹانا شروع کر دیا گیا۔ سکھوں نے 1970 میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا شروع کی تو انڈین حکومت نے 40 ہزار سے زائد سکھوں کو گرفتار کر لیا۔
جون 1984 میں انڈین حکومت نے سکھوں کے مقدس دربار گولڈن ٹیپمل پر حملہ کر دیا۔ آپریشن بلیو سٹار میں ہزاروں سکھوں کا قتل عام ہوا۔ اس قتل عام کے بعد اس آپریشن کی ماسٹر مائنڈ اندرا گاندھی کو اکتوبر 1984 میں انہی کے دو سکھ محافظوں نے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد فسادات کا سلسلہ مزید پھیلا، نتیجتاً 50 ہزار سے زائد سکھ بے گھر ہوئے۔
آپریشن بلیو سٹار کے بعد سکھ بہت بد دل ہوئے، کچھ انڈیا چھوڑ گئے اور کچھ نے خالصتان تحریک میں شمولیت اختیار کرلی جو اب بھی انڈین حکومت اور فوج کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔
1989میں بھاغلپور ریاست بہار میں فسادات کے نتیجے میں 900 مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور 50 ہزار بے دخل ہو گئے۔ 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے تاریخی بابری مسجد کو مسمار کر دیا جس پر دنیا بھر کے مسلمان اشک بار تھے۔ یہ ہنگامے کلکتہ، دہلی، احمد آباد اور گجرات تک پھیلے اور مسلمانوں کا قتل عام ہوا دو ہزار مسلمان مارے گئے۔

انڈین حکمراں جماعت کو اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں پر مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

 92-93 بمبئی میں ہونے والے فسادات بابری مسجد کی مسماری کے بعد شروع ہوئے۔ ان کی ذمہ دار شیوسینا تھی اس میں 900 سے زائد اموات ہوئیں جن میں 575 مسلمان شامل تھے۔
1998میں بھارت میں رہنے والے مسیحیوں پر وہ پہاڑ توڑے گئے جن کی مثال نہیں ملتی۔ گرجے جلائے گئے، بائبل کے نسخے نظر آتش ہوئے اور مشنری عملے کو قتل کیا گیا۔ جنوری 99 میں ہندو انتہا پسندوں نے پادریوں کو ویگن میں باندھ کر جلا دیا۔ گجرات، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور اڑیسہ میں وہ قتل و غارت ہوئی کہ مسیحیوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا۔
1964 سے 1996 تک مسیحیوں کے خلاف 38 حملے رپورٹ ہوئے لیکن 1998 کے بعد ان پر ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوگیا۔ 97 میں گجرات میں 22 چرچ جلا دیے گئے۔ صرف 98 میں ہی مسیحیوں پر 90 بار حملے ہوئے۔ 2008 میں بھی کرناٹک میں بیس چرچ تباہ کیے گئے۔

ایسے ان گنت حملے شاید رپورٹ بھی نہیں ہوئے جن کے پیچھے مذہبی منافرت کارفرما ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

 گجرات میں وہ قتل عام ہوا کہ میڈیا نے مودی کو گجرات کا قصائی لکھنا اور بولنا شروع کر دیا۔ 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات کا آغاز ہوا جس میں 790 مسلمانوں کو مار دیا گیا۔ مودی کے متعلق کہا گیا کہ انہوں نے ہندووں کی سرپرستی خود کی، وہ اس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے۔ 2012 میں ایس آئی ٹی نے مودی کو الزامات سے بری کر دیا۔
2013میں مظفر نگر میں 42 مسلمانوں کو مار دیا گیا، خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ 2014 میں آسام میں بنگالی مسلمانوں پر حملے ہوئے 32 افراد قتل ہو گئے۔ 2014 میں مدھیہ پردیش میں چرچ اور بائبل کے نسخے تباہ کیے گئے۔ 2016 میں اتر پردیش میں 16 بار مسیحیوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں کے پیچھے راشٹریا سیوک، سنگ پریوار، ویشوا ہندو پریشد کا ہاتھ تھا۔ 2018 میں نو دلت ہندوؤں کو اپنے حقوق مانگنے پر پولیس نے مار ڈالا۔ ایسے ان گنت حملے شاید رپورٹ بھی نہیں ہوئے جن کے پیچھے مذہبی منافرت کار فرما ہے۔
اگست2019 میں انڈین حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کر دی۔ اس کے بعد سے وادی میں کرفیو نافذ ہے اور خبریں ہیں کہ کشمیریوں کو بنا وارنٹ گرفتار کرکے فوج کے عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر معذور کیا جارہا ہے۔

انڈیا کبھی بھی اکھنڈ نہیں رہا ہر دور میں یہ ذات پات مذہب کے نام پر تقسیم رہا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

کشمیر میں زیر حراست ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے زائد رپورٹ کی گئی ہے۔ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور عوام پر پیلیٹ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ 80 ہزار سے زائد بچے کشمیر میں یتیم ہوئے ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے وادی میں کرفیو نافذ ہے اور کھانے پینے کی اشیااور ادویات کی قلت ہے جبکہ فون اور انٹرنیٹ بھی بند ہے۔
حال ہی میں ہوئی ایک پیشرفت کے تحت آسام میں موجود 19 لاکھ افراد سے شہریت چھینی جا رہی ہے یہاں پر 34 فیصد آبادی مسلمان ہے جو بہت غریب اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد انڈیا میں موجود اقلیتوں پر تشدد، دھمکانا، ان کو ہراساں کرنا اور ہجوم کے تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو مودی سرکار کی حمایت حاصل ہے۔
گائے کو جواز بناکر دلت اور مسلمانوں کو زدوکوب کیا جاتا ہے، بعض اوقات انہیں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ہجوم اکھٹا ہوکر اقلیتی افراد کو مارتا ہے اور ان کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں میں اضافہ ہوا۔ مذہبی عدم رواداری، منافرت اور انتہا پسندی کے بعد انڈیا کے بارے میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت انڈیا میں اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: