’شدید دباﺅ کے بغیر ایران کچھ نہیں مانے گا‘

ہمارے اور یورپی اتحادیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ فائل فوٹو
سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے منانے اور سمجھانے کی پالیسی کسی بھی قیمت پر کارگر نہیں ہوگی۔ اس پر اس مقصد کے لیے زبردست دباﺅ ڈالنا ہوگا۔ اس کے سوا کوئی اورطریقہ کامیاب نہیں ہوگا۔

سعودی عرب ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کے مکالمے کو مفید نہیں سمجھتا۔ فائل فوٹو

سعودی میڈیا کے مطابق الجبیر نے فرانسیسی جریدے’ لبراسیون‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کے مکالمے کو مفید نہیں سمجھتا۔ ایران کو دشمنی برتنے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کرکے جوابی کارروائی کی توقع نہ کرنا ،خام خیالی ہے۔
عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی جارحیت کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ اب ایران کو طے کرنا ہوگا کہ اسے مشکلات کا سلسلہ جاری رکھنا ہے یا امن و استحکام کی فضا بحال کرنا ہے۔
سعودی وزیر نے توجہ دلائی کہ ’ہم ایرانی رویے میں تبدیلی چاہتے ہیں، ہمارا سوال ہے کہ آخر ایرانی ، سعودی عرب پر جارحیت کیوں کرتے رہتے ہیں؟‘ ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں پتہ چل رہا ہے کہ آیا وہ انقلابی ریاست ہے یا قومی ریاست ہے؟
الجبیر نے مزید کہا کہ اگر ایران انقلابی ریاست کے طورپر آگے بڑھنا چاہتاہے تو ایسی صورت میں ہم اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ انقلابی ریاست نامعقول اور جذباتی پالیسی پر گامزن ہوتی ہے۔ اس سے معاملات نہیں کیے جاسکتے۔ اگر ایران قومی ریاست بننا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں اسے قومی ریاست والا انداز اپنانا ہوگا۔
ایٹمی معاہدے سے متعلق ایران کے ساتھ مکالمے کے فرانسیسی مشن کی بابت رائے دریافت کرنے پر عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ایران کو راضی کرنے والی پالیسی موثر نہیں ۔بیان بازی کے بجائے زیادہ عملی اقدام کی ضرورت ہے۔

 اب ایران کو طے کرنا ہے کہ مشکلات کا سلسلہ جاری رکھنا ہے یا امن کی فضا بحال کرنا ہے۔ فائل فوٹو

الجبیر نے کہا ہے کہ ایران کے جو عہدیدار بیان دیتے ہیں ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا اورجن کے پاس اختیار ہے مثلاً پاسداران انقلاب تو وہ بات کرنا نہیںچاہتے۔
عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ہمارے یورپی اتحادیوں کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ایران کو نہ تو ہم ایٹمی طاقت بننے کی اجازت دی جائے اور نہ ہی بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ فرانس کو یہ بات بہت اچھی طرح سے معلوم ہے۔ ہمارے اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ہدف کس طرح حاصل ہوگا؟ کیا زبردست دباﺅ کے ذریعے یا مکالمے کی مدد سے؟ یورپی اتحادیوں کے ساتھ ہماری بحث کا موضوع یہی نکتہ ہے۔ ہماری رائے میں واحد طریقہ انتہائی دباﺅ کا ہے اور بس۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: