ٹک ٹاک کے نئے حربوں میں اب وکس بھی

ٹک ٹاک کی ایک الگ دنیا ہے جس نے لوگوں کو اپنا عادی بنا لیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
کہاں پہلے ہیروئن کے اڑتے ہو ئے بال دیکھ کر میں حیران ہو جاتی تھی اور یہ سوچتی تھی کہ فلموں اور ڈراموں میں کتنی محنت سےاس نوعیت کے سینز کو فلمایا جاتا ہو گا دائیں بائیں بڑے بڑے پنکھے رکھ کر پیچھے میوزک دے کر اور پھر ایڈیٹنگ کے بعد یہ سینز پڑے پردے پر ہم جیسے لوگوں کو نظر آتے ہیں۔
مگر مجھے اپنی سوچ پر اس وقت بہت ہنسی آئی جب میں نے اپنے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بچوں کو صرف ایک ایپ کے ذریعے یہ سب کرتے دیکھا۔
تھوڑی دیر کے لیے جیسے اندر سے آواز آئی ہو کہ جی! آپ ابھی تک کہاں تھے؟

 

ٹک ٹاک کی ایک الگ دنیا ہے۔ اگر آپ اس موبائل اپلیکیشن کے یوزر نہیں تو شاید آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس ’نئی دنیا‘ نے کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا عادی بنا لیا ہے۔
ٹک ٹاک کا اپنا الگ ہی نشہ ہے یا اگر نوجوان نسل کی زبان میں سمجھنا چاہیں تو ٹک ٹاک کا اپنا سیوگ (Swag)ہے۔ محبوب کی یاد میں رونا ہو یا سلو موشن میں گھومنا بس فلٹر لگایا اور بن گئے آپ بھی ہیرو
اس اپلیکیشن کے اپنے آئیڈیل اور ہیروز ہیں دس بارہ لڑکے لڑکیاں مل کر گروپ میں بھی اس پر ویڈیوز بناتے ہیں یہ ایپ صرف نوجوانوں کی پسندیدہ نہیں بلکہ  ٹک ٹاک ہر عمر کا فرد استعمال کرتا ہے۔

لڑکیاں اس ایپ پر اگر کسی آدمی کی آواز پر ویڈیو بناتی ہیں تو اپنے کپڑوں سے لے کر داڑھی مونچھوں تک پر بھر پور محنت کرتی ہیں۔اور اسی طرح لڑکے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ خواتین کے ڈائلاگز پر ایکٹنگ کرتے ہوئے اس کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔ ساڑھی باندھتے ہیں،میک اپ کرتے ہیں۔
آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نوجوان نسل کی تفریحی پسند اب فیس بک یا یو ٹیوب نہیں بلکہ ٹک ٹاک ہے ۔
حال ہی میں ٹک ٹاک صارف عبداللہ عثمان نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو  بنائی جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں رونے والی ویڈیوز کے لیے وکس کا استعمال کرتا ہوں لیکن شاید گذشتہ ویڈیو میں زیادہ لگ گئی اور انکھوں میں جلن زیادہ ہے اسی بات پر لائیک اور شئیر تو بنتا ہے۔

ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے ہونے والی تنقید  کی وجہ سے بعد میں انہوں نے  یہ ویڈیو ہٹا دی۔
دوسری جانب ان کی ویڈیو ز بھی بے حد شئیر کی جار ہی ہیں جس میں وہ افسردہ گانوں پر اپنی روتی آنکھوں کے ساتھ ویڈیوز بنارہے ہیں۔
محض رونے کے لیے انکھو ں میں وکس کا استعمال  کرنا ایک خطرناک عمل ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر زویہ کا کہنا تھا کہ ویکس کا انکھوں میں استعمال آنکھ کے کور نیا کو برے طرح متاثر کر سکتا ہے اور آنکھ مستقل طور پر عمر بھر کے لیے لال ہونے کا بھی اندیشہ ہے جس کی وجہ سے قوت بینائی پر بھی منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر زویہ کا مزید کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر فالورز بڑھانے اور لائیکس و شئیرز لینے کے لیے  نوجوان کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں
 

شیئر: