Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فائیو جی کی نیلامی سے قبل فائروال کی بندش، حکومتِ پاکستان کا موقف کیا ہے؟

پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پاکستان میں فائروال کی بندش سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائروال یا ویب مینجمنٹ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن  کے اجلاس میں سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشمی نے بتایا کہ ’فائر وال ہٹانے کی خبریں دُرست نہیں اور فائروال یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا ویب مینجمنٹ سسٹم بند نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر فعال ہے۔‘
واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں فائر وال کی بندش سے متعلق اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
جمعرات کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جب وزارتِ آئی ٹی اور پی ٹی اے سے استفسار کیا گیا کہ کیا فائیو جی نیلامی سے پہلے فائروال بند کر دی گئی ہے؟
اس کے جواب میں حکام نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’فائروال یا ویب مینجمنٹ سسٹم کو بند نہیں کیا گیا۔‘
ان کے مطابق یہ دراصل فائروال نہیں بلکہ پی ٹی اے کا ویب مینجمنٹ سسٹم ہے، جو 2006 سے فعال ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’ہمارا ویب مینجمنٹ سسٹم اب تک چار بار اپڈیٹ ہو چکا ہے اور اس سسٹم کو لاگو کرنے سے گرے ٹریفک میں کمی آئی ہے۔‘
اُنہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’اس سسٹم کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کیا جا سکتا ہے اور ہم نے حکومتی حکم پر ’ایکس‘ کو ویب مینجمنٹ سسٹم کے تحت ہی بند کیا تھا۔‘
انہوں نے اپنی بریفنگ میں مزید بتایا کہ ’ویب مینجمنٹ سسٹم کی آخری اپ گریڈیشن 2023 میں ہوئی تھی، جبکہ اب تک حکومت اور عدالتی حکم پر سات بار پلیٹ فارمز کو بند کیا جا چکا ہے۔‘
چیئرمین پی ٹی اے کا فائیو جی نیلامی سے پہلے فائروال کی بندش کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ویب مینجمنٹ سسٹم ٹیکنالوجی کو سُست نہیں کرتا، لیکن ساتھ ہی ہماری ڈیجیٹل سرحدوں کا تحفظ بھی ضروری ہے، اس لیے یہ سسٹم اپنے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔‘
فائر وال کی بندش سے متعلق کیا خبریں گردش کرتی رہیں؟
یہ سال 2024 کی بات ہے، جب حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے فائروال یا ویب منیجمنٹ سسٹم نصب کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم گذشتہ دنوں یعنی قریباً دو سال بعد اسی نظام کو بند کرنے کی خبریں سامنے آئیں۔
فائروال کے خاتمے کی وجوہات یہ بتائی گئیں کہ اس کا نظام تکنیکی مسائل کا شکار رہا اور قومی ٹیلی کام نیٹ ورک کے ساتھ صحیح طور پر جُڑ نہیں سکا۔
مزید یہ کہ جی فائیو سپیکٹرم کے آغاز سے پہلے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے فائروال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم حکومت کی جانب سے کوئی واضح موقف نہ آنے کی وجہ سے صورتِ حال میں مزید ابہام پیدا ہو گیا تھا۔
فائروال کی بندش کے حوالے سے خبریں پارلیمان میں بھی زیر بحث آئیں، جہاں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
فائروال کی تنصیب اور اس سے جُڑے تنازعات
پاکستان میں فائروال کی تنصیب متنازع اور تنقید کا شکار رہی ہے۔ حکومت نے سب سے پہلے سال 2020 میں یہ منصوبہ شروع کیا تھا، جس کی ٹیسٹنگ اور تنصیب کا عمل سال 2024 میں کیا گیا جس پر اربوں روپے کی لاگت آئی۔
فائروال کی تنصیب کا معاملہ شروع سے ہی ابہام کا شکار رہا۔ آغاز میں حکومت کی جانب سے فائروال کے حوالے سے کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی گئی تھی، لیکن بعد ازاں باضابطہ طور پر بتایا گیا کہ یہ منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان میں آزادیِ اظہار رائے کے لیے کام کرنے والے سوشل میڈیا کارکن اور مختلف ادارے فائروال کے اس حکومتی منصوبے پر سخت تنقید کرتے آئے ہیں۔
کچھ سیاسی حلقے بھی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس سسٹم کے ذریعے مخصوص سیاسی آوازیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کا مقصد صرف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو روکنا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے فائر وال کے ساتھ وی پی این کو رجسٹر کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، جس کے تحت متعدد وی پی این رجسٹر کیے گئے ہیں تاکہ فری لانسرز اور آن لائن کاروبار کرنے والے نوجوان اس سے جُڑے رہیں۔
یوں فائروال کی تنصیب نہ صرف آئی ٹی اور فری لانسرز سے وابستہ افراد کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سیاسی حلقوں اور آزادیٔ اظہار رائے کے شعبے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
فائر وال کیسے کام کرتی ہے؟
آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق فائروال دراصل ایک سکیورٹی نظام ہے جو انٹرنیٹ پر آنے اور جانے والے ڈیٹا کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا مقصد غیر قانونی یا نقصان دہ مواد کو روکنا اور نیٹ ورک کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔
فائروال ہر ڈیٹا پیکٹ کو چیک کرتی ہے اور پہلے سے مقررکردہ قواعد کے مطابق فیصلہ کرتی ہے کہ اسے گزرنے کی اجازت دی جائے یا روک دیا جائے۔
عام طور پر فائروال کو سوشل میڈیا یا ویب سائٹس کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قانون یا حکومتی پالیسی کے خلاف سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ اس کا مقصد صرف نگرانی اور فلٹرنگ ہوتا ہے، تاکہ انٹرنیٹ کا محفوظ اور منظم استعمال ممکن ہو۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے مزید بات کرنے کے لیے ملک کے آئی ٹی ماہرین سے بھی گفتگو کی ہے۔
پاکستان کی معروف ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ صدف خان سمجھتی ہیں کہ ’فائروال کی تنصیب سے لے کر اب  تک صرف ایک چیز قدرِ مشترک ہے، اور وہ ہے حکومت کی ناقص حکمتِ عملی۔‘
ان کے مطابق فائروال ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے نصب ہوئی، جس سے نہ صرف آزادیٔ اظہار متاثر ہوئی بلکہ فری لانسرز اور آن لائن کاروبار کرنے والے بھی متاثر ہوئے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ آغاز میں جب فائروال کی تنصیب کی خبریں سامنے آئیں تو حکومت نے اسے مکمل طور پر مسترد کیا، لیکن بعد ازاں اس معاملے کی تصدیق کی گئی۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ ’کیا فائیو جی کے آغاز کے پیشِ نظر فائروال کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ فی الحال یہ محض قیاس آرائیاں ہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ بات البتہ دُرست ہے کہ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے وی پی این کی ضرورت پڑے اور رکاوٹیں پیدا ہوں، تو یہ انٹرنیٹ کی رفتار اور ٹیکنالوجی میں مزید بہتری کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔‘
اسی طرح اسلام آباد میں مقیم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر روحان زکی سمجھتے ہیں کہ ’فائر وال اور جدید انٹرنیٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’صرف فائروال ہی نگرانی کے لیے استعمال نہیں ہوتی، بلکہ اب اس کے متبادل نظام بھی آگئے ہیں اور ایک طرح سے فائیو جی انٹرنیٹ بھی ایک قسم کی نگرانی فراہم کرتا ہے۔‘

شیئر: