Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی، اجمل جامی کا کالم

کیئر سٹارمر 2018 کے بعد پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں جو چین کے دورے پر پہنچے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عجب دنیا ہے اور عجب اس کا نظام، کل کے حلیف آج حریف اور حریف حلیف بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ سرکار جب سے اِن ایکشن ہوئی ہے، یورپ سے لاطینی امریکہ، مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا، چین سے روس تک، دنیا کی تمام طاقتور اور نیم طاقتور قوتیں تذبذب کا شکار ہونے کے بعد اب ایک خاص تحرک میں دکھائی دیتی ہیں۔
ہر کسی کو اپنے اپنے مستقبل کی سوجھ رہی ہے۔ لبرل ڈیموکریسی کا حسین خواب چکنا چور ہو رہا ہے، اقوام  متحدہ نامی ادارہ ہومیوپیتھک دوا خانہ بنتا جا رہا ہے۔ نیٹو جیسے عسکری اتحاد کو کوڑا دان قرار دیا جا رہا ہے۔ علاقائی قوتیں اپنے اپنے مفادات دیکھتے ہوئے نت نئے اتحاد اور عسکری معاہدے کر رہی ہیں۔
مگر یہ سب کیسے ہوا؟ کیونکر ہوا؟ ٹرمپ سرکار آخر پوری دنیا کو اپنی وکھری لاٹھی یا اپنی مخصوص مرضی کے مطابق کیوں ہانکنا چاہتی ہے؟ کیا ایسا ممکن بھی ہو پائے گا ؟ کب تلک ٹرمپی بین بجے گی؟ ان گنت سوالات اور واہمے دنیا بھر کے ماہرین کو مسلسل ستا رہے ہیں۔ حتمی دلائل کے ساتھ مستقبل کا خاکہ بنانا مشکل ہو رہا ہے۔  کیا یہ واہمے اور یہ سوالات بے سود ہیں یا ان کے پیچھے واقعاتی طور پر شواہد موجود ہیں؟ آس پاس نظر دوڑائیں تو خاطر خواہ جواب مل جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں جب امریکہ نے دو روسی بحری جہازوں کو لاطینی امریکہ سے نکلتے ہوئے پکڑنے کا دعویٰ کیا تو معلوم ہوا کہ اس مہم میں کیرئیبن جزائر پر برطانوی بیسز نے امریکی فورسز کو بھر پور مدد فراہم کی۔ یہ تازہ مثال ماضی میں دونوں ممالک بیچ تزویراتی گہرائی کے حامل تعلقات کی محض ایک ادنی سی مثال ہے، تاہم چند ہفتوں بعد جب  برطانیہ نے مورشیش کے چھاگوس نامی جزائر کو واپس دینے کا اعلان کیا تو اسی برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کے اس فیصلے کو ٹرمپ سرکار نے سٹوپڈ اور احمقانہ قرار دے دیا۔
ورلڈ اکنامک فورم سے پہلے، گرین لینڈ ہتھیانے کے منصوبے پر ڈنمارک ہو یا یورپ، کونسی متعلقہ طاقت ایسی تھی جو ٹرمپ کی بھینٹ نہ چڑھی ہو؟ وینزویلا کے بعد کولمیبا اور پھر کیوبا۔ آس پاس ہر جا ہر سا ٹرمپ کا دیو نما سایہ نظر آیا۔ فرانسیسی صدر کی، کینیڈین وزیر اعظم کی اور نیٹو کی جو درگت موصوف نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں بنائی وہ بھی عالمی سفارتکاری کا ایک نیا شاہکار قرار پا رہی ہے۔
نیٹو کو امریکہ کے بغیر ایک کوڑا دان قرار دے دیا۔ یورپی ممالک کو بندے کا پُتر بن کر امریکی بیعت کا جب کہا گیا تو وہاں تھرتھلی مچ گئی۔ اندھیر چھا گیا۔ سراسیمگی پھیل گئی۔

صدر ٹرمپ نے نیٹو کو امریکہ کے بغیر ایک کوڑا دان قرار دے دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

لیکن ظاہر ہے یورپی ممالک کی ایک تاریخ ہے، وہاں ایک نظام ہے۔ صورت ہے، مورت ہے۔  پہلے پہل تو برسوں سے جاری انڈیا کے ساتھ تجارتی روابط پر مد ر آف آل ڈیل سائن ہوئی۔ یورپی یونین کے ذمہ داران مودی کے ہمراہ یہ ڈیل کرنے کے بعد پھولے نہیں سما پا رہے تھے۔ یعنی دنیا کی دوسری اور چوتھی بڑی معاشی طاقتیں اہم ترین تجارتی معاہدہ کر چکنے کے بعد امریکہ بہادر کا منہ چڑاتے ہوئے گویا کہہ رہی ہوں کہ ہاں جی؟ ہن رام اے؟
امریکہ بہر حال امریکہ ٹھہرا، اس کا فوری متبادل گھڑنے میں بھی زمانے لگیں گے۔ اور دشمنی مول لینے کے نتائج بھی ظاہر ہے برآمد ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے ہی انڈیا سمیت کئی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرچکا اور مزید ایسی کاروائیوں کیلئے عندیہ بھی دے رہا ہے۔ اسی بیچ ہم دیکھتے ہیں کہ  برطانوی وزیر اعظم بدھ کے روز بیجنگ پہنچتے ہیں۔ سر کیئر سٹارمر 2018 کے بعد پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں جو چین کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان سے پہلے2018  میں تھریسا مے اور ان سے پہلے دو ہزار تیرہ میں ڈیوڈ کیمرون چین کا دورہ کر چکے۔
انسانی حقوق ہوں یا روس کے ساتھ تعلقات۔ دونوں ممالک کے بیچ اہم بین الاقوامی مدعوں پر کچھاؤ رہا۔ لیکن اب اس دورے سے پہلے اپنے جہازمیں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ریت کے اندر سر چھپا کر آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ وہ حقیقت پسند ہیں، انہیں چین سے تجارت اور سرمایہ کاری درکار ہے ۔ موصوف چینی صدر اور پریمئر سے ملاقات کے بعد شنگھائی میں اہم ترین سرمایہ داروں اور تاجروں سے بھی ملیں گے۔ ہمراہ پچاس سے ساٹھ چوٹی کے بزنس مین بھی لے کر گئے ہیں۔ یعنی متبادل منڈی، متبادل تجارت، متبادل سرمایہ کاری کی کوشش۔

بدلتی دنیا کے بدلتے مزاج اور اس ہنگام بنتے نت نئے اتحاد دلچسپ اور معنی خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

کچھ ایسے ہی وچار کینڈین وزیراعظم کے بھی ہیں، وہ بھی حالیہ واقعات کے بعد چین کا رخ کر رہے ہیں، اطلاع ہے کہ مارچ میں ہی وہ چین کا دورہ کر رہے ہیں،جہاں کینیڈا چین سے سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو نیا رخ دینے کے لیے بے تاب ہوگا۔
بدلتی دنیا کے بدلتے مزاج اور اس ہنگام بنتے نت نئے اتحاد دلچسپ اور معنی خیز ہوتے جا رہے ہیں، ایک اور مثال دیکھئے، یعنی لگ بھگ ایک دہائی  محمد الشرع (شامی صدر) روسی حمایت یافتہ قوتوں بشمول بشار الاسد کے ساتھ برسر پیکار رہے، اقتدار میں آئے تو اسی روس نے بشارالاسد کو اپنے ہاں مہمان رکھ لیا۔ شامی سرکار باقاعدہ روس سے مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ اسد کو ان کے حوالے کیا جائے لیکن روس میزبانی سے دست بردار ہونے کو قطعا تیار نہیں۔
اس بیچ یہی شامی صدر ماسکو دیکھے گئے، پیوٹن سے تفصیلی ملاقات ہوئی، وفود بھی ملے، مسکراہٹوں کے تبادلے ہوئے، تعلقات کو بہتر بنانے پر غور ہوا۔ یار رہے کہ محمد الشرع کے پیچھے امریکی اور پھر ترک تھپکی بھی شامل حال تھی۔
یہیں اس ملاقات اور دورے کے بیچ روسی حکام نے برملا اظہار کیا کہ دراصل روس شام میں فوجی بیس اور کچھ فوجیوں کی تعیناتی چاہتا ہے۔ اب اس پر محمد الشرع کیا جواب دیتے ہیں یہ دیکھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھنے والا معاملا ہوگا۔  دنیا گئی بھاڑ میں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس بیچنے کو کیا ہے؟ کارنامے تو لاجواب کر دکھائے، اب آگے تجارت کے لیے کیا مواقع یا اتحاد دستیاب ہیں؟  یقیناً فیصلہ ساز ضرور کچھ سوچ رہے ہوں گے۔ 
حضرت اقبال البتہ فرما گئے تھے،
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
 محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

شیئر: