گول روٹی بنانے میں ماہر ڈاکٹر بہو

سب لڑکیاں ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی تھیں اور لڑکے خود کو انجینئر سمجھتے تھے
ہم کیا ہماری نسل کی سب ہی لڑکیاں پڑھائی میں لڑکوں سے آگے رہی ہیں۔ یوں تو ہمارا بچپن کچھ ایسا قدیم زمانے کا نہیں، لیکن پھر بھی یہ بات تو ایک اٹل حقیقت تھی کہ سکول کی سب لڑکیاں ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی تھیں اور لڑکے دل ہی دل میں خود کو انجینئر سمجھتے تھے۔
خیر ہمیشہ سے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کا میرٹ اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ چند ہی خوش نصیب اس دوڑ کے گھوڑے قرار دیے جاتے تھے۔ گنتی کی کچھ لڑکیاں ڈاکٹر بن جاتیں اور لڑکے انجینئر۔ 
ان سب ہی کو معاشرے میں انتہائی عزت اور تکریم کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور آخر یہ عزت ان کا مقدر کیوں نہ ٹھہرتی۔ خاص کر کے ڈاکٹروں کی تعلیم اس قدر کٹھن اور عرق ریزی والی تھی کہ ان کو دیکھتے ہی ہر کسی کا سر خود ہی ان کے لیے جھک جاتا۔
یہی نہیں بلکہ اپنے چاند سے بیٹوں کا رشتہ تلاش کرنے والی ماؤں کی بھی یہی کوشش رہتی کہ گھر میں ڈاکٹر بہو ہی لائی جائے۔ ان ہی ڈاکٹر لڑکیوں کے والدین بھی رشتہ مارکیٹ میں اپنی بیٹیوں کی ڈیمانڈ سے بخوبی واقف ہوا کرتے تھے۔ اکثر اوقات تو یہ خیال ان کے بچپن میں ہی آ جاتا تھا کہ لڑکی کا ڈاکٹر بننا ہی اس کے ’روشن‘ مستقبل کی ضمانت ہے۔ 

 

بس صاحب، شادی ہوتے ہی بہت سی ڈاکٹر بہوئیں خاندان بڑھانے اور فریزر میں شامی کباب بنا کر رکھنے تک ہی محدود رہ جاتیں۔ ان کی ڈاکٹری بس یہیں تک رہ جاتی کہ اگر پھپوپھی ساس کے بائیں بازو میں درد ہو تو ان کا بلڈ پریشر چیک کر لیا جائے یا پھر اگر نند کے لڑکے کو عینک لگ گئی ہو تو اسے دماغی طاقت کی دوائیاں فون پر ہی بتا دیں۔ ایک ڈاکٹر بنانے پر قوم کا لگا ڈھیروں پیسہ اوران کی اپنی محنت یوں اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے۔ 
واضح رہے کہ باوجود اس کے کہ ہم یہ بات کچھ آج سے 10 سال پہلے کی کر رہے ہیں آج بھی اس شرح میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ یہ مثال صرف ڈاکٹروں پر ہی نہیں بلکہ تمام پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں پر صادق آتی ہے۔
فدویہ نے ایک انجینئرنگ یونیورسٹی میں آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کی۔ جماعت میں ڈھیروں لڑکیاں تھیں۔ یقین کیجیے مجال ہے کہ ان میں سے چند ایک کے علاوہ کوئی بھی عمارتوں کے نقشے بنانے میں محو ہو۔ شومئی قسمت کہ ہمیں بھی کسی دوست نے اس وٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا جس میں سب ہم جماعت تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر ذکر بچوں کا ہی ہوتا ہے۔ کس کے کتنے بچے ہیں؟ کیوں ہیں؟ اور کہاں ہیں؟ 
ہم معیشت کی زبوں حالی کا بہت رونا روتے ہیں۔ صبح شام موجودہ اور گذشتہ حکومتوں کو کوستے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا ان ہی کا ہے۔ ہر طرف مہنگائی ہے۔ لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ ہر طرف عجب طوفان اور طغیانی کا عالم ہے۔ کسی کو کسی کروٹ چین نہیں۔

 ایک سروے کے مطابق معاشی دھارے میں عورتوں کی شمولیت محض 23.9 فیصد ہے، فوٹو: اے ایف پی

بیمار معیشت کے اونٹ کو کس طرح نکیل ڈلی جائے اس پر حکومتی ایوانوں سے لے کر چائے خانوں میں صبح شام بحث ہوتی ہے لیکن شاید کوئی اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ ہماری آدھی سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔
 2018 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق معاشی دھارے میں عورتوں کی شمولیت محض 23.9 فیصد ہے۔ جینڈر گیپ رپورٹ 2017 کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کو کام کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ 
تو صاحب، جب آدھی سے زیادہ آبادی معاشرتی دھارے کا حصہ ہی نہیں تو یہ توقع عبث ہے کہ معیشت میں کسی قسم کی بہتری ہو پائے گی۔ معاشرتی رسم و رواج جن کے نزدیک عورت کی زندگی کا واحد مقصد گھر داری کرنا اور بچے پیدا کرنا ہے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ عورتیں معاشی خودمختاری کی جانب بڑھیں۔
عورتیں مردوں کے مقابلے میں گھریلو کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال 10 گنا زیادہ کرتی ہیں یا شاید 10 گنا بھی کم ہی ہو۔ ایسی صورت میں ان کے پاس یہ گنجائش نہیں چھوڑی جاتی کہ وہ اپنی تعلیم اور ہنر کو بروئے کار لائیں اور نہ صرف اپنے گھرانے بلکہ قوم کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

جب لڑکیوں نے گھر ہی بیٹھنا ہے تو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ فوٹو: سوشل میڈیا

مزے کی بات یہ ہے کہ اسی معاشرے میں سے کچھ پھر لڑکیوں سے یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ یونیورسٹیوں میں لڑکوں کا حق مارتی ہیں۔ جب انہوں نے گھر ہی بیٹھنا ہے تو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟
دیکھیے، جب گھر بٹھانے والے آپ ہیں تو ان کے گھر بیٹھنے پر اعتراض ہے یا اپنی نالائقی پر کہ یونیورسٹی میں داخلے کے وقت اس معیار پر پورے نہ آ سکے؟
اگلی بار معیشت کی زبوں حالی پر حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیے گا کہ آپ کے گھر کتنی ڈاکٹر بہوئیں گول روٹی بنانے کا پل صراط عبور کرنے کی سعی میں اپنا آپ گنوا بیٹھی ہیں۔ 

شیئر: