عجب دنیا ہے اور عجب اس کا نظام، کل کے حلیف آج حریف اور حریف حلیف بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ سرکار جب سے اِن ایکشن ہوئی ہے، یورپ سے لاطینی امریکہ، مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا، چین سے روس تک، دنیا کی تمام طاقتور اور نیم طاقتور قوتیں تذبذب کا شکار ہونے کے بعد اب ایک خاص تحرک میں دکھائی دیتی ہیں۔
ہر کسی کو اپنے اپنے مستقبل کی سوجھ رہی ہے۔ لبرل ڈیموکریسی کا حسین خواب چکنا چور ہو رہا ہے، اقوام متحدہ نامی ادارہ ہومیوپیتھک دوا خانہ بنتا جا رہا ہے۔ نیٹو جیسے عسکری اتحاد کو کوڑا دان قرار دیا جا رہا ہے۔ علاقائی قوتیں اپنے اپنے مفادات دیکھتے ہوئے نت نئے اتحاد اور عسکری معاہدے کر رہی ہیں۔
مگر یہ سب کیسے ہوا؟ کیونکر ہوا؟ ٹرمپ سرکار آخر پوری دنیا کو اپنی وکھری لاٹھی یا اپنی مخصوص مرضی کے مطابق کیوں ہانکنا چاہتی ہے؟ کیا ایسا ممکن بھی ہو پائے گا ؟ کب تلک ٹرمپی بین بجے گی؟ ان گنت سوالات اور واہمے دنیا بھر کے ماہرین کو مسلسل ستا رہے ہیں۔ حتمی دلائل کے ساتھ مستقبل کا خاکہ بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ کیا یہ واہمے اور یہ سوالات بے سود ہیں یا ان کے پیچھے واقعاتی طور پر شواہد موجود ہیں؟ آس پاس نظر دوڑائیں تو خاطر خواہ جواب مل جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
نیتن یاہو کی اصل مشکل کچھ اور، اجمل جامی کا کالمNode ID: 895327
-
کیا یہی سوچا تھا؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 896573
-
اگلی باری کس کی؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 899210
حالیہ دنوں جب امریکہ نے دو روسی بحری جہازوں کو لاطینی امریکہ سے نکلتے ہوئے پکڑنے کا دعویٰ کیا تو معلوم ہوا کہ اس مہم میں کیرئیبن جزائر پر برطانوی بیسز نے امریکی فورسز کو بھر پور مدد فراہم کی۔ یہ تازہ مثال ماضی میں دونوں ممالک بیچ تزویراتی گہرائی کے حامل تعلقات کی محض ایک ادنی سی مثال ہے، تاہم چند ہفتوں بعد جب برطانیہ نے مورشیش کے چھاگوس نامی جزائر کو واپس دینے کا اعلان کیا تو اسی برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کے اس فیصلے کو ٹرمپ سرکار نے سٹوپڈ اور احمقانہ قرار دے دیا۔
ورلڈ اکنامک فورم سے پہلے، گرین لینڈ ہتھیانے کے منصوبے پر ڈنمارک ہو یا یورپ، کونسی متعلقہ طاقت ایسی تھی جو ٹرمپ کی بھینٹ نہ چڑھی ہو؟ وینزویلا کے بعد کولمیبا اور پھر کیوبا۔ آس پاس ہر جا ہر سا ٹرمپ کا دیو نما سایہ نظر آیا۔ فرانسیسی صدر کی، کینیڈین وزیر اعظم کی اور نیٹو کی جو درگت موصوف نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں بنائی وہ بھی عالمی سفارتکاری کا ایک نیا شاہکار قرار پا رہی ہے۔
نیٹو کو امریکہ کے بغیر ایک کوڑا دان قرار دے دیا۔ یورپی ممالک کو بندے کا پُتر بن کر امریکی بیعت کا جب کہا گیا تو وہاں تھرتھلی مچ گئی۔ اندھیر چھا گیا۔ سراسیمگی پھیل گئی۔

لیکن ظاہر ہے یورپی ممالک کی ایک تاریخ ہے، وہاں ایک نظام ہے۔ صورت ہے، مورت ہے۔ پہلے پہل تو برسوں سے جاری انڈیا کے ساتھ تجارتی روابط پر مد ر آف آل ڈیل سائن ہوئی۔ یورپی یونین کے ذمہ داران مودی کے ہمراہ یہ ڈیل کرنے کے بعد پھولے نہیں سما پا رہے تھے۔ یعنی دنیا کی دوسری اور چوتھی بڑی معاشی طاقتیں اہم ترین تجارتی معاہدہ کر چکنے کے بعد امریکہ بہادر کا منہ چڑاتے ہوئے گویا کہہ رہی ہوں کہ ہاں جی؟ ہن رام اے؟
امریکہ بہر حال امریکہ ٹھہرا، اس کا فوری متبادل گھڑنے میں بھی زمانے لگیں گے۔ اور دشمنی مول لینے کے نتائج بھی ظاہر ہے برآمد ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے ہی انڈیا سمیت کئی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرچکا اور مزید ایسی کاروائیوں کیلئے عندیہ بھی دے رہا ہے۔ اسی بیچ ہم دیکھتے ہیں کہ برطانوی وزیر اعظم بدھ کے روز بیجنگ پہنچتے ہیں۔ سر کیئر سٹارمر 2018 کے بعد پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں جو چین کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان سے پہلے2018 میں تھریسا مے اور ان سے پہلے دو ہزار تیرہ میں ڈیوڈ کیمرون چین کا دورہ کر چکے۔
انسانی حقوق ہوں یا روس کے ساتھ تعلقات۔ دونوں ممالک کے بیچ اہم بین الاقوامی مدعوں پر کچھاؤ رہا۔ لیکن اب اس دورے سے پہلے اپنے جہازمیں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ریت کے اندر سر چھپا کر آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ وہ حقیقت پسند ہیں، انہیں چین سے تجارت اور سرمایہ کاری درکار ہے ۔ موصوف چینی صدر اور پریمئر سے ملاقات کے بعد شنگھائی میں اہم ترین سرمایہ داروں اور تاجروں سے بھی ملیں گے۔ ہمراہ پچاس سے ساٹھ چوٹی کے بزنس مین بھی لے کر گئے ہیں۔ یعنی متبادل منڈی، متبادل تجارت، متبادل سرمایہ کاری کی کوشش۔













