ریپ کے ملزمان پولیس فائرنگ میں ہلاک

پولیس نے ایک خاتون کو ریپ کے بعد جلا دینے کے شک میں چار نوجوان لڑکوں کو گرفتار کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کی ریاست تیلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں مبینہ طور پر ویٹرنری ڈاکٹر کو ریپ کے بعد قتل کرنے والے چار ملزمان کو پولیس نے ہلاک کر دیا۔
پولیس کے مطابق جمعے کی صبح ملزمان کو جائے واردات پر لے جایا گیا جہاں انہوں نے مبینہ طور پر پولیس سے اسلحہ چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ پولیس نے ایک خاتون کو ریپ کے بعد جلا دینے کے شک میں چار نوجوان لڑکوں کو گرفتار کیا تھا۔
انڈیا میں اس واقعے پر مختلف حلقوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

 

انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ان چاروں ملزمان کو واقعے کی تفتیش کے حوالے سے جائے واردات پر لے جایا گیا جہاں انہوں نے لڑکی کی لاش جلائی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران ان میں سے ایک ملزم نے دوسرے ساتھیوں کو فرار ہونے کا اشارہ کیا اور پولیس کے ہتھیار چھین کر فائرنگ شروع کر دی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
قتل کی جانے والی لڑکی کے والد نے اے این آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’میری بیٹی کی ہلاکت کو دس دن ہوگئے ہیں۔ میں پولیس اور حکومت کو شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اب میری بیٹی کی روح سکون میں ہوگی۔‘

اس واقعے کے خلاف انڈیا میں احتجاج ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی

انڈین پارلیمنٹ کے کئی اراکین نے جلد انصاف اور ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
اندرا پردیش کے ایک سابق پولیس افسر کے مطابق ان کو توقع تھی کہ ملزمان کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوگا۔
دوسری جانب سماجی کارکن ورندا گروور نے پولیس کی فائرنگ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ ناقابل قبول ہے۔ ہمیں اس قسم کا انصاف نہیں چاہیے۔ اس واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
پولیس کے مطابق 27 نومبر کو ان چار ٹرک ڈرائیوروں اور صفائی کرنے والے لڑکوں نے اس 27 سالہ خاتون کو سکوٹر پارک کرتے ہوئے دیکھا اور اس کے بعد ان کے سکوٹر کے ٹائروں کی ہوا نکال دی اور ان کے واپس آنے کا انتظار کرتے رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب وہ خاتون واپس آئیں تو ملزمان اسے سکوٹر ٹھیک کرنے کا جھانسہ دے کر ٹرک یارڈ میں لے گئے جہاں ان کا گینگ ریپ کیا گیا اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے ان کی لاش کو آگ لگائی گئی۔

شیئر: