پاسپورٹ میں والد کا نام برقرار رکھنے کا اختیار، خواتین کی کن مشکلات میں کمی آئے گی؟
جمعرات 26 فروری 2026 15:49
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پاکستان میں شادی شدہ خواتین کی قانونی شناخت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور حکومتِ نے پاسپورٹ قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ شادی کے بعد بھی اپنے پاسپورٹ میں اپنے والد کا نام برقرار رکھ سکیں گی۔
یہ تبدیلی بظاہر ایک انتظامی فیصلہ معلوم ہوتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس کے سماجی، قانونی اور نفسیاتی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے قبل پاکستان میں خواتین کی شناخت شادی کے بعد شوہر کے نام سے منسلک ہو جاتی تھی۔
وزارتِ داخلہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے جاری کیے گئے نئے قواعد کے مطابق اب شادی شدہ خواتین کو پاسپورٹ بنواتے یا تجدید کراتے وقت یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ والد یا شوہر، دونوں میں سے کسی کا نام بھی درج کروا سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پاسپورٹ سسٹم اور سافٹ ویئر میں ضروری تبدیلیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
پرانا نظام اور خواتین کو درپیش مسائل
پاکستان میں برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ شادی کے بعد خواتین کی شناختی اور سفری دستاویزات میں شوہر کا نام شامل کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ عمل قانونی طور پر لازمی نہیں تھا، مگر عملی طور پر زیادہ تر خواتین کو یہی طریقہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل سے متعدد مسائل جنم لیتے تھے، خاص طور پر ایسی خواتین کے لیے جو بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت یا قانونی معاملات سے وابستہ تھیں۔
ایڈووکیٹ ساجد لطیف نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خواتین کے لیے ہمارے ملک میں طلاق، علیحدگی یا شوہر کے انتقال کی صورت میں دستاویزات کی تبدیلی ایک پیچیدہ مرحلہ بن جاتا رہا ہے۔ بعض خواتین کو بینکنگ، ویزا درخواستوں اور جائیداد سے متعلق امور میں اپنی شناخت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کے دوران بھی یہ موقف سامنے آیا کہ خواتین کی شناخت کو ازدواجی حیثیت سے مشروط کرنا بنیادی حقوق کے منافی ہو سکتا ہے۔‘
عدالت نے اپنے ریمارکس میں خواتین کو اپنی شناخت برقرار رکھنے کا اختیار دینے پر زور دیا، جس کے بعد حکومت نے قواعد میں ترمیم کا فیصلہ کیا۔
خواتین کے لیے شناخت کا اختیار کیوں اہم ہے؟
سماجی ماہرین کے مطابق شناخت صرف نام کا معاملہ نہیں بلکہ یہ فرد کی قانونی اور سماجی خودمختاری کو ظاہر کرتی ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ بینکر عائشہ خان کہتی ہیں کہ ’شادی کے بعد پاسپورٹ میں شوہر کا نام شامل کروانا ان کے لیے عملی مشکلات کا سبب بنا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی تعلیمی اسناد اور بین الاقوامی سرٹفیکیٹس سب والد کے نام کے ساتھ تھے، لیکن پاسپورٹ میں شوہر کا نام آنے کے بعد ہر ویزا درخواست میں وضاحت دینا پڑتی تھی۔ اب اگر خواتین کو انتخاب مل گیا ہے تو یہ بہت بڑا ریلیف ہے۔‘
لاہور کی رہائشی اور فری لانس ڈیزائنر راحیلہ سبحان کے مطابق یہ فیصلہ خواتین کے وقار سے جڑا ہوا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’شادی زندگی کا حصہ ہے، شناخت کی تبدیلی نہیں۔ کئی خواتین پیشہ ورانہ طور پر اپنے نام سے پہچانی جاتی ہیں، اس لیے والد کا نام برقرار رکھنا ان کے کیریئر کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔‘
ایڈووکیٹ ساجد لطیف کے مطابق یہ تبدیلی دراصل بین الاقوامی رجحانات کے مطابق ہے جہاں زیادہ تر ممالک خواتین کو شادی کے بعد شناخت تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شناختی دستاویزات کا نظام بتدریج فرد کی خودمختار شناخت کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس میں نادرا اور پاسپورٹ نظام کی ڈیجیٹل اصلاحات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق اس فیصلے سے خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی خواتین کو فائدہ ہو گا، کیونکہ مختلف ممالک میں نام یا شناخت کی تبدیلی اضافی قانونی پیچیدگیاں پیدا کر دیتی ہے۔
انتظامی تبدیلیاں
وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد خواتین کو اضافی سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی موجودہ طریقہ کار کو ختم کرنا۔ یعنی جو خواتین شوہر کا نام درج کروانا چاہیں تو وہ بدستور ایسا کر سکیں گی۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’درخواست فارم، بائیو میٹرک نظام اور ڈیٹا بیس کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے تاکہ درخواست کے وقت خواتین اپنی مرضی کا انتخاب کر سکیں۔‘
حکام کے مطابق یہ اصلاح لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں متعارف کرائی گئی، جہاں عدالت نے خواتین کو اپنی قانونی شناخت برقرار رکھنے کا اختیار دینے کی ہدایت کی تھی۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مشاورت کی، پاسپورٹ درخواست کے سافٹ ویئر کو نادرا کے تعاون سے اپڈیٹ کیا اور نظام میں تکنیکی تبدیلیاں کیں۔
حکام کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر قانون کی رہنمائی میں یہ عمل مکمل کیا گیا جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان نے بھی مشاورتی عمل میں تعاون فراہم کیا۔
25 فروری 2026 کو سرکاری حکام اور یو این ویمن کے نمائندوں کی موجودگی میں نئی درخواست پر کارروائی کی گئی جسے خواتین کے لیے باوقار اور خودمختار شناخت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
سماجی مبصرین اس اقدام کو محض دستاویزی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی سوچ میں بتدریج تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین کی شناخت اکثر خاندانی رشتوں سے منسلک کی جاتی ہے، وہاں ریاست کی جانب سے انفرادی شناخت کے حق کو تسلیم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔
