کشمیر میں انتخابات، اہم پارٹیوں کا بائیکاٹ

ان الیکشنز میں عوام کو نہیں صرف منتخب پنچ اور سرپنچ کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی، فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بلاک سطح کے انتخابات میں کشمیر کی تمام اہم پارٹیوں کی جانب سے بائیکاٹ کے باوجود بی جے پی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔
ان انتخابات کی اہم بات یہ بھی ہے کہ پانچ اگست کو انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں پہلی بار انتخابات ہو رہے تھے۔
بلاک ڈویلپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) کے پہلے انتخابات میں حکام کے مطابق 98 فیصد ووٹ پڑے۔ خیال رہے کہ اس میں ووٹ صرف منتخب پنچ اور سرپنچ ہی ڈال سکتے ہیں۔ اس میں عوام کی شمولیت نہیں تھی۔
 
ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: '98 فیصد ووٹنگ کی بات کرنے والے بھکت اور مودی کے حمایتی میڈیا نے یہ نہیں بتایا کہ بی ڈی سی کے انتخابات میں عوام کے بجائے ان کے منتخب نمائندوں پنچوں اور سرپنچوں نے ووٹ ڈالے جن میں سے کشمیر میں 12 ہزار 565 عہدے خالی ہيں۔'
 

ان الیکشنز میں 217 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، بی جے پی نے 81 نشستیں حاصل کیں، فوٹو: اے ایف پی

گذشتہ روز دنیا کی نظر جب انڈیا کی دو ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر تھی اسی دوران کشمیر میں ووٹ ڈالے جا رہے تھے۔
جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر شیلندر کمار نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے 316 بلاکس میں سے 280 بلاکس میں انتخابات کرائے گئے۔
 ان میں سے کم از کم 27 بلاکس میں نمائندے بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ 217 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، بی جے پی کو 81 سیٹیں ملیں جبکہ کانگریس اور پینتھرس پارٹی کو ایک ایک سیٹ حاصل ہوئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر، لیہ اور لداخ کے تمام منتخب امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 'یہ خطے میں نوجوان رہنماؤں کی آمد کا مظہر ہے جو کہ آنے والے زمانے میں قومی ترقی میں بڑا تعاون کریں گے۔'
ہر چند کہ لداخ کو ایک زمانے سے علیحدہ یونین خطہ بنائے جانے کا مطالبہ تھا اور پانچ اگست کو اسے علیحدہ مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دیا گیا تاہم وہاں بی جے پی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ وہاں آزاد امیدوار 20 نشستوں پر کامیاب ہوئے جبکہ بی جے پی کو 11 سیٹیں ملیں۔
کشمیر کی تمام اہم پارٹیوں کی جانب سے بائیکاٹ اور کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر ان انتخابات سے میڈیا عام طور پر دور ہی رہا، اس بابت صرف سرکاری ذرائع ہی سے معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں