Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

14 برس بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فضائی رابطہ بحال، ’اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار سفر کر سکیں گے‘

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان براہِ راست پروازیں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد جمعرات کو دوبارہ شروع ہو گئیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2012  کے بعد سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ پروازیں استعمال کرنا پڑتی تھیں۔
جمعرات کے روز بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پرواز کراچی میں لینڈ کر گئی جو 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز تھی۔
کراچی جانے والے 150 مسافروں میں شامل محمد شاہد نے کہا کہ وہ اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار سفر کر سکیں گے۔ پہلے ہر دو یا تین سال بعد ہی یہ سفر ممکن ہوتا تھا۔
انہوں نے ڈھاکہ میں اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم اس موقع کے منتظر تھے کیونکہ ہمیں مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے۔‘
’پاکستان میں بھی بہت سے لوگ یہاں آنے کے منتظر ہیں،اور یہاں بھی کئی لوگ وہاں جانے کے خواہش مند ہیں۔‘
براہِ راست پروازیں اب ہفتے میں دو بار چلیں گی۔
بیمان نے ایک بیان میں کہا کہ ان پروازوں کی بحالی ’دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور کاروبار کے فروغ، تعلیمی تبادلوں میں اضافے اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔‘
پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری اس وقت سے دیکھی جا رہی ہے جب 2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا۔
اسی عرصے کے دوران بنگلہ دیش اور شیخ حسینہ کی پرانی اتحادی انڈیا کے درمیان تعلقات میں سردمہری آ گئی۔
نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار جہازوں کی آمدورفت بھی بحال ہو گئی تھی۔
اس کے بعد سے تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور ثقافتی روابط بھی مضبوط ہوئے ہیں، جہاں مقبول پاکستانی گلوکاروں نے ڈھاکہ میں پرفارم کیا، جبکہ بنگلہ دیشی مریض علاج کی غرض سے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔

شیئر: