سیاست اور دو ٹکے کی نوکری!

جانے وہ کون سا دماغ ہوتا ہے جسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس صرف وزارت کا ڈمی قلمدان اور جھنڈے والی گاڑی ہے، فیصلوں کا اختیار کسی اور کے پاس ہے
بات یہ ہے کہ ہم سب کی یہ قومی عادت ہے کہ جو بات کسی بھی وقت کرنے کی نہیں ہوتی وہ ہم دھڑلے سے موقع محل سے بے نیاز  بنا اِدھر ادھر دیکھے کر دیتے ہیں  مگر جو کرنے کی بات ہے اسے نہ کرنے کے لیے ’مناسب وقت‘  کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، اشاروں کنایوں سے کام چلاتے ہیں۔ لال رومال کی جھلک تماشائیوں کو تو دکھاتے ہیں مگر کچھ اس طرح کہ کہیں کوئی بیل نہ دیکھ لے۔ بیل کو سینگ سے پکڑنا بھی چاہتے ہیں مگر ڈرتے بھی ہیں اور اپنی بے اختیاری کی فرسٹریشن بند کمروں میں آف دی ریکارڈ  کہہ کے نکالتے ہیں۔
عاشق کی تو مجبوری ہے کہ محبوب کے روبرو اس کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور وہ بنا کہے، یا آدھی بات  بتا  کے یا گول مول استعاراتی مدعے کا سہارا لے کے یا  کام کی بات  کل پے ٹال کے چلا آتا ہے۔ مگر خود کو صفِ اول کا سیاستداں کہلانے والے کو شوبھا نہیں دیتا  کہ مسلسل حمائیت علی شاعر بنا رہے۔
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے تیرے دل میں اتر جائے

سیاستداں کو  کسی قلعے میں نہیں بلکہ شہری زندگی کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

کھل کے بات نہ کرنے کی تین بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یا آپ کو معلوم ہے کہ جن کے بارے میں آپ دل کا غبار زبان پر لانا چاہ رہے ہیں ان کے پاس جوابی کاروائی کے لیے آپ کے بارے میں خاصا ٹھوس مواد اور ایمونیشن موجود ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کی ہچکچاہٹ کا سبب یہ ہو کہ آپ کے پاس سازش کا پردہ چاک کرنے کے لیے دستاویزی کم اور زبانی ثبوت زیادہ ہوں مگر آپ کو اعتماد نہ ہو کہ جن پتوں کی گواہی پر آپ تکیہ کیے بیٹھے ہیں کہیں وہی عین وقت پر ہوا نہ دینے لگیں۔ عین ممکن ہے آپ راز مناسب وقت پر فاش کرنے کی محض ڈگڈگی بجا رہے ہوں یعنی بلف کر رہے ہوں، یا آپ کو کوئی ایسی نازک بات معلوم ہے جو زبان پر آئی تو اس سے آپ پڑیں نہ پڑیں دیگر بہت سے دوست و بہی خواہ مصیبت میں پڑ سکتے ہیں۔
مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ  کھل کے بات کرنے سے یہ فائدہ ہو کہ پھر ہر ایک کو یہ کہنے کی جرات مل جائے کہ ’بادشاہ تو واقعی ننگا ہے‘ اور جو منڈیر پر بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں وہ بھی آپ کے ہمراہ چل پڑیں۔
البتہ یہ سب کہنا جتنا آسان اتنا ہی مشکل ہے۔ اس کے لیے کشتیاں جلانے کا آخری فیصلہ کرنا پڑتا ہے، مصلحت کے تمام کمبل دریا برد کرنے پڑتے ہیں، نفع نقصان  کی جمع تفریق بھلانا پڑتی ہے، غلط یا صحیح پر ڈٹ جانا پڑتا ہے اور پھر اپنا فیصلہ تاریخ پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسا جوا کھیلنے کے لیے محض دیوانے کا حلیہ نہیں منصور و سرمد مارکہ اصلی والی دیوانگی بھی درکار ہے۔

جب یقین ہو کہ کوئی عدالت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تو مشرف چھوڑ مشتاق پلمبر بھی کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

میں یہ دلیل خریدنے کو تیار نہیں کہ چونکہ میرا خمیر ہی اسٹیبلشمنٹ سے اٹھا ہے لہذا میں دبکے و بڑک بازی سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ انسان کی کایا کلپ ہو سکتی ہے۔ اگر نظام الدین ڈاکو ولی بن سکتا ہے، بھٹو جیسا فیوڈل تاریخ کے سامنے سر اونچا رکھنے کی قیمت کے طور پر انقلابی انداز میں موت کو گلے لگا سکتا ہے، نواز شریف جیسا اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ایک بار کے ملک چھوڑ تجربے سے سیاسی طور پر ڈسے جانے کے بعد واپس آ  کر جیل میں رہنا پسند کر سکتا ہے تو آپ  کی کایا کلپ کیوں نہیں ہو سکتی؟ تو پھر یہ رہا میدان اور یہ پڑا گز۔
کمانڈو مشرف  نے کچھ عرصے پہلے اپنے ایک دھڑم دھکیل انٹرویو میں آمریت کو مسائل کا حل اور جمہوریت کو مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جب آئین اور ریاست میں انتخاب کا وقت آئے تو آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ مشرف صاحب کا مسئلہ نہ سیاست ہے نہ پارٹی اور نہ ہی جدوجہد۔ لہذا یہ سب کہنا افورڈ کر سکتے ہیں۔ اپنی گلی میں تو بلی بھی شیر ہوتی ہے۔ جب یقین ہو کہ کوئی عدالت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تو مشرف چھوڑ مشتاق پلمبر بھی کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔
مگر سیاستداں کو ایسی مشرفانہ لگژری میسر نہیں۔ سیاست کا کنواں کوئی اردلی نہیں کھودتا بلکہ خود کھودنا پڑتا ہے۔ سیاستداں کو  کسی قلعے میں نہیں بلکہ شہری زندگی کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ اسے ڈنڈے سے نہیں گفتگو سے لوگوں کو رام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی عیب ہے تو بس یہ کہ اتنی محنت و تگ و دو کے باوجود سیاستداں اب تک اپنا منصب نہیں پہچانتا (پہچان لے تو مدبر نہ کہلانے لگے)۔
سیاست کے شعبے میں صرف پاکستان ہی نہیں باقی دنیا میں بھی اے گریڈ لوگ مشکل سے ہی نظر آتے ہیں۔ جنہیں سیاست میں ہونا چاہیے انہیں یا تو خاص دلچسپی نہیں یا پھر ان کے پاس سیڑھی نہیں۔ اور جن کے پاس سیڑھی ہے ان میں سے اکثر اس چوکیدار کے زہنی لیول پر ہیں جس کے پاس الہ دین کا چراغ آ گیا تو اس نے جن بابا سے چار فرمائشیں کیں، بینک میں ایک ارب روپیہ ہو، ایک بڑی سی حویلی ہو، اس میں ایک درجن مہنگی ترین گاڑیاں کھڑی ہوں، باوردی خدام  کی فوجِ ظفر موج ہو اور میں گیٹ کے باہر کھڑا ہو کر اس حویلی کی چوکیداری کروں پانچ ہزار روپے ماہوار پر۔
جانے وہ کون سا دماغ ہوتا ہے جسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس صرف وزارت کا ڈمی قلمدان اور جھنڈے والی گاڑی ہے، فیصلوں کا اختیار کسی اور کے پاس ہے جو کہیں اور بیٹھا ہے۔ پھر بھی وہ جانتے بوجھتے ڈمی بنے رہنے  پر راضی ہے۔ جانے وہ کون سا ضمیر ہوتا ہے جسے معلوم ہو کہ خدا کا دیا سب کچھ اس کے تصرف میں ہے۔ پھر بھی ہل من مزید کا شیطانی چکر اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا اور وہ نفس کی دلالی اور دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے پر آمادہ رہتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے ’لالچ مستقل غلامی ہے‘۔ جس روز سیاست دان کو یہ قول اور اپنی اوقات سمجھ میں آ گئی ہو سکتا ہے وہ حقیقی آزادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دے۔
کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: