’کباڑ سے شاہکار‘، دیوہیکل مجسمے بنانے والے پاکستانی آرٹسٹ
’کباڑ سے شاہکار‘، دیوہیکل مجسمے بنانے والے پاکستانی آرٹسٹ
جمعرات 26 فروری 2026 12:10
اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک بڑی ورکشاپ سے چنگاریاں اُٹھتی دِکھائی دے رہی ہیں اور دھاتوں کے ٹکرانے سے ایک گونجدار آواز سنائی دے رہی ہے۔
اس ورکشاپ میں پاکستانی آرٹسٹ احتشام جدون پُرانی گاڑیوں کے پُرزوں کو مشہور فلم ’ٹرانسفارمرز‘ اور ڈائناسورز سے متاثر ہو کر دیوہیکل شاہکاروں میں بدل رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 35 سالہ مجسمہ ساز کا سٹوڈیو میں گیئرز، زنجیریں، ہب کیپس اور انجن کے پُرزوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ ان کے بنائے ہوئے شاندار مجسمے بھی سٹوڈیو میں سجے ہوئے ہیں۔
احتشام جدون نے بتایا کہ ’میں ہمیشہ دھات کی اشیاء سے متاثر رہا ہوں۔ جب میں کباڑ میں دھات دیکھتا ہوں، تو میں فوراً اس کی وہ شکل ذہن میں لاتا ہوں جس میں اسے دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے۔‘
انہوں نے ایکشن فلم ’ٹرانسفارمرز‘ کے ایک کریکٹر کو مکمل کیا ہے جو اب تک ان کی سب سے بڑی تخلیق ہے۔ احتشام جدون اور ان کی ٹیم کو ایکشن فلم ’ٹرانسفارمرز‘ کے مرکزی کردار آپٹمس پرائم کو مکمل کرنے میں کئی مہینے لگے اور اس کے 90 فیصد سے زائد پُرزے ضائع شدہ گاڑیوں سے حاصل کیے گئے تھے۔
احتشام جدون کو ’ٹرانسفارمرز‘ کے مرکزی کردار آپٹمس پرائم کو مکمل کرنے میں کئی مہینے لگے (فوٹو: اے ایف پی)
بازو موٹر بائیک کے سپرنگز سے بنائے گئے ہیں، کندھے کار کے رمز سے مڑے ہوئے ہیں، ریڑھ کی ہڈی فیول ٹینک سے بنائی گئی ہے اور گھٹنے زنجیریں اور سسپنشن کے پرزوں سے جڑے ہیں۔
یہاں تک کہ اس کی آنکھیں بھی گاڑی کے بیرنگز سے بنائی گئی ہیں جس سے یہ مجسمہ نہایت پیچیدہ اور شاندار دکھائی دیتا ہے۔
احتشام جدون کہتے ہیں کہ ’میں ایک بلاک کو کسی شکل میں بدلتا ہوا تصور کر سکتا ہوں، تو بس میں پزل کو حل کرتا ہوں اور اسے حقیقت بنا دیتا ہوں۔‘
احتشام جدون جو مارشل آرٹسٹ رہ چکے ہیں، نے باقاعدہ طور پر آرٹ کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ اپنے دیوہیکل ماڈلز کو کام کے دوران خود ہی ڈیزائن کرتے ہیں۔
احتشام جدون کے مطابق انہیں ہر ہفتے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ چنگاریاں ان کی آنکھوں کو متاثر کرتی ہیں اور ہاتھوں اور بازوؤں پر زخم لگتے ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ یہی وہ کام ہے جس سے کے ذریعے وہ بطور فائٹر اپنی توانائیوں کو بہتر انداز میں خرچ کر سکتے ہیں۔
احتشام جدون زیادہ تر دیو قامت، طاقتور اور وحشی قسم کے مجسمے بناتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
وہ زیادہ تر دیو قامت، طاقتور اور وحشی قسم کے مجسمے بناتے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ جارحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہر ہفتے احتشام اسلام آباد کے کباڑخانوں کا دورہ کرتے ہیں جہاں وہ ٹنوں کے حساب سے ضائع شدہ دھات کے ٹکڑوں میں سے ایسے پرزے تلاش کرتے ہیں جو ان کے تخیل میں فٹ بیٹھیں اور پھر مجسموں میں بدل جائیں۔
کباڑ خانے کے مالک بوسطان خان کا کہنا تھا کہ ’جو ہمارے لیےبیکارہ ہے اسے یہ اپنے ہاتھوں سے قیمتی بنا دیتے ہیں۔‘