’پانی پت فلم مسلمان مخالف سوچ‘

فردوس عاشق کا کہنا ہے کہ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے، فوٹو: سوشل میڈیا
بالی وڈ کی فلم ’پانی پت‘ کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کی کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ’یہ فلم انڈیا میں افغان عوام اور مسلمانوں سے متعلق سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔‘
اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ’اس فلم میں  پانی پت کی جنگ میں افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’بابری مسجد کی شہادت کے دن اس فلم کو ریلیز کرنا انڈیا کی دائیں بازو کی پارٹی، راشٹریا سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے فاشسٹ نظریے کا ثبوت ہے۔‘
واضح رہے کہ فلم ’پانی پت‘ کی کہانی 1761 میں پانی پت کی تیسری لڑائی کے گرد گھومتی ہے جو افغانوں اور ہندوستان کے مرہٹوں کے درمیان ہوئی تھی۔ اس لڑائی میں احمد شاہ ابدالی کی فوجوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔
 یہ فلم جمعے سے انڈیا بھر میں ریلیز ہوئی ہے۔ بالی وڈ کے معروف اداکار سنجے دت فلم میں احمد شاہ ابدالی کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں ارجن کپور، کریتی سینن اور دیگر شامل ہیں۔
ماضی کی معروف اداکارہ زینت امان کی ایک بار پھر بالی وڈ میں واپسی ہوئی ہے اور وہ اس فلم میں سکینہ کے کردار میں نظر آئیں گی۔
بالی وڈ کی اس فلم پر افغان حکومت کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
انڈین اخبار ’اکنامک ٹائمز‘ کے مطابق ’افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے افغانستان میں انڈین سفارت کار ونے کمار کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا۔‘  
اس سے قبل انڈیا میں افغان سفارت خانے نے انڈیا کے وزیر خارجہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں احمد شاہ ابدالی کے دکھائے گئے منفی کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ ’اس فلم سے افغانیوں کے جذبات پر برا تاثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور افغانستان کے درمیان بھروسے اور امن پربھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
خط میں انڈیا کے وزیر خارجہ سے درخواست کی گئی تھی کہ افغان سفارت کار طاہر قادری اور انڈیا کے وزیر اطلاعات پراکاش جاوادیکر کے درمیان ملاقات کرائی جائے۔  

شیئر: