جدہ: طالبات کو منشیات دینے والی ملازمہ گرفتار 

ملزمہ خفیہ طریقے سے طالبات میں نشہ آور گولیاں فروخت کر تی تھی۔ فوٹو: سوشل میڈیا
جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں ایک ملازمہ کو نشہ آور گولیاں فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے طالبات میں منشیات پھیلانے کی معمولی سے معمولی کوشش کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ طالبات ہمارا مستقبل ہیں انکی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
مقامی روزنامہ 'مکہ' کی جانب سے ابتدائی خبر کے بعد نجی ٹی وی کے پروگرام ’یا ھلا‘ میں معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے شعبہ طالبات کی ذمہ دار سے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی یونیورسٹی کی سیکریٹری ھنا جمجوم کا کہنا تھا کہ ’ملزمہ کے بارے میں جیسے ہی معلوم ہوا ہم نے فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ انسداد منشیات سے رابطہ کیا جنہوں نے ملزمہ کے سامان کی تلاشی لینے کے بعد وہاں سے ملنے والی نشہ آور گولیاں برآمد کر کے اسے گرفتار کر لیا۔‘

طالبات میں منشیات پھلانے والی ملازمہ سے تحقیقات جاری ہیں۔ فوٹو: سبق نیوز 

پروگرام میں ایک سوال پر ھنا جمجوم کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ برآمد ہونے والی گولیاں کس نوعیت کی تھیں تاہم یونیورسٹی کے باخبر ذرائع نے ملزمہ کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نامعلوم چیزیں انتہائی خفیہ طریقے سے طالبات میں فروخت کرتی ہے۔ اس اطلاع پر ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر کارروائی کی گئی۔ ہم قطعی طور پر یہ نہیں چاہیں گے کہ کسی بھی قسم کی نشہ آور اشیاء طالبات تک پہنچیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ کنٹریکٹنگ کمپنی کے ذمہ دار کو بھی واقعے کی اطلاع کر دی گئی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزمہ کا اپنی ایک ہم وطن واقف کار سے جو کہ مقامی ہسپتال میں کام کرتی ہے کے ساتھ مسلسل رابطہ تھا ممکن ہے کہ وہ نشہ آور گولیاں اس سے حاصل کرتی ہو تاہم متعلقہ ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔‘
ٹی وی پروگرام میں ھنا جمجوم نے بتایا کہ ملزمہ کی تلاشی لینے پر اس کے قبضہ سے دو گولیاں برآمد ہوئیں تاہم گولیاں کس نوعیت کی تھیں یہ محکمہ انسداد منشیات کی رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔‘

شیئر: