افغانوں کا علاج کرنے والا جاپانی ڈاکٹر قتل

ڈاکٹر ناکامورا 1980 کی دہائی سے غریب افغانوں کا علاج کر رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقی افغانستان میں بدھ کے روز ہونے والے ایک  حملے میں ایک جاپانی ڈاکٹر سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
جاپانی ڈاکٹر ٹیٹسو ناکامورا نے تقریباً چار دہائیوں تک غریب ترین افغانوں اور پاکستانیوں کا علاج کیا۔ ننگرہار صوبے کے مرکزی شہر جلال آباد میں ہونے والا حملہ حالیہ دنوں میں امدادی کارکنوں پر دوسرا حملہ ہے۔  ڈاکٹر ناکامورا پر حملے کے خلاف افغانستان اور بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
73 سالہ ٹیٹسو ناکامورا پیس جاپان میڈیکل سروسز نامی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ تھے۔ جاپانی زبان میں تنظیم کا نام ’پشاور کائے‘ ہے۔ ناکامورا 1980 کی دہائی سے علاقے میں کام کر رہے تھے جب انہوں نے پہلی مرتبہ پشاور میں جذام کے مریضوں کا علاج شروع کیا۔
افغان صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان صدیق صدیقی  نے ناکامورا کو افغانستان کے ’قریب ترین دوستوں‘ میں سے ایک قرار دیا۔

ڈاکٹر ناکامورا کو سینے پر گولی ماری گئی اور وہ ہسپتال منتقلی کے دوران ہی انتقال کر گئے، فوٹو: اے ایف پی

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر ناکاموار نے اپنی زندگی افغانوں کی مدد کے لیے وقف کر دی تھی۔‘
ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے بتایا کہ ’ڈاکٹر ناکامورا کو سینے پر گولی ماری گئی۔ ان کے مطابق وہ ہسپتال منتقلی کے دوران ہی انتقال کر گئے۔‘
خوگانی کے مطابق ’حملے میں ناکامورا کے تین محافظوں سمیت پانچ افغان بھی مارے گئے جس میں سے ایک ان کا ساتھی اور دوسرا ڈرائیور تھا۔  
رواں برس 24 نومبر کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے وابستہ ایک امریکی امدادی کارکن اینل راج جو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے افغانستان میں امدادی مشن نے ایک بیان میں ناکامورا کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ناکاموار نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت انتہائی غریب افغانوں کی مدد کے لیے وقف کیا تھا، ان جیسے شخص کا قتل تشدد کا احمقانہ اقدام ہے۔‘

 

ناکاموار کی تنظیم سے وابستہ ایک اہلکار مٹسوجی فوکوموٹو نے ٹوکیوں میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ’ ناکامورا کے قتل کی وجوہات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔‘
فوکوموٹو نے کہا کہ ’ہمیں کوئی پتا نہیں کہ یہ محض ڈکیتی کا واقعہ ہے یا مفادات کے ٹکراؤ کا؟
ناکامورا جاپان میں بھی اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے مشہور تھے۔
’پشاور کائے‘ کی بنیاد ناکامورا اور ان کے دوستوں نے رکھی تھی جو کہ افغانستان اور پاکستان میں 1984 سے رہے اور وہاں کام کیے۔
2003 میں ناکامورا کو فلپائن کے راموں ماگسیسے ایوارڈ برائے امن سے نوازا گیا تھا۔ اس ایوارڈ کو ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔
پشتون لباس پہننے کے شوقین ناکامورا 2001 میں امریکہ کی افغان جنگ کے سخت خلاف تھے۔ امریکی جنگ کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ناکامورا طالبان حکومت کو قابل منتظم مانتے تھے اور ان کا دفاع کرتے تھے۔
ناکامورا نے اپنی ویب سائٹ کی ایک پرانی پوسٹ پر لکھا تھا کہ’مجھے اس جواز سے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا کہ جمہوریت اور جدیدیت کے لیے تشدد ضروری ہے۔‘

طالبان نے جاپانی ڈاکٹر ناکامورا پر حملے کی تردید کی ہے، فوٹو: اے ایف پی

’بنی نوع انسان کی حقیقی خوشی کا اندازہ تشدد یا پیسے سے نہیں بلکہ انسانیت سے لگانا چاہیے۔‘ 
ناکامورا نے اپنی تنظیم کے کئی ایک منصوبوں کا ذکر کیا تھا جو افغانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ان میں کنوؤں اور آب پاشی کی نہروں کی تعمیر اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔
 جلال آباد کے رہائشی اعوذباللہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’انہوں نے صبح آٹھ بجے شوٹنگ کی آواز سنی۔‘
’میں نے دیکھا کہ گن مین جاپانیوں اور ان کے محافظوں پر حملہ کر رہے ہیں، اس کے بعد گن مین ایک چھوٹی سے سڑک کے ذریعے علاقے سے نکل گئے۔‘
واقعے کی جگہ سے لی گئی تصاویر میں ایک بڑے کیبن کے ساتھ ایک سفید پِک اپ ٹرک کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی سائیڈ کے شیشوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، اور کم سے کم تین گولیاں سامنے کی سکرین میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

مئی میں غیر سرکاری تنظیم ’کاؤنٹرپارٹ انٹرنیشنل‘ کے دفتر پر حملے میں 9 افراد مارے گئے تھے، فوٹو: روئٹرز

 دوسری جانب طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان کی تعمیر میں حصہ لینے والی تنظیم سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔‘
واضح رہے کہ ننگر ہار ایک وقت میں طالبان اور ان کے ساتھ وابستہ گروپوں کی سرگرمیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
حکام نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ’صوبے میں جہادیوں کو شکست دے دی گئی ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ چھوٹے گروپس کی ابھی وہاں موجودگی باقی ہے۔‘ 
 افغانستان میں بعض اوقات غیر سرکاری تنظیموں اور گروپس کو بھی ہدف بنایا جاتا ہے۔
طالبان نے مئی میں امریکی فنڈ سے چلنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘’کاؤنٹرپارٹ انٹرنیشنل‘ کو نشانہ بنایا تھا جس میں نو افراد مارے گئے تھے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: