’ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کی جائے‘

ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی مکمل تعاون کرے، سعودی عرب فائل فوٹو اے ایف پی
سعودی عرب نے ایران سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ ویانا میں سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد نے جمعہ کو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی گورنرز کونسل کے خصوصی اجلاس کے سامنے سعودی عرب کا موقف پیش کیا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے اور عاجل ویب سائٹ کے مطابق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے گورنرز کا اجلاس ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے اور ایران میں اضافی پروٹوکول کی وجہ سے ضمانتوں پر عملدرآمد پر بحث کے لیے ہو رہا ہے۔
شہزادہ عبداللہ بن خالد نے کہا ’ایران معاہدوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں حیلے بہانوں سے کام لینے میں ماہر ہے۔ ایران نے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کی۔ ایجنسی کے ماہرین نے مختلف مقامات سے تابکاری کے نمونوں کی جو تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے اس سے بھی اس کی تصدیق ہوگئی ہے‘۔

شہزادہ عبداللہ بن خالد نے خصوصی اجلاس کے سامنے سعودی عرب کا موقف پیش کیا (فوٹو:عاجل)

سعودی عرب کے سفیر نے مزید کہا کہ ’ایران کے اس رویے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، ایران کی پوری تاریخ دھوکہ دہی او حیلے بہانوں کی ہے۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے اہم حصوں کو اب تک چھپائے ہوئے ہے۔ اس پہلو نے بھی یہ بات ثابت کردیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نہیں ہے۔ وہ ایٹمی طاقت بننے کے چکر میں ہے اسی لیے وہ ایٹمی پروگرام کے مختلف حصوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے‘۔
سعودی عرب نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ لچک کا مظاہرہ کیا گیا تو اسے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مزید حوصلہ ملے گا، ایران مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹروں کو حاصل مراعات کا احترام کرے۔
سعودی عرب نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی سے اپیل کی ہے کہ ’عالمی انسپکٹرزایٹمی سرگرمیوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ایران کی کڑی نگرانی کریں۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق حقائق رائے عامہ کے سامنے لائے۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں جن حقائق کا تذکرہ کیا تھا انہیں بھی منظر عام پر لایا جائے۔‘
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: