مشروبات پر ٹیکس، فیکٹریاں بند ہونے لگیں

50 فیصد ٹیکس کے بعد میٹھے مشروبات کی قیمتیں 75 فیصد تک بڑھ گئی ہیں فوٹو: سوشل میڈیا
سعودی عرب میں میٹھے مشروبات کی عرب تنظیم کے سربراہ منذر الحارثی کے مطابق ’میٹھے مشروبات پر ٹیکس کے بعد کئی فیکٹریاں بند ہوگئیں۔ کئی فیکٹریوں اور کارخانوں نے میٹھے مشروبات کی پیداوار بند کرکے دیگر مصنوعات تیار کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔‘
اخبار 24 کے مطابق منذر الحارثی نے واضح کیا کہ ’متعدد چھوٹے اور بڑے کارخانوں اور فیکٹریوں نے میٹھے مشروبات تیار کرنا بند کردیے ہیں۔ نئے ٹیکس سے صورت حال کنٹرول سے باہر ہونے لگی تھی۔
الریاض اخبار کے مطابق الحارثی نے بتایا کہ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکس کے بعد میٹھے مشروبات تیار کرنے والے کارخانے اور کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں اورمزید متاثر ہوں گی تاہم اس ٹیکس سے فیکٹریوں اور کارخانوں پر کتنا اثر پڑے گا ابھی واضح نہیں، اس کے لے ایک ماہ درکار ہو گا‘۔

تنظیم کے مطابق نئے ٹیکس سے صورت حال کنٹرول سے باہر ہونے لگی تھی فوٹو: سوشل میڈیا

’ پہلے سے ہی خدشہ تھا کہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس شروع ہونے کے بعد 30 تا 40 فیصد فیکٹریاں اور کارخانے متاثر ہوں گے۔ یہ خدشات انرجی ڈرنکس، تمباکو اور اس کی مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے بعد سامنے آنے والے اثرات کو مدنظر رکھ کر ظاہر کیے تھے‘۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ’ بعض اداروں نے میٹھے مشروبات کے نقصانات بیان کرنے میں مبالغے سے کام لیا ہے۔ متعلقہ ادارے اور ذرائع ابلاغ صارفین کی صحت پر میٹھے مشروبات سے متعلق حقیقی اثرات رائے عامہ کے سامنے لائیں۔‘
 یاد رہے کہ منتخب اشیا پر ٹیکس 50 فیصد لگانے کے بعد میٹھے مشروبات کی قیمتیں 75 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
 سعودی عرب میں میٹھے مشروبات پر منتخب اشیا پر ٹیکس کا نفاذ یکم دسمبر 2019 سے کیا گیا ہے۔
میٹھے مشروبات میں وہ تمام اشیا شامل ہیں جن میں شکر یا کسی بھی میٹھی چیز کا اضافہ کیا گیا ہو اور اسے مشروب کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
واضح رہے کہ اس کا فیصلہ جی سی سی ممالک نے مشترکہ طورپر کیا تھا جس کا مقصد صارفین کو مضر صحت مشروبات کے استعمال سے باز رکھنا ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: