سب انسپکٹر بہار علی نے فرنٹ لائن پر رہ کر ڈاکوؤں پر فائرنگ کی۔ اس مقابلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے۔
انہوں نے جان پر کھیل کر ڈاکوؤں کی واردات کو ناکام بنا دیا تاہم ڈاکوؤں کی فائرنگ سے بہار علی کو گولیاں لگ گئیں جبکہ دیگر دو پولیس اہلکار بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیے گئے۔
سب انسپکٹر بہار علی کی حکمت عملی اور بروقت کارروائی کے باعث ڈیڑھ کروڑ کی ڈکیتی ناکام ہو گئی اور ڈاکو بغیر پیسے لوٹے فرار ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ایس آئی بہار علی کو پانچ گولیاں لگی تھیں جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور پانچ دن تک آئی سی یو میں موت و حیات کی جنگ لڑ رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ’بہار علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بدھ کی شب 11 مارچ کو زندگی کی بازی ہار کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔‘
سب انسپکٹر بہار علی کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز میں ادا کی گئی جہاں پولیس سربراہ سمیت دیگر حکام نے بہار علی کی بہادری کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایس آئی بہار علی کی تدفین پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ چارسدہ کے آبائی قبرستان میں کی گئی۔
’شہید کے کوٹے پر بھرتی ہوئے تھے‘
پولیس سب انسپکٹر بہار علی کا تعلق ضلع چارسدہ سے تھا۔ ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے میں زندگی ہارنے والے سب انسپکٹر کے بڑے بھائی بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کی قربانی دے چکے ہیں۔
پشاور کے کرائم رپورٹر شہزادہ فہد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایس آئی بہار علی سنہ 2010 میں اپنے شہید بھائی کی جگہ بھرتی ہوئے تھے۔ ان کے بھائی سال 2003 میں ملزم کی گرفتاری کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن گئے تھے۔
سب انسپکٹر کے بڑے بھائی بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کی قربانی دے چکے ہیں (فائل فوٹو: پشاور پولیس)
سب انسپکٹر بہار علی اپنی سروس کے دوران پشاور کے مختلف تھانوں میں ڈیوٹی پر تعینات رہے ہیں۔
شہزادہ فہد کے مطابق ایس آئی بہار علی نے سینے پر پانچ گولیاں کھانے کے باوجود ڈاکوؤں سے مقابلہ جاری رکھا۔ بہار علی کی وجہ سے نہ صرف کروڑوں کی ڈکیتی ناکام ہوئی بلکہ ان کی بہادری کی وجہ سے دیگر پولیس اہلکاروں کی جانیں بھی بچ گئیں۔
’بہار علی مچنی گیٹ تھانے کا ایڈیشنل ایس ایچ او تعینات تھے، اسی لیے انہوں نے اپنی ٹیم کو لیڈ کرتے ہوئے سب سے پہلے ڈاکوؤں پر فائرنگ کی۔‘
شہزادہ فہد نے بتایا کہ ’سب انسپکٹر بہار علی نے جان کا نذرانہ دے کر نہ صرف پولیس فورس بلکہ پورے شہر کا سر فخر سے بلند کیا ہے مگر ان کے لواحقین سب انسپکٹر کے علاج معالجے کی سہولت سے مطمئن نہیں تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آئی سی یو میں زخمی ایس آئی بہار علی کو خون کی ضرورت تھی مگر سرکار کی طرف سے ان کی کوئی مدد نہ کی گئی۔
ڈکیت گروپ تاحال مفرور ہے
اس واقعے میں پولیس آفیسر جان کی بازی ہار گیا تاہم بینک لوٹنے والے ڈکیت ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے۔ سٹی کیپیٹل پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈکیت گروہ کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، وہ بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔‘