بلوچستان میں چار مغوی لیویز اہلکار بازیاب

ڈپٹی کمشنر کچھی سلطان احمد بگٹی نے لیویز اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کی
بلوچستان کے ضلع کچھی (بولان) سے اغوا ہونے والے چار لیویز اہلکاروں کو عسکریت پسند تنظیم نے ایک ہفتے تک قید میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔
ان لیویز اہلکاروں کو چار دسمبر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ سے متصل ضلع کچھی کے علاقے سنی شوران سے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد اغوا کیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر کچھی سلطان احمد بگٹی نے لیویز اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پانچ لیویز اہلکار ایک زیر تعمیر سڑک پر کام کرنے والی تعمیراتی کمپنی کی مشینری جلانے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کا پیچھا کر رہے تھے، اس دوران ملزمان نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار کو قتل کرکے باقی چار اہلکاروں ارباب، محمد امین، نعمان گل اور حسین بخش کو ملزمان اغوا کرکے اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیم یونائٹڈ نے قبول کرتے ہوئے مغوی اہلکاروں کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔ 
لیویز اور دیگر سیکورٹی اداروں نے مغوی اہلکاروں نے کچھی کے پہاڑی علاقوں میں کارروائیاں بھی کی تھیں۔
خیال رہے آواران سے 30نومبر کو لیویز اور سی ٹی ڈی پولیس نے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے لیے سہولت کاری کے الزام میں چار خواتین کو گرفتار کیا تھا جنہیں دس روز تک قید میں رکھنے کے بعد گذشتہ روز ضمانت پر خضدار کی سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

شیئر: