’ صدر ٹرمپ نے معمول کا معائنہ کرایا‘

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کے کولیسٹرول کے نتائج بھی شامل کیے گئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر کے ڈاکٹروں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سینے میں تکلیف ہوئی جس کے بعد ان کا واشنگٹن میں غیر اعلانیہ طبی معائنہ کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر کے معالج ڈاکٹر سین کونلے نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو والٹر ریڈ کے نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں ’طبی معائنے اور تجزیوں‘ کے لیے ایک گھنٹہ سے زائد کا وقت گزارا۔
ڈاکٹر سین کے مطابق ’افواہیں درست نہیں، صدر ٹرمپ کو سینے میں تکلیف نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کو کسی بیماری کی وجہ سے فوری طبی امداد دی گئی۔‘
صدر ٹرمپ کے ذاتی معالج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خاص طور پر ان کے دل یا اعصاب کے تجزیے قطعی طور پر نہیں کیے گئے۔‘

 

اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن سے آنے والی بعض خبروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ پہلے سے طے نہیں تھا اور یہ ان کے سینے میں تکلیف کے بعد کیا گیا۔
ڈاکٹر سین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شیڈول کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے صدر کے طبی معائنے کو غیر اعلانیہ رکھا گیا۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کے خون میں کولیسٹرول کی سطح کے نتائج بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ’صدر ٹرمپ نے ہسپتال میں زیر علاج ایک فوجی کے اہل خانہ سے گفتگو کی اور طبی عملے سے بھی بات چیت کی۔‘
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سٹیفنی گریشم نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ہفتہ وار تعطیل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سالانہ جسمانی طبی تجزیہ کرایا۔
صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کا دوسرا مرحلہ اس وقت کانگریس میں جاری ہے۔

شیئر: