Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں‘

پولیس نے پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے مزید 29 وکلا کو گرفتار کر لیا ہے فوٹو: روئٹرز
لاہور ہائی کورٹ میں پی آئی سی حملے میں گرفتار وکلاء کی رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکلا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ جج کا کہنا ہے کہ وکلا نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ اعجاز احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا۔
سماعت کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مکمل وکلاء کمیونٹی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ تمام لیسکو کے ملازمین ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پولیس کے پاس کسی پر تشدد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یہ معزز پیشہ ہے ہم نے اس معاملے کو طول نہیں دینا، ہم سب سے زیادہ دل گرفتہ ہیں۔ ہم وکلاء کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔‘
جسٹس علی باقر نجفی نے اعظم نذیر تارڑ کی وضاحت پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی جرات کیسے ہوئی ہسپتال پر حملہ کرنے کی، آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں۔‘
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ’آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں ہیں، ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔‘؎
عدالت نے وکلا کی گرفتاریوں پر سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے گرفتار وکلاء کے میڈیکل کرانے کے فیصلہ  پر عملدرآمد کا حکم بھی دیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان اور پنجاب کی تمام وکلا تنظیموں کی کمیٹی نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے پر افسوس کا اظہار کیا۔
اس افسوس کا اظہار لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری کی عمارت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ وکیل رہنما حامد خان سمیت سپریم کوٹ بار، لاہور بار، اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدور نے اس مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پی آئی سی کا واقعہ قومی المیے سے کم نہیں، ہم بہت تکلیف میں ہیں، جو افراد انتقال کر گئے ان کا بھی افسوس ہے، ہمیں بہت دکھ ہے، جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ’آپ کی جرات کیسے ہوئی ہسپتال پر حملہ کرنے کی۔‘ فوٹو: اے ایف پی

تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ پی آئی سی واقعے میں صرف وکلاء کو مورود الزام ٹھرانا مناسب نہیں۔ان کے مطابق ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کے وکلا پر تشد سے معاملہ شروع ہوا جسے غفلت کی وجہ سے بڑھایا گیا جس پر یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا پر تشدد کی ایف آئی آر میں تاخیر کی گئی اور پھر اس پر عملدرآمد بھی نہیں کیا گیا۔
سینئر وکلا کا کہنا تھا کہ وکلا اور ڈاکٹرز کے درمیان مذاکرات کو جان بوجھ کے سبوتاژ کیا گیا اور ڈاکٹرز کی ویڈیو وائرل کی گئی جس سے اشتعال پھیل گیا۔
حامد خان کا کہنا تھا ’کچھ قوتیں وکلاء کو معاشرے میں تنہا کرکے ملک میں آمریت لانا چاہتی ہیں۔ اس سارے معاملے کی انکوائری سپریم کورٹ کے جج کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے وکلا کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا یہ ایک تذلیل آمیز حکومتی رویہ تھا۔ انہوں نے تمام وکیلوں کو فل فور رہا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار وکلا کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ادھر لاہور پولیس نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے مزید 29 وکلا کو گرفتار کر لیا ہے۔ جس کے بعد اب تک گرفتار وکلا کی تعداد 81 ہو گئی۔ نئے گرفتار کیے جانے والے وکلا کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج عبدالقیوم کیس کی سماعت کریں گے۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں ملحقہ راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
جبکہ ایک روز قبل جیل بھیجے جانے والے وکلا نے اپنی ضمانت کے لیے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا رکھی ہے جس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو ضمانت کی درخواستوں پر سماعت آج ہی کرے گا۔
دوسری طرف پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کام ابھی بند ہے اور سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت نہیں دی جا سکی نہ ہی آپرین ہو سکے۔

حامد خان کا کہنا تھا کچھ قوتیں وکلاء کو معاشرے میں تنہا کرکے ملک میں آمریت لانا چاہتی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

خیال رہے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے الزام میں گرفتار 46 وکلا کو جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا تھا، جنہیں عدالت نے 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
دوسری جانب وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جمعے کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دے دی تھی۔
بدھ کو پیش آنے والے واقعے کے بعد لاہور کے تھانہ شادمان میں وکلا کے خلاف دہشت گردی کے دو مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔ ایک مقدمہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کی مدعیت میں جبکہ دوسرا پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کیا تھا جس میں وکلا پر پولیس وین کو نذر آتش کرنے اور ہوائی فائرنگ کے الزمات لگائے گئے ہیں۔
 ایف آئی آر میں 21 وکلا اور 250 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دونوں مقدموں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔

شیئر: