Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 افراد کو سزائے موت کا حکم

صحافی جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں قتل کیا گیا تھا (فوٹو اے ایف پی)
سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہونے پر پانچ ملزمان کو سزائے موت اور تین ملزمان کو جرم پر پردہ ڈالنے کا الزام ثابت ہو جانے پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ تین افراد کو الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا گیا۔
سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات مکمل کرکے ملوث افراد پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس کیس میں 31 افراد شامل تھے، جن میں سے 21 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دس کو تفتیش کے لیے بلایا گیا تھا۔ 
پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس مقدمے میں 11 افراد پر فرد جرم عائد کر کے فوجداری کا مقدمہ چلایا گیا۔
 

دارالحکومت ریاض میں قائم فوجداری مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت نے پانچ ملزمان کو موت کی سزا سنائی، یہ پانچوں افراد جمال خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث پائے گئے تھے۔
عدالت نے دیگر تین ملزمان کو مجموعی طور پر 24 برس قید کی سزا دینے کا فیصلہ سنایا۔ ان تینوں کے خلاف واردات پر پردہ ڈالنے کا الزام ثابت ہوا۔
سزا پانے والے تمام مجرمان ایپلٹ کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ 
پبلک پراسیکیوٹر نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات بتانے کے لیے پریس کانفرنس منعقد کی جس میں خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے نتائج پیش کیے گئے۔
11 ملزمان کے خلاف دیے گئے فیصلے میں پانچ ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔

جنوری 2018 میں 11 افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تھا

پبلک پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں ملوث تمام افراد پر مقدمہ چلایا گیا اورعدالتی کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا گیا۔ پبلک پراسیکوٹر کے مطابق مقدمے کی سماعت میں خاشقجی کے اہل خانہ اور ترکی کے نمائندے بھی موجود رہے۔
پبلک پراسیکوٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی قونصلر محمد العتیبی جمال خاشقجی کے قتل کے وقت جائے وقوع پر نہیں تھے، انہوں نے اس وقت کسی اور جگہ اپنی موجودگی کے ثبوت بھی پیش کر دیے ہیں۔
پبلک پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے یہ بات پوری طرح سے ثابت ہو گئی کہ خاشقجی کا قتل منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا۔
پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق خاشقجی کے قتل میں ممکنہ طور پر ملوث تمام مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔  برطرف مشیر ایوان شاہی سعود القحطانی سے بھی خاشقجی کے قتل کیس میں پوچھ گچھ کی گئی تاہم  ان پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی جبکہ احمد عسیری کو پوچھ گچھ کے بعد کوئی الزام ثابت نہ ہونے پر رہا کر دیا گیا۔
 
خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں جمال خاشقجی قتل کیس میں ملوث 11افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔ اس وقت پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پہلی پیشی پر سرکاری استغاثہ نے پانچ ملزمان کو قتل میں ملوث ہونے پر عدالت سے شرعی سزا سنانے کی استدعا کی تھی۔
  • واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: