حدود شمالیہ میں پتھروں پر بنے نقش و نگار ’قومی ثقافتی میراث کا حصہ‘
حدود شمالیہ میں متعدد آثارِ قدیمہ کے مقامات موجود ہیں جو انسانی آبادکاری کی قدیم تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ان میں سب سے قابل ذکر عرعر کے شمال مغرب میں پتھروں سے بنی تعمیرات کی باقیات ہیں۔
یہ تعمیراتی ڈھانچے شکل، سائز اور ڈیزائن میں مختلف ہیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نیو لیتھک دور کے اختتام اور بعد کے ادوار کے آغاز کے زمانے کے ہیں۔
ان کا استعمال ممکنہ طور پر مُردوں کی باقیات محفوظ رکھنے کے لیے پتھروں کی قبروں کے طور پر کیا جاتا تھا۔
شواہد نیو لیتھک دور سے لے کر اسلامی دور تک پائے جاتے ہیں جو ایک تاریخی سلسلہ قائم کرتے ہیں۔
یہ سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس علاقے میں کبھی رہنے والی مختلف کمیونٹیز کی نوعیت کیا تھی اور وہ صدیوں کے دوران اپنے قدرتی ماحول کے ساتھ کیسے رہتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہے۔
ہیریٹج کمیشن میں آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل عجب العتیبی نے کہا کہ شمالی سرحدی علاقے میں موجود پتھر کے ڈھانچے اور چٹانی فنون (سٹون آرٹ) کے مقامات سعودی عرب کی قومی ثقافتی میراث کا ایک لازمی حصہ ہیں اور یہ آثارِ قدیمہ کے مطالعے اور سائنسی تحقیق کے لیے ایک اہم ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے ان ثقافتی مقامات کو آئندہ نسلوں کے لیے تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے سروے، دستاویزات اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ علاقہ کئی اہم سٹون آرٹ کے مقامات کا بھی مسکن ہے، جیسے شعیب حامر، جہاں قدرتی پتھروں نقش و نگار بنائے گئے ہیں جو اسے اس علاقے میں ابتدائی انسانی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے والا ایک اہم مقام بناتی ہیں۔
یہ آرٹ شکار، گھڑ سواری، رقص، روزمرہ زندگی اور سماجی رسومات کے مناظر پیش کرتے ہیں۔
انہیں مختلف فنکارانہ انداز میں تخلیق کیا گیا جن میں سب سے نمایاں خیالی شکلیں ہیں اور یہ مختلف تکنیکوں کے ذریعے بنائے گئے۔

نقش و نگار کے ان مناظر میں انسان اور مختلف جانور بنے ہیں، جن میں اونٹ، گھوڑے اور ہرن شامل ہیں، ساتھ ہی کچھ جنگلی اور شکاری جانور بھی جو اب ایک طویل عرصے سے کرہ ارض پر نہیں۔
یہ تصویریں ماضی کے قدرتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں اور محققین کو معاشرے اور ان کے ماحول کے بدلتے ہوئے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔