Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران امریکہ کے جنیوا میں مذاکرات کا آغاز، کیا یہ ملاقات ممکنہ جنگ کو ٹال پائے گی؟

ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں بعد ہونے والی سب سے بڑی امریکی عسکری صف بندی کے بعد جنگ کو روکنے کی ایک ’آخری کوشش‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعرات کوعمان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے ایرانی اور امریکی وفود سخت سکیورٹی میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پہنچے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران جلاوطن ایرانیوں کے احتجاج اور ایرانی وفد کے قافلے پر اشیاء پھینکنے کے واقعے کے بعد یہاں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھے گئے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین نے ’نئے اور تخلیقی خیالات اور حل کے لیے غیر معمولی آمادگی‘ کا اظہار کیا ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی خواہش نہیں
مذاکرات سے قبل ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ’بالکل بھی‘ ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے۔
انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہمارے سپریم لیڈر پہلے ہی بیان دے چکے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بالکل نہیں ہوں گے۔‘
توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ایٹمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی بھی جنیوا میں ان اہم بات چیت کا حصہ بنیں گے۔
اگرچہ ایران کا اصرار ہے کہ یہ مذاکرات صرف اس کے ایٹمی پروگرام تک محدود رہیں لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ تہران اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت میں بھی کمی کرے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا ہو گی۔
انہوں نے بیلسٹک ہتھیاروں پر بات چیت سے تہران کے انکار کو ایک ’بہت بڑا مسئلہ‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’صدر سفارتی حل چاہتے ہیں۔

گزشتہ برس جون میں بھی مذاکرات اس وقت ختم ہو گئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں کو ’سنجیدگی‘ سے لے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے پاس فوجی کارروائی کا حق محفوظ ہے کیونکہ ’آپ دنیا کی بدترین حکومت کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ’سٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں ایران پر ’ناپاک ایٹمی عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کے لیے خطرہ ہیں اور جلد ہی وہ امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کو ’بڑا جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ ملک گیر احتجاجی لہر کے دوران ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران کے مطابق ان کے میزائلوں کی حد دو ہزار کلومیٹر ہے جبکہ امریکی تحقیقی اداروں کے مطابق یہ تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے جو کہ امریکہ تک پہنچنے کے فاصلے کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ بحیرہ روم میں موجود ہے۔ دوسری جانب ایران کو اندرونی طور پر بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ ملک گیر احتجاجی لہر کے دوران ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں اور اب ایرانی یونیورسٹیوں کے گرد دوبارہ احتجاج شروع ہو رہا ہے۔
قحط آئے گا اور لوگ تکلیف اٹھائیں گے
تہران کے رہائشی اس صورتحال پر تقسیم نظر آتے ہیں۔ 60 سالہ گھریلو خاتون طیبہ نے اے ایف پی کو بتایا ’جنگ ہوئی تو قحط آئے گا اور لوگ بہت تکلیف اٹھائیں گے۔ لوگ اب بھی تکلیف میں ہیں لیکن کم از کم جنگ سے ہماری تقدیر تو واضح ہو سکتی ہے۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جو ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، ان مذاکرات کو ایک ’تاریخی موقع‘ قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہ راستہ کٹھن ہے۔
گزشتہ برس جون میں بھی مذاکرات اس وقت ختم ہو گئے تھے جب اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایک مختصر جنگ چھڑ گئی تھی۔

شیئر: