ٹک ٹاک سٹار کو اجازت کس نے دی؟

دفتر خارجہ کے میٹنگ روم میں ویڈیو بنا کر نیا تنازع پیدا کرنے والی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے دفتر خارجہ میں ویڈیو بنا کر کوئی منفرد کام نہیں کیا۔
اردو نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا ہے کہ ’میں تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملنے گئی تھی جو میرے لیے والد کی طرح ہیں۔ وہاں جانے کے لیے باقاعدہ اجازت لی، تمام ضروری کارروائی مکمل کی لیکن ان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔‘
حریم شاہ نے کہا کہ ’انہیں وزارت خارجہ میں داخل ہونے کی اجازت کس نے لے کر دی اس کا نام نہیں لوں گی۔ ایک خالی کمرے میں ویڈیو بنا کر کچھ غلط نہیں کیا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’سیاسی شخصیات تک ان کی پہنچ محض اس وجہ سے ہے کہ وہ ان سے ملنے کا شوق رکھتی ہیں۔ ارادہ کرتی ہوں تو ان کی ملاقات ہو جاتی ہے۔‘

حریم شاہ اور ان کی دوست صندل خٹک نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز سے شہرت حاصل کی، فوٹو سوشل میڈیا

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان سے ملاقات کی تصویریں ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے کی ہیں۔ حریم شاہ نے کہا کہ انھیں میڈیا میں خود پر ہونے والی تنقید کی پرواہ نہیں تاہم بنا کچھ سوچے سمجھے کسی کو کسی کے ساتھ جوڑ دینا مناسب نہیں۔‘
یاد رہے کہ حریم شاہ اُس وقت میڈیا کی خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے اپنی دوست صندل خٹک کے ساتھ سینیئر صحافی مبشر لقمان کے جہاز میں ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مبشر لقمان نے ان دونوں ماڈلز پر جہاز سے قیمتی سامان چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔
دونوں ٹاک ٹاک سٹارز کی ویڈیو اور تصاویر پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ بھی سامنے آئی تھیں۔
حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو میں انہیں وزارت خارجہ کے دفتر کے کانفرنس ہال میں گھومتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حریم شاہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کرسی پر بھی براجمان ہوگئیں۔
ٹک ٹاک سٹار کی اس ویڈیو نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا اور ٹوئٹر پر حریم شاہ کے ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ بھی چل پڑا۔

ٹک ٹاک گرل حریم شاہ اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر چکی ہیں

سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ غیر متعلقہ خاتون کو ایسی حساس جگہ تک پہنچنے کی اجازت کس نے دی؟
عدنان راجپوت نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ نا صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ ہمارے وزیراعظم کی تضحیک بھی ہے۔ یہ آپ کی سکول کی کرسی یا کوئی تفریحی پارک نہیں جہاں آپ بیٹھ کر ٹک ٹاک ویڈیو بنائیں۔‘

ایک اور صارف اختر حیات نے لکھا کہ ’سوال یہ ہے کہ حریم شاہ پر مبشر لقمان نے چوری کا الزام لگایا تھا، اسے آفس میں گھسنے اور کرسی پر بیٹھنے کی اجازت کس نے دی؟‘

 کامران خان نامی صارف نے لکھا کہ ’اگر وجاہت سعید وزیراعظم ہاؤس کے باتھ ٹب میں لیٹ سکتے ہیں تو حریم شاہ وزیرخارجہ کی سیٹ پر کیوں نہیں بیٹھ سکتیں‘۔

اس ویڈیو پر تحریک انصاف کے حامی صارفین بھی کافی دلبرداشتہ دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی ٹوئٹر صارف فرحان ورک نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں مردوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے۔ تمغے مہوش حیات کو، کرسیاں حریم شاہ کو۔ کیا ہمارا قصور مرد ہونا ہے؟‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزارت خارجہ نے حریم شاہ کو اہم کمیٹی روم تک رسائی دینے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: