Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مرحوم دوستوں کی یاد میں‘ نوجوان کا پرانی ٹویوٹا یارس پر برطانیہ سے بوسنیا تک سفر

حارث کے مطابق اس سفر کی وجہ ان کی مرحوم دوستوں کے ساتھ شرط ہے (فوٹو: انسٹاگرام)
انسٹاگرام پر ’حارث سٹوری‘ کے نام سے موجود اکاؤنٹ کی ویڈیوز اور پوسٹس سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
ان ویڈیوز کی مقبولیت کی بنیادی وجہ وہ منفرد اور دلچسپ سفر ہے جو حارث برطانیہ سے بوسنیا تک اپنی 20 سال پرانی ٹویوٹا یارس میں طے کر رہے ہیں۔
حارث اس طویل سفر کے دوران اپنی گاڑی کو ہی عارضی کیمپ میں تبدیل کر کے اس میں رہائش اختیار کر رہے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کے پہلے شخص ہیں جو 20 سال پرانی یارس گاڑی میں برطانیہ سے بوسنیا جیسے طویل اور مشکل سفر پر نکلے ہیں۔ ’گوگل میپس‘ کے مطابق برطانیہ سے بوسنیا کا زمینی سفر تقریباً دو ہزار 603 کلو میٹر پر مشتمل ہے۔
حارث نے انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ اس سفر کے پیچھے ایک جذباتی وجہ بھی ہے۔ ان کے مطابق ان کے دو مرحوم دوستوں نے زندگی میں ان سے یہ شرط لگائی تھی کہ وہ اپنی یارس گاڑی میں بوسنیا تک کا سفر کریں۔
حارث کے مطابق ’ایڈم نے مجھے 20 پاؤنڈ دیے تھے اور شرط لگائی تھی کہ میں اپنی پرانی یارس میں بوسنیا تک کا سفر کروں، اور آج میں وہ وعدہ پورا کر رہا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ سفر اس لیے بھی کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو دکھا سکیں کہ ایک پرانی اور زنگ آلود گاڑی میں بھی طویل سفر کرنا کتنا آسان ہو سکتا ہے۔
حارث کے مطابق وہ اس سفر کے دوران راستے میں آنے والی تاریخی جگہوں، مختلف ثقافتوں اور لوگوں کو بھی دریافت کریں گے۔
ایک اور پوسٹ میں حارث نے اپنے سفر کا آغاز ان الفاظ میں بیان کیا ’بسم اللہ، میں برطانیہ سے بوسنیا کی جانب 20 سال پرانی یارس میں سفر کا آغاز کر رہا ہوں۔‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Haris (@harristory_)

انہوں نے لکھا کہ یارس کے ساتھ پیرس میں ان کا سفر بھی خاصا دلچسپ رہا اور وہ کافی عرصے سے یورپ کے راستے بلقان ممالک تک روڈ ٹرپ کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ حارث کے مطابق یہ سفر چند ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینوں پر محیط ہو سکتا ہے کیونکہ وہ یورپ کو آہستہ آہستہ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔
حارث کا کہنا ہے کہ وہ یہ سفر ایک مسلمان کے نقطۂ نظر سے بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ سفر کے دوران ایک مسلمان کس طرح کھاتا ہے، سوتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے۔ وہ راستے میں موجود مساجد اور مسلم کمیونٹیز کا دورہ بھی کریں گے، ساتھ ہی قدرتی مناظر اور مختلف ’سائیڈ کوئسٹس‘ سے بھی لطف اندوز ہوں گے۔
ایک دوسری پوسٹ میں حارث نے بتایا کہ وہ اپنی 20 سال پرانی، سستی اور چھوٹی ٹویوٹا یارس کو برطانیہ سے بوسنیا اور اس سے آگے لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Haris (@harristory_)

انہوں نے گاڑی کو ایک چھوٹے سے کیمپر میں تبدیل کیا ہے، جو شاید دنیا کے سب سے چھوٹے کیمپرز میں سے ایک ہو۔
حارث کے مطابق اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کسی بھی عام گاڑی میں اٹھ کر سفر پر نکلنا کتنا آسان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی یارس جرمنی کے الپس پہاڑوں جیسے انتہائی سرد علاقوں سے بھی کامیابی سے گزر چکی ہے جو اب تک کے سفر کے سرد ترین حصے تھے۔
حارث نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ یارس بوسنیا تک پہنچ پائے گی یا نہیں، تاہم وہ پُرامید ہیں۔
حارث کے اس منفرد اور حوصلہ افزا سفر کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے جبکہ صارفین ان کے عزم، سادگی اور مہم جوئی کو خوب سراہ رہے ہیں۔

شیئر: