Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشتری مقابلے پر: سیارے کا وہ خاص منظر جو پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا

مقابلہ اس حالت کو کہتے ہیں جب زمین کسی دوسرے سیارے اور سورج کے درمیان آجاتی ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے 10 جنوری یعنی آج کا روز ایک نہایت خاص دن ہے کیونکہ اس روز سیارہ مشتری (جوپیٹر) اپنے مقابلے (اپوزیشن) کے مقام پر پہنچ جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ پورے سال میں مشتری کو دیکھنے کا بہترین وقت ہوتا ہے کیونکہ اس موقع پر یہ زمین کے سب سے قریب اور غیر معمولی طور پر روشن دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقابلے کے دن مشتری سورج غروب ہوتے ہی مشرقی افق سے طلوع ہوگا اور پوری رات آسمان پر نمایاں رہے گا۔ آدھی رات کے وقت یہ آسمان میں اپنے سب سے بلند مقام پر ہوگا، جس سے اس کا نظارہ مزید واضح اور دلکش ہو جائے گا۔ صاف موسم میں شہری علاقوں کے علاوہ دیہی مقامات سے بھی مشتری کو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔
مشتری کو دیکھنے کے لیے کسی خاص آلے کی ضرورت نہیں۔ عام آنکھ سے یہ ایک چمکدار سفید ستارے کی طرح دکھائی دے گا، جو دیگر ستاروں کے مقابلے میں زیادہ روشن ہوگا۔ تاہم اگر آپ کے پاس سادہ دوربین یا چھوٹی ٹیلی سکوپ موجود ہو تو یہ تجربہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔
ان آلات کی مدد سے مشتری کے چار بڑے چاند (آئیو، یوروپا، گینی میڈ اور کیلیسٹو) بھی صاف نظر آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشتری کی سطح پر موجود ہلکی اور گہری پٹیاں بھی دکھائی دے سکتی ہیں۔
فلکیات میں مقابلہ اس وقت کو کہا جاتا ہے جب زمین، سورج اور کسی سیارے کے درمیان آ جاتی ہے۔ اس حالت میں وہ سیارہ سورج کے بالکل سامنے ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی روشنی اور جسامت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
پاکستان میں 10 جنوری کو مشتری برجِ جوزا (جمنائی) میں موجود ہوگا اور شام تقریباً چھ بج کر 34 منٹ سے صبح 6 بج کر 45 منٹ تک دیکھا جا سکے گا۔ ماہرینِ فلکیات عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آسمان صاف ہو تو اس نایاب اور خوبصورت فلکی منظر سے ضرور لطف اندوز ہوں، کیونکہ ایسا موقع دوبارہ اگلے سال ہی ملے گا۔

شیئر: