حادثے میں موت، ذمہ دار کی سزا کیا؟

چار برس تک قید اور دو لاکھ تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔تصویر سو شل میڈیا
پبلک پراسیکیوشن نے اعلان کیا ہے کہ اگر ٹریفک حادثے کے نتیجے میں کسی کی موت واقع ہو جائے یا کوئی عضو ناکارہ ہو جائے، جسم کا کوئی حصہ ختم ہوجائے یا جسم کے کسی حصے سے استفادہ محال ہوجائے تو حادثے کے ذمہ دار کو چار برس تک قید اور دو لاکھ تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
اخبار 24 کے مطابق  دونوں میں سے کسی ایک پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے بتایا کہ کسی بھی جرم یا خلاف ورزی پر دو طرح کی سزائیں ہوتی ہیں۔ ایک کا تعلق نجی حق سے ہوتا ہے دوسری سزا کا تعلق سرکاری نظام ( سلطانی حق )سے ہوتا ہے۔ چار بر س قیدا ور جرمانے کی سزا کا تعلق سلطانی حق سے ہے نہ کہ نجی حق سے۔
واضح رہے کہ حادثے میں موت کی صورت میں دیت نجی حق کے تحت دی جاتی ہے۔
تواصل ویب کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے ٹوئٹر کے اکاونٹ پر کہا کہ عام طور پر موت یا جانی نقصان کا باعث بننے والے ٹریفک حادثات نشے کے عالم میں ڈرائیونگ کے دوران پیش آتے ہیں۔

حادثے میں موت کی صورت میں دیت نجی حق کے تحت دی جاتی ہے۔تصویر سو شل میڈیا

اس قسم کے واقعات تسکین بخش دوا کے استعمال کے بعد ڈرائیونگ کرنے پر بھی ہو جاتے ہیں۔ ٹائر سکریچنگ یا گاڑی مخالف سمت میں دوڑانے یا ٹریفک سگنل توڑنے پر بھی موت یا دیگر جانی نقصان کا باعث بننے والے حادثات ہوتے ہیں۔
پبلک پراسیکیوشن کے مطابق ان حالات میں موت یا جانی نقصان ہونے پر ذمہ دار کو چار بر س قید اور دو لاکھ ریال جرمانہ یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا دی جائے گی۔ جہاں تک نجی حق کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ ٹریفک قانون کی دفعہ1 62/ کے تحت ہوگا۔
  •  تازہ ترین خبروں کے لیے واٹس گروپ جوائن کریں
     

شیئر: