38 دہشت گردوں کو قید کی سزا، غیر ملکیوں کی بے دخلی کا حکم 

سزا کاٹنے کے بعد غیرملکیوں کو بے دخل کردیا جائے گا، فوٹو: الریاض اخبار
ریاض میں فوجداری عدالت نے 38 دہشت گردوں کو ڈھائی برس سے لے کر 25 برس تک قید کی سزا سنا دی۔ دہشت گرد گروہ میں شامل غیر ملکیوں کو قید کی سزا کاٹنے کے بعد بے دخلی کا بھی حکم دے دیا گیا۔
اخبار 24 کے مطابق ریاض کی فوجداری عدالت میں دہشت گردی کے مختلف الزامات پر 41 ملزمان پر مقدمہ چل رہا تھا۔ ان پر معاشرے کی اہم شخصیات کو کافر قرار دینے، دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرنے اور دہشت گرد تنظیم قائم کرنے کے الزامات تھے۔
فوجداری عدالت نے الزامات اور شواہد سن کر معاشرے کی اہم شخصیتوں کو کافر قرار دینے، دہشت گردی کے فروغ کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے پر 38 افراد کو مجرم قرار دے دیا۔

ملزمان فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں، فائل فوٹو

مکہ اخبار کے مطابق ایک ملزم کو 25، دوسرے کو 20 اور تیسرے کو 15 برس قید کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر کو ساڑھے 12 سال اور ڈھائی برس کی سزاﺅں کا فیصلہ ہوا۔
 عدالت نے توجہ دلائی ہے کہ سعودی حکومت، اس کے علماء اور سکیورٹی اہلکاروں کو کافر قرار دینا قرآن و سنت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اسلامی قانون کے مطابق جرم ہے۔
  • واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ ملزمان میں سے ایک پر خفیہ دہشت گرد تنظیم قائم کرنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ متعلقہ دہشت گردوں نے حوالات میں قیدیوں کو ورغلا کر دہشت گرد تنظیم قائم کی تھی اور شامل افراد نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ متعلقہ دہشت گرد نے حوالات میں موجود کئی لوگوں کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی ذمہ داریاں تفویض کی تھیں۔ انہیں امن عامہ کو درہم برہم کرنے کے انتظامات کی ہدایات بھی دی تھی۔
فوجداری عدالت نے قید کا فیصلہ سناتے ہوئے بتایا ہے کہ قانون کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
      

 

 

شیئر: