گوادر میں ’بیچ کنٹینر‘ لائبریری

امریکی تنظیم ’روٹری کلب‘ اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے گوادر کے ساحل پر لائبریری قائم کی گئی ہے۔
بلوچستان کے شہر گوادر میں ساحل سمندر پر ملک کی پہلی’بیچ لائبریری‘ قائم کی گئی ہے۔
ایک کنٹینر میں قائم اس لائبریری میں بیٹھ کر شہری نہ صرف ذوق مطالعہ کی تسکین کر سکیں گے بلکہ ساحل کے خوبصورت نظاروں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔ 
لائبریری گوادر کی یونیورسٹی اور کالجوں کے طالب علموں پر مشتمل رضا کار تنظیم ’روٹریکٹ کلب آف گوادر‘ اور ’بامسار‘ نے ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے قائم کی ہے۔
یونیورسٹی آف تربت گوادر کیمپس کے طالبعلم اور روٹریکٹ کلب آف گوادر کے صدر بلال ولی محمد نے ٹیلیفون پر اردو نیوزکو بتایا کہ ملک کی پہلی بیچ لائبریری گوادر کے علاقے پدی زیر(ویسٹ بے) پارک کے سامنے ساحل سمندر پر ایک 40 فٹ لمبے اور 10 فٹ چھوڑے کنٹینر میں قائم کی گئی ہے، جس میں بیک وقت دس افراد بیٹھ کر مطالعہ کرسکتے ہیں۔
’یہاں آنے والے افراد مطالعہ کرتے ہوئے کنٹینر کی کھڑکیوں سے ساحل سمندر کا خوبصورت نظارہ بھی کر سکیں گے۔‘ 

اس کنٹینر لائبریری میں بیک وقت 10 افراد بیٹھ کر مطالعہ کرسکتے ہیں۔

بلال ولی محمد کے مطابق کنٹینر کی پارکنگ کے لیے ساحل سمندر پر زمین اور فرنیچر وغیرہ ضلعی انتظامیہ نے فراہم کیا ہے جبکہ کنٹینر کی تزئین و آرائش تنطیم کے رضا کاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کی۔ 
انہوں نے بتایا کہ امریکی تنظیم روٹری انٹرنیشنل کی طرف سے ملنے والی کتابوں کے علاوہ مزید کتابوں کے حصول کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مہم چلائی گئی تھی، جس کے بعد بلوچی اکیڈمی سمیت دیگر اداروں اور لوگوں نے مزید کتابیں عطیہ کیں۔
اس وقت انگریزی، اردو اور بلوچی زبان میں مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لائبریری کا حصہ ہیں۔ 
روٹریکٹ کلب آف گوادر کے نائب صدر اور رضا کار تنظیم بامسار کے سربراہ نصیر محمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے انہیں عالمی فلاحی تنظیم روٹری انٹرنیشنل کی جانب سے امریکہ اور یورپ سے عطیہ کی گئیں کتابوں سے بھرا ایک کنٹینر بھیجا گیا تھا۔
’ہم نے یہ کتابیں گوادر کے کالجوں، سکولوں اورلائبریریوں میں تقسیم کیں۔‘
’کتابیں تقسیم کرنے کے بعد جب کنٹینر خالی ہو گیا تو ہم سوچنے لگے کہ اس کا کیا کریں۔‘

 انگریزی، اردو اور بلوچی زبان میں مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لائبریری کا حصہ ہیں۔ 

’پاکستان میں کنٹینر کا حالیہ دنوں میں سیاسی استعمال بھی ہوا، انہیں احتجاجی دھرنوں یا پھر سڑکیں بند کرنے کے لیے بروئے کار لایا گیا تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس کنٹینر کا مثبت استعمال کیا جائے۔
نصیر محمد کے مطابق گوادر میں بڑی تعداد میں لوگ صبح و شام ساحل سمندر پر تفریح کے لیے آتے ہیں۔ ان میں ادیب، شعراء اورطالب علم بھی ہوتے ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ ساحل کے قریب واقع پارک میں بیٹھ کر مطالعہ اور مجالس کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ 
تب ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ساحل سمندر پر اس کنٹینر کی مدد سے لائبریری قائم کی جائے۔ اس طرح ہم نے ضلعی انتظامیہ سے زمین کے لیے بات کی تو انہوں نے ہماری بھر پور مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کنٹینر کے قریب شیڈز بھی بنائیں گے تاکہ اگر کنٹینر کے اندر جگہ کم پڑجائے تو لوگ باہر بھی بیٹھ کر مطالعہ کر سکیں۔

لائبریری میں زیادہ تر کتابیں امریکی روٹری انٹرنیشنل کلب کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں۔  

نصیر محمد کے بقول پاکستان میں مطالعہ کا رجحان بھی ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔
’گوادر میں بھی چند ہی لائبریریاں ہیں اور ایسے عام مقامات پر کوئی لائبریری نہیں۔‘
’پاکستان کی پہلی بیچ کنٹینر لائبریری گوادر میں قائم ہونے سے نہ صرف باقی ممالک اور دنیا کے سامنے گوادر اور بلوچستان کا ایک مثبت تصور سامنے آئے گا بلکہ مطالعہ کا رجحان بھی پیدا ہو گا۔‘ 
انہوں نے کہا کہ جو لوگ لائبریری نہیں جاتے تو ہم نے لائبریری ہی ان کے پاس پہنچا دی ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم یہاں پر ہر ہفتے مختلف ادبی اور تخلیقی مجالس کا اہتمام کریں۔ 

شیئر: