’ہجوم کی جانب سے انصاف تباہ حال نظام کی نشان دہی‘

ہجوم بلا تحقیق و تفتیش ایک ملزم کو مجرم سمجھ کر سزا سناتا نہیں بلکہ دیتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں دو بھائیوں کا قتل کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ مردان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل کا واقعہ بھی سب کو یاد ہوگا اور کراچی کے نوجوان ریحان کا قتل شاید کبھی نہ بھولنے والا واقعہ ہے جسے چوری کے الزام میں ہجوم نے تشدد کرکے مار دیا تھا۔
اس طرح کے کتنے ہی واقعات ہیں جو معاشرے میں رونما ہوتے ہیں۔ ان پر بحث ہوتی ہے، متعلقہ اداروں کا کردار زیر بحث آتا ہے اور پھر سب بھول جاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں عموماً غیر منظم گروہ کسی بھی واقعے پر از خود پولیس اور جج کا کردار ادا کرتے ہوئے بلا تحقیق و تفتیش ایک ملزم کو مجرم سمجھ کر سزا سناتا نہیں بلکہ دیتا ہے۔
ہجوم کے انصاف کے کچھ اور مناظر بھی ہم ٹی وی سکرینوں پر دیکھتے ہیں۔ فیصل آباد اور ملتان کی عدالتوں میں وکلا بھری عدالت میں انصاف کی کرسی پر بیٹھے جج کو تھپڑ مارتے ہیں۔ وکلا ججز چیمبرز کو تالے لگا دیتے ہیں۔ لاہور کچہری میں وکلا میڈیا پر تشدد کرتے ہیں۔

 

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نام پر مسیحا اپنے مطالبات کے لیےجب چاہے ہسپتالوں میں ہڑتال کرتے ہیں۔ مریضوں کے لواحقین اور ڈاکٹرز کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے میں سامنے آنے والے چند واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہڑتالی کلچر تھا۔
ہجوم کے انصاف کے اس انداز نے انصاف کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشان کر دیا ہے۔ قانون دان سمجھتے ہیں کسی بھی نا انصافی سے نمٹنے کے لیے ادارے اور قانون موجود ہیں لیکن اس قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے حکمت عملی بنانا پالیسی سازوں کا کام ہے۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ صباحت رضوی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’غیرمنظم اور منظم ہجوم کی جانب سے انصاف کےکلچر کا فروغ دراصل تباہ حال نظام کی نشان دہی ہے۔ انتطامیہ، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب ذمہ دار ہیں۔ پالیسی ساز اس وقت نظام کی بہتری کے بجائے یک طرفہ احتساب پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور معاشرے میں لا قانونیت اور ناانصافی بڑھتی جا رہی ہے۔‘
ایڈووکیٹ مدثر فاروق سمجھتے ہیں کہ ’ ہجوم کے انصاف کی وجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ اپنی اصل سے دور جا چکا ہے۔ وکیل، ڈاکٹر، بیوروکریٹ، یہاں تک کہ سیاسی جماعتیں بھی جتھوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔
ان کے مطابق ہر کوئی اپنے جتھے کو درست سمجھتا ہے اوراسی کے ساتھ چلتا ہے۔ منظم اور غیر منظم ہجوم کے ’انصاف‘ کا راستہ روکنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ بیانیہ تبدیل کیا جائے۔ کسی نئے بیانیے کی طرف جانے کے بجائے اس خطے کی برداشت کے بیانیے کو اپنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں جتھہ بازی اور نفرت کی سیاست سے نکل کر حقوق اور نظریے کی سیاست کریں۔

بدھ کو لاہور میں مشتعل وکلا کے ہجوم نے پی ائی سی ہسپتال پر ’دھاوا‘ بول دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب کسی بھی ہجوم کو ایک حد تک محدود رکھنے، کسی بھی ہنگامہ آرائی سے نمٹنے، عوام الناس کے جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا ادارہ پولیس ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اساتذہ، نابینہ اور معذور افراد کا احتجاج ہو تو پولیس اہلکاروں کا ڈنڈہ خوب چلتا ہے۔ لیکن منظم گروپوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرنے میں ہی اتنا وقت گزر جاتا ہے کہ معاملہ بگاڑ سے بھی آگے نکل چکا ہوتا ہے۔
بدھ کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا کے دھاوا بولنے کے واقعہ کو سامنے رکھا جائے تو پولیس انھیں روکنے میں ناکام نظر آئی۔ پولیس کی جانب سے کارروائی تب عمل میں لائی گئی جب وکلا اپنا کام مکمل کر چکے تھے اور پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا۔
پولیس ماہرین کے مطابق پولیس کے اس رویے کی وجہ وکلا تحریک کے نتیجے میں عدلیہ کی جانب سے وکلا کو ملنے والی حمایت اور ماڈل ٹاون جیسے سانحات کے بعد سیاسی حکومتوں کی جانب سے ملبہ پولیس پر ڈالنے جیسے اقدامات بنے ہیں۔
اردو نیوز سے گفتگو میں سابق آئی جی سندھ پولیس افضل شگری نے کہا کہ ’کسی بھی بپھرے ہجوم کو روکنا پولیس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پولیس کو سپورٹ نہیں کرتی۔ پولیس کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ حکومت اپنا سارا کیا دھرا پولیس افسران پر ڈال دیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے از خود کارروائی نہ کرنا ہمارے لیے فکر مندی کی بات ہے۔ نہ صرف محکمے بلکہ ریاست کے لیے بدنامی ہے۔ یہ صورت حال صرف پنجاب میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے۔ اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ملک کو کیسے چلانا چاہتی ہے۔‘

ہجوم کے انصاف کے اس انداز نے انصاف کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشان کر دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

افضل شگری نے کہا کہ ’ہیلمٹ پہنا کر ہاتھ میں ڈنڈا دے کر پولیس فورس کھڑی کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پولیس کو آپریشنل خودمختاری اور سیاسی حکومت کی مکمل حمایت دینا ہوگی۔ پنجاب کا وزیر خود پولیس کو کارروائی سے روک رہا تھا تو ایسے میں صرف پولیس کو مورد الزام ٹھہرانا بھی مناسب نہیں۔‘
سابق آئی جی پنجاب پولیس خواجہ خالد فاروق ہجوم کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائی میں تاخیر کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس پریشر گروپس اور حکومت کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے حکومت پریشر گروپس کے دباو پر ڈی پی او کا تبادلہ کر دیتی ہے۔ صورت حال سے نکلنے کا فیصلہ بھی حکومت کو ہی کرنا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پولیس زیادتی نہیں کرتی۔ سارا دن پتھر کھانے والے پولیس اہلکار جب کارروائی کرتے ہیں ان کا ردعمل زیادہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس کارروائی کے بعد پریشر گروپس تو بچ جاتے ہیں اور پولیس پھنس جاتی ہے۔ وکلا کی مثال ہی لے لیں انھوں نے ججز تک کو مارا ہے۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایسی صورت حال میں پولیس بھی ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہے۔‘
خواجہ خالد فاروق نے کہا کہ’ کوئی سیاسی جماعت وکلا کے خلاف سٹینڈ نہیں لیتی۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے کوشش کی لیکن انھیں بھی کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ جب تک پولیس کو سیاسی حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی پولیس پریشر گروپس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکے گی۔‘ 

شیئر: