انڈین وزیراعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل پر اندرون ملک تنقید ہوئی ہے۔
مودی نے یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’انڈیا اور اسرائیل واضح ہیں کہ دہشت گردی کے لیے دنیا میں کوئی جگہ نہیں، کسی بھی شکل میں۔ ہم کندھے سے کندھا ملا کر اس کی مخالفت کریں گے۔ ہم مستقبل میں ہمیشہ اس کی مخالفت کریں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انسانیت کو کبھی تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
نریندر مودی نے ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں اسرائیل اور انڈیا کے درمیان مستقبل میں تعاون کی بات کی۔
انڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’ایک ساتھ مل کر ہم مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی طرف آگے بڑھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ ہم سول نیوکلیئر توانائی اور خلا جیسے شعبوں میں بھی اپنے تعاون کو مزید بڑھائیں گے۔‘
نیتن یاہو نے مودی کے دورے کو ’زبردست‘ اور ’غیرمعمولی نتائج‘ کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر جدید اشیا بنانے کی بھی بات کی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’مستقبل ان لوگوں کا ہے جو جدت لاتے ہیں، اور اسرائیل اور انڈیا نئی ایجادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں قدیم تہذیبوں پر فخر ہے، اپنے ماضی پر بہت فخر ہے۔ مستقبل کو اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں، اور ہم مل کر اسے بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔‘
پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، جیو فزیکل ایکسپلوریشن اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
انڈین وزیراعظم نے کہا کہ انسانیت کو کبھی تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ فوٹو: اے ایف پی
’ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں‘
بدھ کو مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں قانون سازوں سے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ’مضبوطی سے‘ کھڑا ہے۔
مودی نے کہا، ’میں انڈیا کے لوگوں کی طرف سے ہر اُس خاندان سے تعزیت کرتا ہوں جو 7 اکتوبر کو حماس کے وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملے میں بکھر گئے تھے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، ہم آپ کے دکھ میں شریک ہیں۔ ہندوستان اس لمحے اور اس سے آگے پورے یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔‘