پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی، وکلا پر دہشت گردی کا مقدمہ

پنجاب بار کونسل نے پنجاب بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو:سوشل میڈیا)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بدھ کو پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد پنجاب بھر میں وکلا ہڑتال پر ہیں۔
بدھ کو پیش آنے والے واقعے کے بعد لاہور کے تھانہ شادمان میں وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں 21 وکلا کو نامزد کیا گیا ہے۔ 
پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322، 440، 4452، 353، 186، 354، 148، 149، 395 اور 337 ایچ (2) شامل کی گئی ہیں۔ 
بدھ کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا اورینگ ڈاکٹرز کے درمیان تصادم کے بعد پنجاب بار کونسل نے جمعرات کو ہڑتال کی کال دی تھی۔
چیئرمین پنجاب بار کونسل شاہنواز اسماعیل کی زیر صدارت پنجاب بار کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پنجاب بھر میں ہڑتال اور احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
وکلا کی ہڑتال کے باعث عدالتوں میں متعدد کیس ملتوی کردیے گئے ہیں، مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کو بھی احتساب عدالت پیش نہیں کیا جائے گا۔ 
دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز اور پیر امیڈیکل سٹاف پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے تین دن کے لیے یوم سیاہ منانے کا اعلان کررکھا ہے۔
 
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان حسیب نے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کو بتایا ہے کہ ہم نے ہڑتال کی کال نہیں دی صرف یوم سیاہ منائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ تشدد میں ملوث وکلا پر دہشتگردی کے مقدمات درج کیے جائیں۔
بدھ کو لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اس وقت تشویشناک صورت حال پیدا ہو گئی جب لاہور بار ایسوسی ایشن کے سینکڑوں وکلا نے ہسپتال پر اچانک ’دھاوا‘ بول دیا۔
پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان  نے پی آئی سی واقعے میں تین مریضوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
لاہور میں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمیں راشد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ان پر ہونے والا حملہ مسلم لیگ ن کی سازش ہے، حملہ آوروں کی حمزہ شہباز، مریم نواز کے ساتھ تصویریں بھی موجود ہیں۔ پیچھے سے فائرنگ کی گئی اور اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ’جن لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا ان کی لسٹ سوشل میڈیا پر آنا شروع ہو گئی ہے۔
جب میڈیا پر وکیلوں اور ڈاکٹرز میں جھگڑے کی خبریں آئیں تو عثمان بزدار نے اسلام آباد سے فون کر کے موقع پر پہنچنے اور ثالثی کرنے کا کہا جس پر وہاں پہنچا۔
انہوں نے کہا ’دو تین افراد نے مجھے اٹھانے کی کوشش بھی کی تاہم میڈیا کے کچھ رپورٹرز نے مدد کی اور وہاں سے نکالا۔‘
’عوام نے ان 10 وکیلوں کو پکڑ لیا تھا جنہوں نے لوگوں کی گاڑیاں توڑیں تاہم حکومتی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے خود جا کر ان کو لوگوں سے بچایا۔
فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے میں ملوث جتنے بھی ملزم اور مجرم ہیں سب کے خلاف کارروائی ہو گی۔
وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ہم وکلا اور ڈاکٹرز کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

مشتعل وکلا نے پی آئی سی ہسپتال پر دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کی (فوٹو: اردو نیوز)

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی تھی۔
خیال رہے کہ لاہور میں وکیلوں اور پی آئی سی کے درمیان جھگڑا نومبر کے آخری ہفتے سے جاری ہے جب علاج کروانے کے لیے آنے والے تین وکیلوں کا ڈاکٹروں سے جھگڑا ہو گیا۔ جس کے بعد لاہور کے وکیلوں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
یہ ہڑتال اس وقت ختم کی گئی جب چار ڈاکٹروں پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تاہم ابھی تک ان چار ڈاکٹروں کی گرفتاری نہ ہونے پر وکلا نے ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔
سرکاری ہسپتال کے عملے کے مطابق عمارت کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ کئی گاڑیاں بھی توڑ دیں گئیں اور عملے کو زدوکوب کیا گیا۔ 
پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو بھی وکلا نے زدو کوب کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں  دیکھا جا سکتا ہے کہ صوبائی وزیرفیاض الحسن چوہان کو وکلا نے گھیر رکھا ہے اور وہ ان کے نرغے سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس دوران ان کے بال بھی کھینچے جاتے ہیں۔ 
فیاض الحسن چوہان کے ایک بیان کے مطابق’ وہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہسپتال پہنچے تھے کہ وکلا نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔‘
سیکرٹری جنرل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) ڈاکٹر سلمان نے لاہور میں اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی آئی سی پر وکلا کے حملے میں ہسپتال میں داخل 10 مریض ہلاک ہو گئے۔ تاہم وائی ڈی اے کے عہدیدار کے دعوے کی سرکاری ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔   
پی آئی سی کے ایک ڈاکٹر امیر عباس نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ’اچانک سینکڑوں وکلا نے ہسپتال پر حملہ کر دیا اور ایمرجنسی کا دروازہ توڑ دیا جبکہ ہسپتال میں اس وقت ہزاروں مریض زیر علاج ہیں عملے نے مریضوں کو چھوڑتے ہوئے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ وکلا آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر میں بھی پہنچ گئے اور عملے کو زدوکوب کیا جس وجہ سے آپریشنز معطل ہو گئے ہیں۔‘  
وائے ڈی اے کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں جاری وکلا گردی کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ ابھی اسی وقت آؤٹ ڈورز ان ڈورز اور ایمرجنسی میں مکمل ہڑتال کا اعلان  کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کل سارے پنجاب میں کوئی بھی کنسلٹنٹ ڈیوٹی نہیں کرے گا۔ وکلا گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ وکلا کے علاج معالجے کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کسی کو ہسپتال میں جاری علاج معالجے یا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے (فوٹو: اردو نیوز)

دریں اثنا پنجاب بار کونسل نے ایک بیان میں پولیس اور ینگ ڈاکٹرز پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے وکلا پر تشدد کیے۔
پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہونے والے واقعے جس میں ’پیرا میڈیکل سٹاف اور ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے نہتے وکلا پر تشدد کیا گیا کی مذمت کی گئی۔ اس واقعے کے تناظر میں وکلا کی جانب سے قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف سیکریٹریٹ اور آئی جی آفس کے سامنے پر امن مظاہر ے کیے گئے۔ گذشتہ رات ایک ڈاکٹر عرفان کی جانب ایک جلسے سے اشتعال انگیز خطاب جس میں وکلا برادری کی تضحیک کی گئی اور ان کا تمسخر اڑا گیا۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اور اس میں وکلا کے احتجاج اور مذاکرات کا بھونڈا مذاق اڑایا گیا۔ اس ویڈیو نے نوجوان وکلا کو مشتعل کیا اور آج جب وہ پی آئی سی کے سامنے پرامن احتجاج کے لیے جمع ہو رہے تھے تو پولیس اور ینگ ڈاکٹرز نے ان پر حملہ کر دیا اور ان پر شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کی وجہ سے درجنوں وکلا شدید زخمی ہوگئے۔‘
 
This is a test for @UsmanAKBuzdar. If he can put these idiots behind bars, he will prove that he means business.#Lahore #lawyers
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ہسپتال میں جاری علاج معالجے یا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ’ہم تشدد کا نشانہ بننے والے تمام ڈاکٹرز کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔‘
سوشل میڈیا پر بھی لاہور کے واقعے پر صارفین بحث کر رہے ہیں۔
وقار ملک نامی صارف نے مطالبہ کیا کہ آج پی آئی سی پر ہجوم کے حملے میں حصہ لینے والے تمام وکلا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ  کیا  کہ وکلا کے حملے کی وجہ سے چھ مریض ہلاک ہو گئے۔
اویس منگل والا نامی صارف نے لکھا کہ ’ یہ عثمان بزدار کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر انہوں نے اس حملے میں ملوث افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سنجیدہ ہے۔‘
فیصل نامی صارف نے لکھا کہ ’ یہ دہشت گردی ہے اس واقعے میں ملوث تمام وکلا کو گرفتار کرکے پھانسی دی جائے۔ بہت ہو گیا۔‘

 

شیئر: