پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی میں حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پر اسمبلی میں تقریر پر دوسری بار مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ آئین کے تحت اسمبلی میں کی گئی کسی تقریر پر کسی رکن کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔
بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران گوادر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے ایوان کو بتایا تھا کہ ان کی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر دوسری بار مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے بعد ارکان اسمبلی کے استحقاق اور آئینی تحفظ پر بحث شروع ہوئی۔
مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل گوادر کے ایک دیہات سنتسر کے تھانے میں بھی ان کی اسمبلی تقریر پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس پر وہ خود گرفتاری دینے گئے، عدالت میں پیش ہوئے اور بعد ازاں عدالت نے مقدمہ خارج کر دیا۔
مزید پڑھیں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب قلعہ عبداللہ کے لیویز تھانے میں بھی اسمبلی کے اندر تقریر کرنے پر ان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی انہیں بروقت اطلاع نہیں دی گئی بلکہ اس بنیاد پر انہیں اشتہاری بھی قرار دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک پرامن سیاسی کارکن ہیں، آئین اور ریاست کو مانتے ہیں اور ہمیشہ آئینی و جمہوری طریقہ کار کے تحت جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر ملکی سالمیت کے خلاف تقریر کا الزام لگایا گیا ہے جو غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم مسلح یا خفیہ جدوجہد کے قائل نہیں ہیں۔ ہم آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرتے ہیں۔ اگر اسمبلی کے اندر تقریر پر بھی ایف آئی آر کاٹی جائے گی تو پھر ہم کہاں بات کریں؟ ہم بلوچستان میں ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، چاہے ہمارے خلاف پورے صوبے میں مقدمات درج کر دیے جائیں۔‘
جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت اسمبلی کے اندر کی گئی تقریر پر کسی رکن کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ یہ آئین کی خلاف ورزی اور\ ارکان کے پارلیمانی استحقاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوسری بار ہے کہ مولانا ہدایت الرحمان کی اسمبلی تقریر پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اگر گوادر والے مقدمے پر کارروائی ہوتی تو آج یہ دوسرا مقدمہ درج نہ ہوتا۔ ایس ایچ او نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس پر انہیں سزا دینی چاہے۔ اگر کسی ایس ایچ او کو آئین کا علم نہیں تو اسے وہاں رہنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایوان کے تقدس اور ارکان کے استحقاق کا تحفظ سپیکر کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم یہاں بات کریں اور باہر جا کر اس پر ایف آئی آر ہو جائے تو پھر اسمبلی چلانے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اسمبلی سے کیمرے نکال دیئے جائیں تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چل سکیں کہ اندر کیا تقریر ہوئی اور مقدمات درج نہ ہو۔‘

سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے مولانا ہدایت الرحمان سے پوچھا کہ کیا ایف آئی آر اسمبلی کے اندر کی گئی تقریر پر درج ہوئی ہے یا اسمبلی کے باہر کسی تقریر پر۔ مولانا ہدایت الرحمان نے جواب دیا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ اسمبلی تقریر کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ مدعی نے کہا کہ انہوں نے موبائل میں تقریر سنی۔
مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت کے رہنما کو مدعی کے پاس بھیجا اور اس سے پوچھا تو مدعی نے ایک ادارے کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے ان کے دباؤ میں آ کر مقدمہ درج کرایا ہے۔
سپیکر نے کہا کہ اس کیس کی تفصیلات منگوائی جائیں گی اور متعلقہ ایس ایچ او کو بھی طلب کیا جائے گا۔
انہوں نے مولانا ہدایت الرحمان کو مشورہ دیا کہ وہ عدالت سے رجوع کر کے ضمانت حاصل کریں تاکہ ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات سامنے آ سکیں۔
تاہم اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے موقف اختیار کیا کہ محض ایس ایچ او کو بلانا کافی نہیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟
یہ مقدمہ 12 ستمبر 2025 کو قلعہ عبداللہ کے لیویز تھانے میں محمد وارث کاکوزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 500، 505، 153-اے اور 131 کے علاوہ لوڈ اسپیکر ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی محمد وارث کاکوزئی نے بیان دیا کہ میں اسلامی جمہوری پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری ہوں کہ 12ستمبر 2025 کو بوقت صبح نو بجے میں اپنے گھر میں نیوز سن رہا تھا کہ اس اثنا میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان حلقہ پی بی 24 گوادر تقریر کررہا تھا اور فوج، ملکی اداروں کے خلاف عام شہریوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کررہا تھا۔

متن میں مزید کہا گیا ہے کہ’ اس قسم کی تقریر اور بیان سے یہ تاثر ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ملک پاکستان کے خلاف ایک بڑی سازش، ملکی اداروں کے خلاف عوام کو سوچی سمجھی سازش کے تحت مہم سازی کر رہا ہے جس سے ملک کے ساکھ کو نقصان پہنچا اور افغان اور پاکستانی شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔ ملزم کے خلاف دعویدار ہوں۔ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘
تاہم ایف آئی آر کے متن میں یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تقریر کون سی تھی اور کہاں کی گئی تھی۔
آئین کا آرٹیکل 66 کیا کہتا ہے؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 66 کے مطابق، آئین اور پارلیمنٹ کے قواعدِ کار کے تابع، پارلیمنٹ میں اظہارِ رائے کی آزادی ہوگی اور کسی رکن کو پارلیمنٹ میں کہی گئی کسی بات یا دیے گئے ووٹ کے سلسلے میں کسی عدالت میں کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح پارلیمنٹ کی کارروائی یا اس کے تحت شائع ہونے والی کسی رپورٹ یا دستاویز پر بھی کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
![]()











