Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی ’غیر محفوظ‘ ٹیلی فونک گفتگو کا انکشاف

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی بے سود ثابت ہوگی (فوٹو:اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے اور اس صورتحال میں امریکہ کے موجودہ اور سابق حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے وکیل اور دیگر افراد کے ساتھ عام موبائل فون پر تواتر سے بات چیت کرتے رہے جس کی وجہ سے روسی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کو اپنے مفادات حاصل کرنے کا موقع ملا۔
امریکی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ انتخابات میں یوکرائن کے صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کروائیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ میں ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے فون ریکارڈز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے وکیل روڈولف گیولیانی اور وہائٹ ہاؤس میں نامعلوم افراد کے درمیان یوکرائن پر دباؤ ڈالنے کے لیے گفتگو ہوتی رہی اور اس بات کا کوئی خیال نہ رکھا گیا کہ ان کی بات چیت کوئی غیر ملکی خفیہ ایجنسی بھی ریکارڈ کر سکتی ہے۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماسکو کو صدر ٹرمپ کے جانب سے یوکرائن پر دباؤ ڈالنے کی رپورٹ شائع ہونے سے بہت پہلے ہی اس بات کا علم تھا۔
وہائٹ ہاؤس کے فون ریکارڈ میں صدر ٹرمپ کی ان کے نام سے شناخت نہیں کی گئی ہے، تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں شک ہے کہ ان کی شناخت ایک شخص کے طور پر ہوئی ہے جس کا فائلز میں نمبر ’ایک‘ ہے۔
سابق امریکی اہلکار نے کہا کہ ان انکشافات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ سابق امریکی صدور کی پالیسی سے قطع نظر اور سکیورٹی پروٹوکول کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے غیرمحفوظ گفتگو کرتے رہے۔

’صدر نے سیاسی مفاد کے لیے ملکی سیکیورٹی کو داؤ پر لگایا۔‘ فوٹو: اے ایف پی

دوسری طرف امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکراور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا گرین سگنل دیتے ہوئے ہاؤس کمیٹی کو امریکی صدر کے مواخذے کے آرٹیکلز ڈرافٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اے ایف پی کے کے مطابق اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں نینسی پلوسی نے کہا کہ ’صدر نے یوکرین کی عسکری امداد روک کر اور اوول آفس میں اہم ملاقات کے بدلے اپنے سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کا اعلان کرکے اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملکی سکیورٹی کو داؤ پر لگایا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔‘
صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی بے سود ثابت ہو گی اور ان کی ’جیت‘ ہو گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ مواخذے کی تحقیقات غیر منصفانہ ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کو دو مہینے ہوئے ہیں جس میں دو ہفتوں تک گواہوں کی براہ راست سماعت بھی ہوئی۔
مواخذے کی کارروائی میں یہ تحقیقات ہورہی ہیں کہ آیا امریکی صدر نے آنے والے انتخابات کے لیے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے اراکین یہ شکایت کر رہے ہیں کہ مواخذے کی تحقیقات غیر منصفانہ ہے۔
پیر کو وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وکلا ایوان نمائیدگان میں مواخذے کی سماعت کے لیے پیش نہیں ہوں گے۔
امریکی کانگریس کے ایک پینل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا تھا کہ ایک ہفتے میں اس بات کا فیصلہ کرے کہ آیا ان کے وکیل مواخذے کی کارروائی میں پیش ہوں گے یا نہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی جیوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرولڈ نیڈلر نے کہا تھا کہ اگر امریکی صدر پیش نہیں ہوتے تو شکوہ کرنا بند کریں۔

شیئر: