حکومت مخالف مظاہرے دوبارہ ہوئے تو پہلے سے سخت ردِعمل ہوگا: پاسداران انقلاب
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے پاسداران انقلاب، جو ملک کی فوج کا نظریاتی بازو سمجھے جاتے ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کے خلاف نئے مظاہرے ہوئے تو انہیں جنوری کے مقابلے میں زیادہ سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مظاہروں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’بدنیت دشمن میدانِ جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ایک بار پھر خوف پھیلانے اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
’اگر دوبارہ بدامنی ہوئی تو آٹھ جنوری سے بھی زیادہ سخت ضرب لگائی جائے گی۔‘
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مقاصد میں سے ایک ’ایرانی عوام کے لیے ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے وہ ایرانی حکومت کو گرا سکیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور اسے ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔
دسمبر میں ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی حکومت مخالف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گئے تھے۔
یہ تحریک آٹھ جنوری کو اپنے عروج پر پہنچی، جسے ایرانی حکام نے ’فسادات‘ قرار دیتے ہوئے اس کا الزام ان ’دہشت گردوں‘ پر لگایا جو ان کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کی تھی۔
بیرونِ ملک قائم غی سرکاری تنظیموں نے سکیورٹی فورسز پر مظاہرین پر جان بوجھ کر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ان واقعات میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
