شاہ سلمان نے ’الدرعیہ گیٹ ‘پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ’بوابہ الدرعیہ‘ (الدرعیہ گیٹ) پروجیکٹ کا بدھ کوسنگ بنیاد رکھ دیا۔
 عظیم الشان ثقافتی اور تاریخی پروجیکٹ کے طور پر تاریخی علاقے میں اصلاح و مرمت ہوگی۔18ویں صدی عیسوی میں الدرعیہ کی جو شان و شوکت تھی اسے بحال کیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سنگ بنیاد کی تقریب میں گورنر ریاض شہزادہ فیصل بن بندر، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمن اور وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ خاص طور پر موجود تھے۔

سنگ بنیاد کی تقریب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خاص طور پر موجود تھے۔فوٹو:ایس پی اے

 اس موقع پر شاہ سلمان اور مہمانوں نے الدرعیہ کے ساتوں دروازوں پر دستاویزی فلم دیکھی۔ یاد گاری تصاویر لی گئیں۔ تلواروں کا سعودی رقص بھی ہوا۔
الدرعیہ کے دروازوں میں بوابہ وادی حنیفہ، بوابہ الغبرائ، بوابہ مانع المریدی، بوابہ الامام محمد بن سعود، بوابہ سمحان، بوابہ سلمان اور بوابہ محمد) ہیں۔
 اس موقع پر رنگا رنگ پروگرام اور لیزر شو پیش کیے گئے۔افسانوی طرز کی شاہی تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے 600مہمان شریک ہوئے۔

شاہ سلمان اور مہمانوں نے الدرعیہ کے ساتوں دروازوں پر دستاویزی فلم دیکھی۔فوٹو:ایس پی اے

سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شاہ سلمان کو دوسری سعودی ریاست کے بانی امام ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود کی تلوار (السیف الاجرب) دکھائی گئی۔
محکمہ سیاحت و قومی ورثے کے سربراہ احمد الخطیب نے العربیہ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ بوابہ الدرعیہ پروجیکٹ کا مقصد 2030 تک 10ملین سیاح لانا ہے۔
 تقریب میں پہلی ، دوسری اور تیسری سعودی ریاست کی 300 سالہ تاریخ لیزر شو کے ذریعے پیش کی گئی۔ امام محمد بن سعود سے لیکر عصر حاضر تک کی سعودی تاریخ اجاگرکی گئی۔

الدرعیہ پروجیکٹ کا مقصد 2030 تک 10ملین سیاح لانا ہے۔فوٹو:ایس پی اے

بوابہ الدرعیہ پروجیکٹ 2020 میں مکمل ہوگا۔ اس کی لاگت کا تخمینہ 64ارب ریال ہے۔ یہ سات مربع کلو میٹر کے دائرے میں واقع علاقہ اصلاح و ترمیم کے بعد جدید و قدیم کا سنگم بن جائے گا۔ یہاں ایک لاکھ کارکن ہوں گے۔ مہمان، مقیم غیر ملکی اور طلباءیہاں آباد ہوں گے۔ مستقبل میں الدرعیہ مہم جوئی، مارکیٹنگ ، رہن سہن ، روزگار اور قیام و طعام کے حوالے سے مثالی مرکز ہوگا۔
الدرعیہ میں سبزہ زار ہوں گے۔ وادی حنیفہ کے اطراف کھجوروں کا جنگل ہوگا۔ دو مربع کلو میٹر پر نخلستان قائم ہو نگے۔

شیئر: