پی آئی سی ہنگامہ آرائی: ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بدھ کو پیش آنے والے سانحہ میں ملوث ملزمان وکلا کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جمعے کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دے دی ہے۔
جمعرات کو 46 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج عبدالقیوم خان کے روبرو پیش کیا گیا۔
ملزمان وکلا کی ترجمانی کے لیے غلام مرتضیٰ چوہدری، ایڈوکیٹ صغراں گلزار، ایڈوکیٹ نوشین عمبر اور ایڈوکیٹ طاہر منہاس عدالت میں پیش ہوئے۔
خصوصی عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام گرفتار وکلا کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
گرفتار وکلا کو دہشت گردی عدالت میں پیش کرنا پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ چائنہ چوک میں موجود انسداد دہشت گردی عدالت کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پنجاب پولیس کی جانب سے 52 وکلا کی فہرست جاری کی گئی تھی جن کو گذشتہ روز موقع سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بدھ کو پیش آنے والے واقعے کے بعد لاہور کے تھانہ شادمان میں وکلا کے خلاف دہشت گردی کے دو مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔ ایک مقدمہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کی مدعیت میں جبکہ دوسرا پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کیا تھا جس میں وکلا پر پولیس وین کو نذر آتش کرنے اور ہوائی فائرنگ کے الزمات لگائے گئے ہیں۔
 ایف آئی آر میں 21 وکلا اور 250 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دونوں مقدموں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔ 

وکلا کی پنجاب بھر میں ہڑتال 

 بدھ کو پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد سے صورت حال بدستور کشیدہ رہی۔
وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جمعے کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ کمیٹی کے مطابق پورے پاکستان میں کوئی بھی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہو گا۔
کمیٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ گرفتار وکلا پر پوری رات پولیس نے تشدد کیا اور تضحیک آمیز انداز میں آج عدالت میں پیش کیا گیا۔
وکلا ایکشن کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری کے لائسنس معطل کرنے کے اقدام کی بھی مذمت کی ہے۔
پنجاب بار کونسل کی کال پر آج جمعرات کو پنجاب بھر کی ماتحت عدالتیں بند رہیں جس سے مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ گرفتار وکلا کو رہا کیا جائے۔
 

قراداد کے تحت وکلا ایکشن کمیٹی بھی بنائی گئی جو لاہور بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں پر مشتمل ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر کو کمیٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا۔
کمیٹی نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ملاقات کی اور اجلاس میں کیے گئے فیصلے ان کے سامنے رکھے گئے۔ 
وکلا تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ واقعے کے بعد گرفتار52 وکیل فوری رہا کیے جائیں۔
حکومت نے وکلا کی متوقع ریلی اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر شہر کی حساس عمارتوں جن میں آئی جی پنجاب کا دفتر بھی شامل ہے، پر رینجرز تعینات کر دیے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق 10 پلاٹوں اور دو کمپنیز شہر کے حساس مقامات پر تعینات کی گئی۔
وکلا کی ہڑتال کے باعث عدالتوں میں متعدد کیس ملتوی کردیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کو بھی احتساب عدالت پیش نہیں کیا جا سکا۔
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے متاثرہ حصوں اور تباہ شدہ مشینوں کی مرمت کا کام ابھی شروع نہیں کیا جا سکا تاہم  ہسپتال کے فنکشنل حصوں میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔

وکلا تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ واقعے کے بعد گرفتار35 وکیل فوری رہا کیے جائیں (فوٹو:اے ایف پی)

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے تین دن کے لیے یوم سیاہ منانے کا اعلان کررکھا ہے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان حسیب نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم نے ہڑتال کی کال نہیں دی صرف یوم سیاہ منائیں گے۔ پی آئی سی تو تباہ ہوا پڑا چیزیں ٹھیک ہوں گی تو کام چلے گا جہاں جہاں ممکن ہے اور مشینری کام کر رہی ہے وہاں وہاں ڈاکٹر مریضوں کو دیکھ بھی رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہم ہڑتال پر نہیں ہیں اس کا فیصلہ تین روزہ سوگ ختم ہونے کے بعد کیا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ تشدد میں ملوث وکلا کا دہشت گردی کے مقدمات میں ٹرائل کیا جائے۔‘

شیئر: