جیونی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین اکرم حیات نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 28 سالہ طیب کے نام سے ہوئی ہے جو جیونی کے گاؤں گنز کا رہائشی تھا۔
ان کے مطابق طیب کی لاش ایران سے سپیڈ بوٹ/کشتی کے ذریعے پاکستان منتقل کی گئی، جس کے بعد آبائی علاقے میں اس کی تدفین کر دی گئی۔
اکرم حیات کا کہنا ہے کہ طیب ایران سے سپیڈ بوٹ کے ذریعے پٹرول اور ڈیزل لانے کا کام کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ جیونی سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایرانی ساحلی حدود میں واقع علاقے کور گٹ میں پیش آیا، جہاں ایرانی فورسز کا ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔
میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی یا امریکی ڈرون فوجی اڈے کے قریب پہنچا، جس پر ایرانی فورسز نے فائرنگ کر کے اسے مار گرایا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرون کا ملبہ قریب موجود ایک کشتی پر آ گرا، جس کے نتیجے میں طیب ہلاک ہو گیا۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستانی ماہی گیروں اور سپیڈ بوٹ کے ذریعے ایرانی تیل لانے والوں کو ایرانی حدود میں جانے سے گریز کی ہدایت کی تھی۔ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان ہدایات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیش آیا۔
چیئرمین میونسپل کمیٹی نے بتایا کہڈرون کا ملبہ قریب موجود ایک کشتی پر آ گرا، جس کے نتیجے میں طیب ہلاک ہو گیا (فوٹو بشکریہ: سالار میر)
اکرم حیات نے مزید بتایا کہ پاکستان سے ملحقہ ایرانی ساحلی علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران روزانہ دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جن کی گونج بعض اوقات جیونی تک بھی پہنچتی ہے۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث مقامی آبادی میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
جیونی میں تعینات ایک مقامی پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ طیب کی لاش ایران سے منتقل کر کے گنز جیونی پہنچائی گئی۔
پولیس اہلکار کے مطابق کشتی میں طیب کے ساتھ جیونی کا رہائشی حکیم نامی شخص بھی موجود تھا، جو اس واقعے میں محفوظ رہا۔ عینی شاہد حنے بتایا کہ یہ واقعہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پیش آیا اور مار گرائے گئے ڈرون کے ٹکڑے کشتی پر آ گرے۔
عینی شاہد کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر ڈرون کا ملبہ بھی دیکھا گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مبینہ طور پر مار گرایا جانے والا ڈرون کس ملک کا تھا۔
بعض مقامی ذرائع نے اس واقعے کو اسرائیلی ڈرون سے جوڑا ہے، تاہم اردو نیوز آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔ اس حوالے سے ایرانی یا پاکستانی حکام کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
لاش آبائی علاقے پہنچنے پر اہلِ خانہ نے تدفین کی۔ مقامی افراد کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہے۔
واقعے کے حوالے سے جب گوادر کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے بتایا گیا کہ معاملے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر آگاہ کیا جائے گا۔