قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کہاں روپوش؟

سیف الاسلام قذافی پر انسانیت سوز جرائم کے الزامات ہیں، فائل فوٹو: اے ایف پی
 لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی پر انسانیت سوز جرائم کے الزامات ہیں۔ جون 2017 میں الزنتان جیل سے رہائی کے بعد سے وہ روپوش ہیں۔
العربیہ نیٹ کے مطابق فوجداری کی عالمی عدالت کی پبلک پراسیکیوٹر فاتو بن سودة نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ باوثوق اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ سیف الاسلام لیبیا کے جنوب مغربی شہر الزنتان ہی میں موجود ہیں۔ رہائی کے بعد سے وہ شہر سے باہر نہیں گئے۔

عالمی عدالت کو پتا چلا ہے کہ سیف الاسلام لیبیا کے جنوب مغربی شہر الزنتان میں موجود ہیں، فائل فوٹو

فاتو بن سودة نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے دفتر کو معتبر ذرائع سے یہ اطلاعات ملی ہیں کہ فوجداری کی عالمی عدالت نے جن تین افراد کو طلب کر رکھا ہے ان کے بارے میں علم ہے کہ وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان میں سیف الاسلام قذافی شامل ہیں۔ دوسری شخصیت التھامی محمد خالد کی ہے۔ یہ لیبیا میں داخلی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں۔ ان پر 2011 کے دوران جنگی جرائم کا الزام ہے۔ تیسری شخصیت محمود الورفلی کی ہے وہ کمانڈو فورس کے کمانڈر تھے۔
 دوسری طرف الزنتان شہر سے ایک شخصیت نے فوجداری کی عالمی عدالت کے دعوے کے برخلاف بات کہی ہے۔ العربیہ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ سیف الاسلام قذافی، کرنل العجمی العتیری کے ہمراہ الزنتان سے نکل چکے ہیں ۔

ماضی میں الزنتان شہر سیف الاسلام  کے لیے محفوظ پناہ گاہ تھا، فائل فوٹو روئٹرز

 یاد رہے کہ العتیری، ابوبکر صدیق دستے کے کمانڈر تھے اور یہ دستہ سیف الاسلام قذافی کی ذاتی حفاظت پر مامور تھا ۔ وہ الزنتان کو اس لیے خیر باد کہہ گئے کیونکہ انہیں وہاں اپنی اور اہل خانہ کی زندگی خطرے میں نظر آرہی تھی۔ وفاقی حکومت کے ماتحت مغربی چھاﺅنی کے کمانڈر اسامہ الجویلی کے ماتحت ایک مسلح دستے نے ان کی رہائش پر دھاوا بول دیا تھا۔
 ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابوبکر صدیق فوجی دستہ اپنے کمانڈر کے الزنتان سے نکلنے کے بعد لیبیا کی فوج میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ماضی میں الزنتان شہر سیف الاسلام کے لیے محفوظ پناہ گاہ تھا لیکن الجویلی کے ماتحت فوجی دستوں کی موجودگی میں صورت حال تبدیل ہو گئی۔ رہائش پر حملے سے قبل الزنتان شہر سے ایک بڑے قافلے کو نکلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس کے اطراف زبردست سکیورٹی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سیف الاسلام قذافی اسی قافلے کے ہمراہ الزنتان سے نکلے تھے۔

سیف الاسلام قذافی کو جون 2017 میں جیل سے رہا کیا گیا تھا، فائل فوٹو روئٹرز

 جون 2017 کے دوران سیف الاسلام قذافی کو جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ 2011 میں ایک ملیشیا کے جنگجوﺅں نے انہیں قید کرلیا تھا۔
 واضح رہے کہ لیبیا میں انقلاب کے آٹھ برس بعد بھی 47 سالہ سیف الاسلام قذافی اپنا اثر و نفوذ بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں لیبیا کا ایک بڑا حلقہ پسند کرتا ہے۔ ملک میں ان کا سیاسی وزن بھی ہے۔ وہ مارچ 2019 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار کے طو رپر سامنے آنا چاہتے تھے کہ اسی دوران رواں برس چار اپریل کو وہاں ہنگامے شروع ہو گئے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: