دہلی: فیکٹری میں آگ لگنے سے 43 افراد ہلاک

حکام کے مطابق عمارت سکول کے بستوں اور پیکنگ سے سامان سے بھر ہوئی تھی۔ فوٹو: انڈین ایکسپریس
انڈیا کے دارلحکومت دہلی کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ دہلی کے علاقے رانی جھانسی روڈ پر واقع فیکٹری میں آگ لگنے سے 43  افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر مزدور تھے جو کہ فیکٹری میں سو رہے تھے۔ آگ اتوار کی صبح 5 بجے لگی۔

 

دہلی کے دپٹی چیف فائر آفیسر سنیل جوشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک 50 افراد کو متاثرہ فیکٹری سے زندہ نکالا گیا ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد مزدار اور فیکٹری ورکرز تھے جو کہ چار منزلہ عمارت کے اندر سو رہے تھے۔
ان کے مطابق صدر بازار کے گنجان آباد علاقے میں اندھیرے میں فیکٹری تک پہینچنا بہت ہی مشکل تھا۔
فیکٹری میں پھنسے کئی افراد کو بچالیا گیا ہے اور انہیں آر ایم ایل ہسپتال اور ہندو راؤ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق عمارت سکول بیگز اور پیکنگ مٹیریل سے بھرا ہوا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں لگ سکا ہے۔
صدر بازار کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس نے اے ایف پی کو بتایا کہ زندہ نکالے گئے تمام افراد کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال نے ابھی تک 40  افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق ہسپتال  میں داخل بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

فیکٹری میں پھنسے کئی افراد کو بچالیا گیا ہے جنہیں آر ایم ایل ہسپتال اور ہندو راؤ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ان کا کہنا تھا کہ زندہ نکالے جانے والے افراد میں سے متعدد دھوئیں کی وجہ سے متاثر ہوگئے ہیں۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے فیکڑی میں آگ لگنے کے واقعے کو  المناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فائر مین آگ پر قابو کی کوشش کر رہے ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔  
دریں اثنا انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا کہ ’دہلی کے رانی جھانسی روڈ پر واقع اناج منڈی میں لگنے والی آگ خوفناک ہے۔ میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں۔ متعلقہ حکام حادثے کی جگہ ہر ممکن تعاون مہیا کر رہے ہیں۔‘

شیئر: