Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پی آر‘ اور عام اقامہ ہولڈر اپنے لیے گاڑیاں درآمد کرسکتے ہیں؟

پریمیم اقامہ ہولڈر ایک برس میں دو گاڑیاں اپنے نام سے لا سکتے ہیں۔ (فوٹو الشرق الاوسط)
زکوۃ و کسٹم اور ٹیکس اتھارٹی نے کہا ہے کہ مملکت میں مقیم غیرملکی اپنے نام سے بیرون ملک سے گاڑی لاسکتے ہیں۔ گاڑی صرف بری اور سمندری ذریعے سے ہی درآمد کی جاسکتی ہے فضائی راستے سے اس کی اجازت نہیں۔
اخبار 24 کے مطابق کسٹم قوانین کے تحت سعودی شہریوں کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ایک برس (12 ماہ ) کے دوران 2 گاڑیاں اپنے نام سے بیرون ملک سے امپورٹ کر سکتے ہیں۔
کسٹم قوانین کے مطابق وہ غیرملکی جو اقامہ ممیزہ (پریمیم ریزیڈنسی) رکھتے ہیں انہیں بھی اس بات کا حق ہے کہ وہ ایک برس کے دوران دو گاڑیاں اپنے نام سے لا سکتے ہیں۔
مملکت میں رہنے والے عام اقامہ ہولڈز کے لیے محکمہ کسٹم کی جانب سے ہر تین برس کی شرط عائد کی گئی ہے اس دوران وہ صرف ایک گاڑی ہی اپنے نام سے اور ذاتی استعمال کی غرض سے درآمد کرسکتے ہیں۔
عام اقامہ ہولڈرز کے لیے تین برس کے علاوہ دوسری شرط یہ بھی ہے کہ وہ درآمد کی گئی گاڑی کو 3 سال تک فروخت نہیں کر سکیں گے۔ درآمد کی گئی گاڑی کے ملکیتی کارڈ(کسٹم ) پر یہ واضح طورپر درج ہوگا کہ ’گاڑی تین برس تک فروخت نہیں کی جاسکتی‘۔
کسٹم قوانین میں مزید کہا گیا ہے کہ عام اقامہ ہولڈر غیرملکی جو گاڑی درآمد کرتے ہیں ان کے لیے مقررہ تین برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد سسٹم سے ’فروخت ‘ کی پابندی از خود ختم ہوجائے گی یا غیرملکی کے مملکت سے فائنل ایگزٹ کرجانے کی صورت میں بھی گاڑی کی ملکیتی دستاویز پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی۔
 

 

شیئر: